105

جستجو_تحریری_مقابلہ جنگلی حیات

#جستجو_تحریری_مقابلہ
” مور ” (Peacock)
ازقلم : ہالیپوٹہ آفتاب
بچپن کی وہ شام بھی کیا شام تھی جب ہم دوستوں کے ساتھ مور پنکھ ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے ، بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔
بچپن کے بعد بھی دل میں مور کی اہمیت کم نا ہوئی ،
وقت کے ساتھ ساتھ جدت سے آشنا ہوئے ، بہت حسین پرندے بھی دیکھے لیکن ان پرندوں میں سے کوئی بھی مور کی جگہ نہیں لے سکا۔
یے حسین و جمیل پرندہ جب اپنے پنکھ پھیلا کر جب ناچ دکھاتا تھا تب دیکھنے والے کو اپنے سحر سے نکلنے کا موقعہ نہیں دیتا تھا۔ ”
اب بھی اس پرندے کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ، اپنے حسن ، آواز اور ناچ سے دیوانہ بنا دینے والا یے پرندہ آج بھی ہماری دلوں میں شان سے رہ رہا ہے۔
اس پرندے کو جناب “کارل لینئس ” صاحب نے 1758 میں (pavo cristatus) کے نام سے صنف بند کیا۔
مور اپنی بڑی سائز کی وجہ سے زیادہ بڑی اڑان نہیں بھر سکتا اور زیادہ تر پیدل ہی چلتا ہے ۔
بیج ، کیڑے اور اناج کے دانے مور کی غذا میں شامل ہیں ، مور چھوٹے سانپ بھی کھاتا ہے لیکن بڑوں سے فاصلہ رکھتا ہے۔
مور 2 یا 3 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچتا ہے اور مور اپنی نسل ساون کے مہینے میں بڑھاتا ہے ، بارش پر بھی انحصار کرتا ہے ۔مور کی عمر زیادہ سے 23 سال تک ہوتی ہے لیکن زیادہ تر مور 15 سال تک ہی جی پاتے ہیں۔
مور پاکستان ، انڈیا ، سریلنکا اور جنوبی ایشیاء کے کچھ علاقوں میں اکثریت سے رہتے ہیں اور دنیا کے کچھ اور علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
اس پرندے کو اپنے پنکھ ، گوشت اور بیجوں پر کیڑا مار دوائیوں کے استعمال کی وجہ سے جان سے جانے کا خطرہ بھی لاحق ہے ۔۔۔۔۔
مور کو ضلع تھر پارکر میں “رانی کھیت” نامی ایک بیماری سے بھی خطرہ ہے اور بہت مور مر بھی رہے ہیں۔
(جنگلی حیات ہمارا اثاثہ ہے اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے )

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں