55

تعمیر ۔ ایسٹر آئی لینڈ (4)

پتھر کی سل میں سے پہلے چہرہ، پھر سر، ناک اور کان تراشے جاتے تھے۔ پھر بازو اور ہاتھ اور پھر دھڑ۔ اس کے بعد اس کو جدا کر لیا جاتا تھا۔ آنکھیں بنانے کا کام آہو پر لے جانے کے بعد کیا جاتا تھا۔ 1979 میں ایک آہو کے نزدیک آنکھ کی پوری پتلی الگ سے بنائی گئی ملی۔ اس کے علاوہ کئی جگہوں سے آنکھ کے حصے۔ جب ان آنکھوں کو مجسمے میں فٹ کر دیا جاتا تھا تو انکی نگاہ کو دیکھنا ایک عجب تجربہ ہوتا ہو گا۔ شاید ان کی تنصیب مجسمے پر کیا جانے والا آخری کام تھا۔
جن راستوں پر انہیں لے جایا جاتا تھا، اس کے نشان باقی ہیں۔ نو میل کے فاصلے پر لے جائے جانا سب سے طویل سفر تھا۔ یہ انتہائی مشکل کام ہو گا جیسے اہرامِ مصر، ٹیوٹی ہواکان، انکا اور اولمک کے مراکز میں بھی ہمیں اس طرح کی مشقت کئے جانا ملتا ہے۔ اس کو لے جانے کا طریقہ غالباً وہی رہا جو ہمیں نیو گنی میں نظر آتا ہے۔ درخت کاٹ کر اس کا تنا کھوکھلا کر کے بنائے جانے والی کشتیوں کی سیڑھیاں، جس پر ان کو لے جایا جاتا ہو گا۔ جو این نے اس طریقے کا ٹیسٹ کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پچاس سے ستر لوگ اگر روزانہ پانچ گھنٹے کام کریں اور ہر بار کھینچنے پر پانچ گز حرکت دے سکیں تو بارہ ٹن وزنی مجسمے کو ایک ہفتے میں نو میل دور لے جایا جا سکتا ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ کھینچتے وقت ایک تال میل برقرار رہے۔ ویسے جیسے کشتی کے چپو چلانے والوں میں ہوتا ہے۔ اگر اسے بڑھایا جائے تو پارو جیسے مجسمے کو پانچ سو لوگوں کی ٹیم مل کر کھینچ سکتی ہے۔ ایک قبیلے کی آبادی اگر دو ہزار ہو تو یہ کام کیا جا سکتا ہے۔
ایک آہو پر ایک مجسمہ کیسے نصب ہوتا ہے؟ یہاں پر کرین سے کرنا مشکل تھا لیکن یہاں رہنے والوں نے آرکیولوجسٹس کو یہ کرین کے بغیر کر کے دکھا دیا۔ اس کے لئے ایک ہلکی ڈھلوان بنانا تھی، جو آہو کے سامنے ہو۔ مجسمے کے نچلے حصے کی طرف سے اس کو کھینچنا تھا۔ ایک بار یہ حصہ پلیٹ فارم تک پہنچ جائے تو اس کا سر تنے کے لیور کی مدد سے ایک سے دو انچ بلند کرنا تھا اور نیچے پتھر رکھ دینے تھے جس پر یہ آرام کرتا۔ اس کے بعد پھر مزید کچھ انچ اور یوں کرتے کرتے اس کے نیچے پتھر بلند ہوتے جاتا اور یہ سیدھا کھڑا ہونے لگتا۔ آخر میں پتھر نکال لئے جاتے اور ان کو آہو کو بڑھانے میں استعمال کر لیا جاتا۔
آخری حصہ، جس میں اس کو سیدھا کھڑا کرنا تھا، سب سے خطرناک تھا۔ اس میں خطرہ تھا کہ اپنے مومینٹم میں یہ دوسری طرف نہ جا گرے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لئے ڈیزائنر اس کو 90 درجے کے بجائے 87 درجے کے زاویے پر رکھتے تھے اور یوں، یہ معمولی سے آگے کی طرف جھکے ہوتے۔ لیکن حادثات ہوتے رہے۔ آہو ہانگا ٹی ٹانگا، جو سب سے اونچا مجمسہ ہوتا، نصب کرنے کے دوران گر کر ٹوٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب جزیرے کے لئے بہت مہنگا رہا ہو گا۔ ایک مہینے تک بیس مجسمہ ساز کام کرتے ہوں گے۔ ان کو خوراک کھلانا۔ پچاس سے پانچ سو افراد کا ٹرانسپورٹ کا عملہ اور اتنا ہی عملہ جو اس کی تنصیب کرے۔ اس سخت مشقت والے کام میں خوراک کی ضروریات بھی زیادہ ہوں گی۔ اس دوران آہو پر کھانے کی ضیافت ہوا کرتی ہو گی۔ شاید پورا قبیلہ مجسمے کی تنصیب مکمل کرنے پر اکٹھا ہوتا ہو۔ آہو بنانے کے لئے اس سے بیس گنا بھاری پتھر لانے پڑتے تھے۔ یہ سب انسانی جسم کی طاقت تھی۔ کوئی باربردار جانور نہیں تھا۔ اس پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کی تعمیر کے عروج کے تین سو سالوں میں جزیرے کی خوراک کا پچیس فیصد اس تعمیر پر استعمال ہوتا ہو۔ یہ وہ برس تھے جب اس جزیرے پر زراعت کا بھی عروج تھا اور اضافی خوراک دستیاب تھی۔
نہ صرف خوراک بلکہ اس کے لئے بہت سے موٹی اور لمبی رسیوں کی ضرورت تھی جو پولینیشیا میں ریشہ دار درختوں کی چھال سے بنائی جاتی تھی۔ ان رسیوں کی مدد سے پچاس سے پانچ سو کی ٹیم ان بھاری مجسموں کو کھینچتی تھی۔ بہت سے مضبوط درختوں کی ضرورت تھی جو لیور، سیڑھی اور کھینچنی والی سلیڈ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
جب یورپی یہاں پر پہنچے تو یہاں پر بہت کم درخت تھے اور دس فٹ سے بلند کوئی بھی نہ تھا۔ بحرالکاہل کے جزائر میں اتنا خالی جزیرہ کوئی اور نہیں تھا۔ رسیاں اور لکڑی کہاں سے آتی ہو گی؟
ایسٹر آئی لینڈ پر ہونے والا نباتاتی سروے بتاتا ہے کہ یہاں پر صرف 48 مقامی انواع ہیں۔ ان میں سب سے اونچے قد کا ٹورومیرو ہے جو اوسطاً سات فٹ بلند ہوتا ہے اور بمشکل درخت کہلایا جا سکتا ہے۔ باقی جھاڑیاں، گھاس وغیرہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسٹر آئی لینڈ آج ایسا ہے لیکن اس کی تاریخ کا کیسے معلوم کیا جائے کہ یہاں کیا ہوا کرتا تھا؟ اس کے سائنس میں کئی طریقے ہیں۔ ان کی مدد سے ایسٹر آئی لینڈ کی تاریخ ہمارے سامنے آتی گئی۔ کسی وقت میں ایسٹر آئی لینڈ ایک بالکل ہی مختلف جزیرہ تھا۔ ایک بلندوبالا درختوں کا ٹراپیکل جنگل ہوا کرتا تھا۔ یہ سب کچھ کہاں گیا؟ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ ایسٹر آئی لینڈ کی بڑی کہانی یہ مجسمے نہیں، یہ تبدیلی ہے۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں