13

تابکاری…ایلفا… بیٹا… گاما

🌀🌀🌀 تابکاری…ایلفا… بیٹا… گاما 🌀🌀🌀
تحریر سلمان رضا اصغر:::::::
عام طور پر کسی بھی مادے میں موجود توانائی کا لہروں یا ذرات کی شکل میں اخراج تابکاری radiation کہا جاتا ہے یا توانائی کا شعاعوں یا ذرات کی صورت خلا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقلی کا نام تابکاری Radiation ہے.سورج کی شعاعوں یا روشنی کا خلا سے گزرنا Radiation یا تابکاری کی سب سے عام قسم ہے, جس سے سائنس کے طلبا کماحقہ طور پر واقفیت رکھتے ہیں.اس قدرتی تابکاری کے عمل سے روشنی اور حرارت ہم تک پہنچتی ہے اور ہماری جلد کی رنگت کو بدل کر براؤن کر دیتی ہے.سورج سے سے نکلنے والی الٹراوائلٹ ریز یا بنفشی شعاعیں بہت زیادہ توانائی رکھتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ توانائی والی ریز یا شعاعیں مختلف ادویات سے اور کم مقدار میں خلا سے , ہوا اور زمین و پتھر سے نکلتی ہیں. بلند جگہوں کے مکین اور کام کرنے والے قدرتی طور پر نسبتاً کم بلند جگہ رہنے والوں کے زیادہ خلا سے آنے والی کاسمک ریز کی زد پر ہوتے ہیں ایسے ہی گرینائٹ کی چٹانیں یا معدنیاتی علاقے سے قدرتی تابکاری کا اخراج ہوتا رہتا ہے ,مجموعی طور پر اس قسم کی تابکاریوں کو ہم آئیونزنگ تابکاری ionising radiation کہا جاتا ہے.

آئیونزنگ الیکٹرومیگنیٹ ریڈیشن:
آئیونزنگ تابکاری کو ریڈیوایکٹیوٹی radioactivity کہا جاتا ہے اور یہ دراصل الیکٹرومیگنیٹ تابکاری ہے جس میں کسی مادے یا جسم سے نکلنے والی توانائی کی لہریں بہت طاقتور ہوتی ہیں اور یہ توانائی کسی بھی ایٹم میں موجود الیکٹرون یا مالیکیولز میں موجود جڑے رہنے کی توانائی یا طاقت پر حاوی ہو کر آئنز کو تشکیل دے سکتی ہے. اس قسم کی تابکاری میں توانائی کی لہروں کی ویوو لینتھ الٹراوائلٹ ریز کے مقابلے بہت کم ہوتی ہےاور جاندار اجسام کے لئے انتہائی نقصان کا باعث بنتی ہیں. اس قسم کی نقصان پہنچانے والی تابکار شعاعوں کی مثالوں میں مائیکروویو کا اون میں استعمال, ایکس ریز کا ایکس رے ٹیوب سے نکلنا اور گاما نامی ریز یا شعاعوں کا کسی ریڈیوایکٹیو مادے سے نکلنا شامل ہے.

ریڈیوایکٹیو یا تابکار مادے سے ایکس ریز اور گاما ریز کا اخراج ہوتا ہے اور زیادہ طاقت کے حامل ذرات بھی اس آئیونزنگ ریڈیشن کے باعث پیدا ہوتے یں جیسے وہ ذرات جن کی رفتار خاصی زیادہ ہوتی ہے. ان ذرات میں بہت زیادہ رفتار رکھنے والے الیکٹرون یا بیٹا پارٹیکل ہوتے ہیں ان کے ساتھ پروٹونز,نیوٹرونز اور ہیلیم کے نیکلیائی یا الفا پارٹیکل بھی ہوتے ہیں. آئیونزنگ ریڈیشن یا ریڈیوایکٹیوٹی آسانی سے جانداورں کے اندرونی اعضا کو نقصان پہنچاتی ہے.تابکار مادوں radioactive materials کے نیوکلیس غیر مستحکم ہوتے ہیں اور وہ توانائی کو خارج کر کے ایک مستحکم حالت میں آنے کی کوشش کرتے ہیں یہ تابکار مادے ایک وقت میں ان شعاعوں اور ذرات میں سے کسی ایک یا مختلف قسم کی شعاعیں اور ذرات ایک وقت میں خارج کر سکتے ہیں اس طرح انکے ایٹمی نمبر اور ایٹمی کمیت نمبرتبدیل ہو جاتا ہے جس سے وہ ایک اور ہی عنصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں. ان سے خارج ہونے والی یہ توانائی نظر نا آنے والے چارج شدہ ذرات یا شعاعوں کی شکل میں نکلتی ہے یہ سب شعاعیں ایک خاص کمیت نمبر، ایٹمی نمبر اور چارج کی حامل ہوتی ہیں ان کو تین اقسام کی شعاعوں اور ذرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے.

ایلفا ذرات ؛
ایلفا ذرات ایٹم کے نیوکلیس کی صورت دو پروٹون اور دو ہی نیوٹران پر مشتمل ہوتے ہیں اور دوہرا مثبت dual positive چارج رکھتے ہیں. ان ذرات کی رفتار گو کہ دوسری قسم کے تابکار ذرات یا موجوں سے کم ہوتی ہے مگر ان کا ماس زیادہ اور بھاری ہوتے ہیں. یہ بہت سرعت سے اپنی توانائی کھوتے ہیں. یہ ذرات زیادہ فاصلے تک سفر نہیں کر پاتے.ایلفا ذرات کی کسی جسم میں نفوذ پذیری یا سرایت کرنے کی طاقت کم ہوتی ہے اور یہ انسانی جلد کی پہلی پرت اور کاغذ کی شیٹ کو پار نہیں کر پاتے. مگر جسم کے اندر ہونے پر دوسری اقسام کی تابکاری سے زیادہ جاندار جسم کو تباہ کر دیتے ہیں.

بیٹا ذرات ؛
بیٹا ذرات کسی بھی قسم کے تابکار ایٹمز کے نیوکلیس یا مرکزوں سے خارج ہونے والے تیز رفتار الیکٹرون ہوتے ہیں. یہ الیکٹرون اور اسکے ضد ذرے پوزیٹرون کے ذرات پہ مشتمل ہوتے ہیں. بیٹا ذرات کا چارج مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ یہ ایلفا ذرات کے مقابلے ہلکے اور تیز رفتاری سے خارج ہوتے ہیں. یہ ذرات ایک سے دو سینٹی میٹر تک پانی یا انسانی جسم میں سرایت کر سکتے ہیں. ان ذرات کو ایلومینئیم کی چند ملی میٹرز شیٹ سے روکا جاسکتا.

گاما شعاعیں؛
گاماریز روشنی کی مانند خالص توانائی کی شعاعیں ہیں یہ ریز توانائی کو موجوں کی صورت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں. اس میں مادے کی کو کسی قسم کی حرکت کا سمنا نہیں کرنا پڑتا. یہ حرارت اور روشنی جیسے طریقے سے کام کرتی ہیں. ان پر کوئی چارج نہیں ہوتا. زیادہ توانائی کی حامل ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔
گاما ریز اور ایکس ریز میں کسی حد تک مماثلت پائی پائی جاتی ہے مگر ایکس ریز مصنوعی طریقے سے پیدا کی جاتی ہیں جبکہ گاما ریز ایٹم کے نیوکلیس یا مرکزے سے خارج ہوتی ہیں. گاما ریز کسی بھی جسم میں سرایت ہونے کی بے حد طاقت رکھتی ہیں اور انسانی جسم کے آرپار ہو جاتی ہیں. بہت زیادہ مقدار میں کنکریٹ, سیسہ یا پانی ہی ان کی پہنچ سے ہم کو بچا سکتا ہے.

زمین پر جانداروں نے ایک ایسے ہی ماحول میں اپنا ارتقا کیا ہے جس میں قدرتی طور پر آئیونزنگ تابکاری اچھی خاصی سطح پر رہی ہے, ماضی میں کئی سائنسدان اسے مصنوعی طور پر پیدا کرنے کی کوشش میں یا اس پر تحقیق کرنے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں. طب کے شعبہ میں ایکس ریز انسانی جسم میں چھپی کئی خرابیوں کا پتہ لگانے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں اور کچھ مریض اس آئیونزنگ تابکاری کے استعمال اپنے مرض سے چھٹکارا بھی پاتے ہیں. آئیونزنگ تابکاری یا radioactivity جو یوریانیم اور ایٹمی فضلے سے ہوتی ہے انسانی ماحول کا حصہ بن چکی ہے اور مختلف وقتوں پر بہت مہلک رہی ہے مگر کم سطح کی ہونے کے باعث اکثر جاندار اس کی لپیٹ میں آنے سے بچ جاتے ہیں.

نان آئیونزنگ الیکٹرومیگنیٹ ریڈیشن:
نان آئیونزنگ الیکٹرومیگنیٹ ریڈیشن non-ionizing EM radiation میں چونکہ الیکٹرو میگنٹک توانائی کی لہرورں کی فریکوئنسی کم ہوتی ہے جیسے ریڈیو کی لہریں یا انفراریڈ , آنکھوں نظر آنے والی روشنی اور الٹرا وائلٹ تو عام طور پر کسی حد تک ان کے نقصانات نہیں ہوتے مگر زیادہ توانائی کی حامل ریڈیو مائیکرو ویووز اور انفرا ریڈ ریز تباہ کن حرارت پیدا کر کے جانداروں کے عضلات کو نقصان پہنچاسکتی ہیں. اگر آنکھوں کو دکھائی دینے والی روشنی میں بہت زیادہ تیزی و شدت ہو تو اندھا پن پیدا کر سکتی ہے . کم وقت میں الٹراوائلٹ کی زیادتی اور شدت سے اندھا پن اور جلد کا جل جانا ممکن ہے اور لمبے عرصے تک اس کا استعمال کینسر اور بینائی پیدا کرتا ہے.

🐾 سلمان رضا

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں