87

ایک کہکشاں میں ایک سے زیادہ دیوہیکل بلیک ہولز(Supermassive Black Holes) کی موجودگی کا امکان: رضاالحسن

ہماری کہکشاں “ملکی وے” سمیت کئی بڑی کہکشاؤں کے درمیان میں ایک بڑا بلیک ہول (Supermassive Black Hole) موجود ہوتا ہے۔ لیکن جب دو کہکشائیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی ہیں تو ان دونوں کے درمیان موجود بلیک ہولز کا کیا مسقبل ہوتا ہے؟

عین ممکن ہے کہ ایسی صورت حال میں چھوٹی کہکشاں کا سپر میسو بلیک ہول نئی بننے والی بڑی کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک بڑے اور دوردراز مدار میں اپنا مستقبل ڈھونڈ لے۔

ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ ہماری “ملکی وے” کہکشاں کی کمیت جتنی دیگر کہکشاؤں میں متعدد ایسے بڑے بلیک ہولز (Supermassive Black Holes) موجود ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس نئی پیشین گوئی کے لئے ایک جدید کاسمولوجیکل سمولیشن سافٹ وئیر کا استعمال کیا جس کا نام “رومیولس Romulus” ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک بڑی کہکشاں میں ایسے بڑے بڑے بلیک ہولز کہکشاں کے مرکز اور ڈسک سے نہایت دور اس کے گرد محور گردش ہو سکتے ہیں۔ کہکشاں کے مرکز سے ایسے دوردراز حصے کو فلکیات کی زبان میں Stellar Halo کہتے ہیں۔ جہاں موجود مادہ کی چمک کہکشاں کے قریبی حصے کی نسبت نہایت کم ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کے بقول ان بڑے بلیک ہولز کا مرکز اور ڈسک سے فاصلہ اتنا زیادہ ہو سکتا ہے کہ یہ مزید مادہ کو اپنی بے انتہاء کشش ثقل کے باوجود بھی نہ کھینچ سکیں جس کی وجہ سے یہ کوئی تابکاری خارج نہ کر رہے ہوں۔ ایسی صورت میں یہ ہمارے جدید سائنسی آلات کی آنکھ سے مخفی ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مائیکل ٹریمل کا تعلق ییل سینٹر فار آسٹرونومی اینڈ آسٹروفزکس کے ساتھ ہے۔ آپ ان مخفی بلیک ہولز پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بلیک ہولز کی موجودگی کا براہ راست پتا چلنا ناممکن ہے لہذا ہم کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں جس سے بالواسطہ طور پر ان کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے۔

اپنی کہکشاں میں ایسے بھیانک دیو ہیکل بلیک ہولز کی موجودگی بلاشبہہ ایک خوف کی علامت ہے۔ تاہم سائنسدان کہتے ہیں ہمارا ایسے بڑے بلیک ہولز سے تصادم انتہائی غیر متوقع ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بلیک ہول کا آوارہ گھومتے ہوئے ہمارے نظام شمسی کے قریب آ جانا خلاف امکان ہے۔ ہمارے حساب کتاب کے مطابق ایسے بلیک ہولز کا ہمارے نظام شمسی کے خطرناک حد تک قریب آنا اگلے سو ارب سال تک ممکن نہیں۔

(یہ تحقیقات مشہور سائنسی جرنل “Astrophysical Journal Letters” میں شائع ہوئیں)۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں