104

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر 8

زندگی جسے ہم اب جانتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” سائنس کے اندر اہم چیز نئے حقائق کو جاننے سے زیادہ انکے بارے سوچنے کے نئے طریقے ڈھونڈنا ہے”
(سر ولیم بریگ)

ابھی تک ہم نے اپنی توجہ نتائج پر مرکوز رکھی ہے جو قابل مشاہدہ ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ایپی جینیٹکس ایوینٹس وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن ہر حیاتیاتی مظہر کی کوئی طبعی بنیاد ہوتی ہے اور اسی کے بارے میں ہم اب جانیں گے۔ ابھی تک جو ایپی جینیٹکس نتائج ہم نے دیکھے ہیں وہ سب جینز کے اظہار میں تغیرات کے باعث ہوتے ہیں۔ مثلاً آنکھ میں موجود ریٹینا کے خلیات مثانے کے خلیات سے مختلف جینز کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن مختلف اقسام کے خلیات الگ الگ جینز کو آن یا آف کیسے کرتے ہیں؟

ریٹینا اور مثانے کے اندر موجود مخصوص خلیات واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ کے بہت نیچے کسی راستے میں موجود ہیں۔ جان گورڈن اور شنیا یاماناکا کے کاموں نے ہمیں بتایا کہ جو بھی میکانزم ان خلیات کو ان راستوں میں ٹھہرائے رکھتا ہے اسکا ڈی این اے بلیو پرنٹ میں تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صحیح سلامت اور بغیر تبدیلی کے موجود رہتا ہے۔ لہذاٰ مخصوص جینز کو آن آف رکھنے کیلئے کوئی اور میکانزم استعمال کیا جاتا ہے جوکہ لمبے عرصے تک جینز کو اسی حالت میں رکھتا ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے خلیات مثلاً دماغ کے عصبی خلیات بہت لمبے عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پچاسی سالہ شخص کے نیورونز پچاسی سال کے ہونگے۔ یہ تب بنے تھے جب یہ شخص بہت کم عر تھا اور تب سے بغیر کسی تبدیلی کے موجود ہیں۔ لیکن دوسرے خلیات مختلف ہیں۔ جلد کے خلیات کی سب سے اوپر والی تہہ ایپی ڈرمس ہر پانچ ہفتوں کے بعد نیچے موجود لگاتار تقسیم ہونے والے نئے خلیات سے بدل دی جاتی ہے۔ یہ سٹیم سیلز ہر دفعہ جلد کے خلیات ہی بناتے ہیں اور کبھی بھی کسی اور قسم کے خلیات مثلاً مسلز کے خلیات نہیں بناتے۔ لہذاٰ جو میکانزم جینز کو آن یا آف رکھتا ہے وہ پرانے خلیات سے نئے خلیات میں منتقل ہوسکتا ہے جب بھی خلیات تقسیم ہوتے ہیں۔

اس سے ایک اور پہیلی سامنے آتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ڈی این اے ہی وہ مادہ ہے جسکے اندر ہماری جینیاتی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ اگر ڈی این اے ایک شخص کے مختلف قسم کے خلیات میں ویسا ہی رہتا ہے تو جین کے اظہار کا مخصوص پیٹرن کیسے خلیاتی تقسیم میں مختلف نسلوں میں منتقل ہوتا ہے؟ اسکی مثال ایسے ہے کہ ایک فلم کی شوٹنگ میں ایک اداکار کے پاس جو سکرپٹ موجود ہے اس پر ہدایت کار نے اپنے چھوٹے چھوٹے نوٹس لکھ دیئے ہیں جو ہر بار فوٹو کاپی ہونے کے بعد سکرپٹ پر موجود رہیں گے۔ لیکن ساتھی اداکار کے پاس جو سکرپٹ ہے اس پر یہ اضافی معلومات موجود نہیں ہیں اور اس سے جو کاپیاں ہونگی وہ ایسی ہی رہینگی۔ ٹھیک اسی طرح مختلف خلیات کے پاس ایک جیسا ہی ڈی این اے بلیو پرنٹ ہوتا ہے۔ لیکن ان سب پر مختلف مالیکولر ترامیم موجود ہوتی ہیں جو پرانے خلیات سے نئے خلیات میں منتقل ہوتی ہیں۔

ڈی این اے کے اوپر یہ ترامیم ہمارے جینیاتی سکرپٹ یا بلیو پرنٹ کے اندر موجود A,C,G یا T حروف کی بنیادی خاصیت کو تبدیل نہیں کرتی ہیں۔ جب ایک جین کو آن کیا جاتا ہے اور اس سے میسینجر آر این اے بنتا ہے تو اس میسنجر آر این اے میں وہی ترتیب موجود ہوتی ہے جسکو بیس پیئرنگ پرنسپل کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ اس سے قطع نظر کہ اس جین پر کوئی ترمیم موجود ہے یا نہیں۔ اسی طرح خلیاتی تقسیم میں جب ڈی این اے کاپی ہوتا ہے نئے کرومو سوم بنانے کیلئے تو یہی A, C, T اور G کہ ترتیب کاپی ہوتی ہے۔ ایپی جینیٹک ترامیم اس بات کو تبدیل نہیں کرتی کہ ایک جینز کس چیز کو کوڈ کرتی ہے تو انکا کام کیا ہے ؟ بنیادی طور پر یہ اس چیز کو ڈرامائی طور پر تبدیل کرسکتی ہیں کہ ایک جین کا کتنا اظہار ہوتا ہے یا پھر اسکا اظہار ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ ایپی جینیٹک ترامیم خلیاتی تقسیم کے دوران بھی منتقل ہوجاتی ہیں لہذا اس سے ہمیں میکانزم کا پتہ چلتا ہے جس کے تحت جین کے اظہار کا کنٹرول پرانے خلیات سے نئے خلیات کے اندر مستقل موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلد کے سٹیم سیلز ہمیشہ جلد کے خلیات ہی بناتے ہیں۔

ڈی این اے پر انگور چپکانا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی ڈی این اے ترمیم جسکی نشاندہی کی گئی ڈی این اے میتھائیلیشن تھی۔ میتھائی لیشن کا مطلب ڈی این اے کے اوپر میتھائل گروپ کا جڑنا ہے۔ میتھائل گروپ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اس میں ایک کاربن ایٹم تین ہائیڈروجن ایٹمز کیساتھ جڑا ہوتا ہے۔ کیمیادان ایٹموں اور مالیکولز کو انکے مالیکیولر وزن کے حساب سے بیان کرتے ہیں۔ ہر عنصر کے ایٹم کا مالیکولر وزن مختلف ہوتا ہے۔ ایک بیس کے جوڑے کا اوسط مالیکولر وزن 600 Da ہوتا ہے۔ Da ڈالٹن کو ظاہر کرتا ہے جو مالیکولر وزن کا یونٹ ہے۔ ایک میتھائل گروپ کا وزن پندرہ ڈالٹن ہوتا ہے ۔ ایک میتھائل گروپ جوڑنے سے بیس کے جوڑے کے وزن میں صرف ڈھائی فیصد اضافی ہوتا ہے۔ جسیے ایک ٹینس کی گیند پر ایک انگور رکھ دیا جائے۔

ایک خاص قسم کی میتھائلیشن جس میں سائٹوسیںن بیس کے اوپر میتھائل گروپ جوڑا جاتا ہے 5-میتھائل سائٹوسین بناتی ہے۔ یہ ری ایکشن ہمارے خلیات میں اور کئی دیگر جانداروں میں تین اینزائمز میں سے کوئی ایک کرتا ہے جنکو DNMT1, DNMT3A اور DNMT3B کہا جاتا ہے۔ یہاں پر DNMT سے مراد ڈی این اے میتھائل ٹرانسفریز ہے۔ یہ اینزائمز ایپی جینیٹک لکھاریوں کی مثالیں ہیں جوکہ ایپی جینیٹک کوڈ تخلیق کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہ اینزائمز ایسے سائٹوسین C بیس کے اوپر ہی میتھائل گروپ جوڑتے ہیں جسکے آگے ایک گوانین G بیس موجود ہو ۔ اور ایسے سائٹوسین بیس کو CpG کہا جاتا ہے۔ CpG میتھائیلیشن ایک ایپی جینیٹک ترمیم ہے جسکو ایہہ جینیٹک مارک بھی کہا جاتا ہے۔ کیمیکل گروپ ڈی این اے کیساتھ جڑا ہوتا ہے لیکن نیچے موجود ترتیب کو نہیں چھیڑتا ۔ سائٹوسین کو سجایا جاتا ہے ناکہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ باوجود اسکے کہ یہ ترمیم بہت چھوٹی ہے یہ ہماری گفتگو میں بار بار آئیگی اور اکثر ایپی جینیٹکس کی بحثوں میں اسکا ذکر ملیگا ۔ یہ اس لئیے ہے کیونکہ ڈی این اے کی میتھائیلیشن جینز کے اظہار پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور بالآخر خلیات ، ٹشوز اور اعضاء کے فنکشنز پر اثر ڈالتی ہے۔

1980 میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ہم ممالیہ جانداروں کے خلیات میں ڈی این اے ڈالتے ہیں تو اس ڈی این اے پر موجود میتھائیلیشن آر این اے کی ٹرانسکرپشن پر اثر ڈالتی ہے۔ جتنا زیادہ ڈی این اے میتھائیلیٹڈ ہوگا اتنی ٹرانسکرپشن کم ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں ڈی این اے میتھائیلیشن کی کثرت کا تعلق ان جینز سے تھا جو آف رہتے ہیں۔ لیکن کیا قدرتی طور پر بھی ایسا ہوتا ہے یا ایسا صرف مصنوعی طریقے سے ڈالے گئے ڈی این اے کیساتھ ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی تھا۔ ممالیہ خلیات میں ڈی این اے میتھائیلیشن کی اہمیت ثابت کرنے کیلئے سب سے اہم کام ایڈریان برڈ کی لیبارٹری سے سامنے آیا جنکا سائنسی کیرئیر ایڈنبرگ میں گزرا ہے۔ پروفیسر برڈ رائل سوسائٹی کے فیلو اور ویلکم ٹرسٹ کے سابقہ گورنر ہیں۔ انکو ڈی این اے میتھائیلیشن اور اسکے جینز کے اظہار کو کنٹرول کرنے کا گاڈفادر مانا جاتا ہے۔

1985 میں ایڈریان برڈ نے سیل جریدے میں ایک پیپر پبلش کیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ زیادہ تر CpG جینوم کے اندر بے ترتیبی سے موجود نہیں ہوتے ۔ بلکہ یہ دیکھا گیا کہ اکثریتCpG جوڑے کچھ جینز کے اوپر والے علاقے میں پروموٹر ریجن کیساتھ زیادہ کثرت کیساتھ موجود ہوتے ہیں۔ پروموٹر ریجن جینوم کے وہ حصے ہوتے ہیں جہاں ڈی این اے ٹرانسکرپشن کمپلیکس جڑتے ہیں اور ڈی این اے سے آر این اے بنانا شروع کرتے ہیں۔ ایسے علاقے جہاں CpG بہت زیادہ تعداد میں موجود ہوں CpG جزیرے کہلاتے ہیں۔ پروٹین کوڈ کرنے والے ساٹھ فیصد جینز کے اندر پروموٹر ان جزیروں کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ جینز فعال ہوتے ہیں تو ان جزیروں کے اندر میتھائی لیشن کی سطح بہت کم ہوتی ہے۔ اور جب CpG جزیرے زیادہ میتھائیلیٹڈ ہوتے ہیں تو جینز آف ہوتے ہیں۔ مختلف خلیات مختلف قسم کے جینز کا اظہار کرتے لہذاٰ CpG جزیروں کی متھائیلیشن کا پیٹرن بھی مختلف خلیات میں مخلتف ہوگا۔

کچھ عرصہ تک اس بات پر کافی بحث چلی کہ آخر اس تعلق کا مطلب کیا ہے۔ یہ پرانی علت و معلول کی بحث تھی۔ ایک وضاحت یہ تھی کہ یہ ایک تاریخی ترمیم تھی اور جینز کسی نامعلوم میکانزم کے تحت دب گئے اور اسکے بعد ڈی این اے میتھائیلیٹڈ ہوگیا۔ اس ماڈل کے مطابق ڈی این اے میتھائیلیشن محض جینز کے اظہار میں کمی کا نتیجہ تھا۔ دوسری وضاحت یہ تھی کہ CpG جزائر پر میتھائیلیشن ہوئی اور یہ میتھائی لیشن تھی جس نے جینز کو آف کردیا۔ اس ماڈل کے مطابق درحقیقت ایپی جینیٹکس ترامیم جینز کے اظہار کے اندر تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔ گوکہ مختلف لیبارٹریز کے درمیان روایتی بحث جاری ہے لیکن ایڈریان برڈ کے پیپر کے بعد سے بہت ساری تحقیقات سے جو ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے وہ دوسرے ماڈل کو سپورٹ کرتا ہے اور اکثریت سائنسدان بھی اسکو ترجیح دیتے ہیں۔ زیادہ تر حالات میں جینز کے شروعات میں موجود CpG جزائر پر میتھائیلیشن جین کو آف کردیتی ہے۔

ڈی این اے میتھائیلیشن جین کو کیسے آف کرتا ہے؟ پروفیسر برڈ نے دکھایا کہ جو ڈی این اے میتھائی لیٹد ہوتا ہے وہ ایک خاص پروٹین MeCP2 ( میتھائیل CpG بائنڈنگ پروٹین 2) کو اپنے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہ پروٹین میتھائی لیشن کے بغیر حصے پر نہیں جڑسکتی۔ وہ اینزائمز جو میتھائل گروپ جوڑتے ہیں انکو ہم ایپی جینیٹک کوڈ کے لکھاری کہہ چکے ہیں۔ MeCP2 ڈی این اے کے اوپر کوئی ترمیم نہیں کرتی بلکہ اسکا کام ڈی این اے کے کسی حصے کے اوپر موجود ترامیم کو پڑھنا ہوتا ہے۔ MeCP2 ایپی جینیٹک کوڈ ریڈر کی واضح مثال ہے۔ جب MeCP2 فائیو-میتھائیل سائٹوسین کیساتھ جڑ جاتی تو یہ بہت سی دوسری پروٹینز کو اپنی طرف کھینچتی ہے جوکہ جینز کو آف کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ ڈی این اے ٹرانسکرپشن مشینری کو جین پروموٹر کیساتھ جڑنے سے روکتی ہے اور اس طرح میسنجر آر این اے نہیں بن پاتا۔ ڈی این اے بہت سختی سے مڑجاتا ہے جسکی وجہ سے ٹرانسکرپشن مشینری نیچے موجود بیس کے جوڑوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتی اور یہ حصے ہمیشہ کیلئے آف ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ڈی این اے میتھائیلیشن ایک اہم عمل ہے ۔ یاد کریں پچاسی سالہ شخص کے دماغ کے اندر موجود عصبی خلیات کو، آٹھ دہائیوں تک ڈی این اے میتھائیلشن نے جینوم کے کچھ حصوں کو اس قدر سخت اور ٹھوس بناکے رکھا کہ عصبی خلیات نے کچھ جینز اس تمام عرصے میں آف رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دماغ کے خلیات نے کبھی ہیموگلوبن یا ہاضمے کے اینزائمز نہیں بنائے ہیں۔ لیکن دوسری صورتحال جو اس سے یکسر مختلف ہے اسکے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ مثلاً جلد کے سٹیم سیلز جو برعکس عصبی خلیات کے ہمیشہ تقسیم ہوتے رہتے ہیں اور ہمیشہ جلد کے خلیات ہی بناتے ہیں بجائے کسی اور قسم کے خلیات کے۔ اس صورتحال میں ڈی این اے میتھائیلیشن کا پیٹرن ایک نسل کے خلیات سے دوسری نسل کے خلیات میں منتقل ہوتا ہے۔ خلیاتی تقسیم سے پہلے ڈی این اے کی کاپی تیار کی جاتی ہے اس دوران DNMT2 اس بات کی نشاندھی کرسکتا ہے اگر ڈی این اے کے صرف ایک دھاگےپر CpG پر میتھائیلیشن موجود ہو۔ جب اس کی نشاندھی ہوجاتی ہے تو یہ اینزائم نئے دھاگے کے اوپر بھی میتھائل گروپ کو جوڑ دیتا ہے۔ اسطرح پرانے خلیات کی طرح نئے بننے والے خلیات بھی ایک طرح کی میتھائیلیشن کے حامل ہوتے ہیں۔ اور ایک آہی طرح کے جینز کو آف رکھتے ہیں۔ لہذا جلد کے خلیات ہمیشہ جلد کے خلیات ہی رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں