123

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر 5

لامتناہی صلاحیت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد کیجئے اس گیند کو جو واڈنگٹن لینڈ سکیپ کی چوٹی پر موجود ہے، خلیاتی اصطلاح میں یہ زائیگوٹ ہے اور اسکو ٹوٹی پوٹنٹ کہا جاتا ہے ۔ یعنی اسکے اندر صلاحیت ہوتی ہے کہ جسم کے تمام خلیات بنا سکتا ہے بشمول پلیسینٹا۔ اکثریت سائنسدان جو کہ ڈیولپمنٹ پر کام کررہے ہوتے ہیں وہ زائیگوٹ کے بعد کی سٹیج کے خلیات کو منتخب کرتے ہیں جنکو ایمبریونک سٹیم سیلز ES کہا جاتا ہے۔ زائیگوٹ متعدد بار تقسیم ہوتا ہے اور اسکے نتیجے میں خلیات کا مجموعہ بنتا ہے اسکو بلاسٹوسائٹ کہا جاتا ہے۔ بلاسٹوسائٹ کے خلیات کی تعداد عموماً ایک سو پچاس سے کم ہوتی ہے لیکن یہ دو تہوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک بیرونی تہہ جسکو ٹروفیکٹوڈرم کہا جاتا ہے جو کہ آگے جاکر پلیسینٹا اور دوسرے ٹشوز بناتی ہے۔ اور اندرونی تہہ جسکو انر سیل ماس ICM کہا جاتا ہے۔

آئی سی ایم کے خلیات کو لیبارٹری کے اندر بڑھایا جا سکتا ہے۔ انکی نشونما کیلئے بہت زیادہ مخصوص قسم کے حالات چاہئے ہوتے ہیں اور اگر یہ حالات مہیا کئیے جائیں تو یہ خلیات لامحدود مرتبہ تقسیم ہونے کے بعد بھی ویسے ہی رہتے ہیں۔ انکو ای ایس خلیات ES کہا جاتا ہے اور یہ ٹوٹی پوٹنٹ نہیں ہوتے کیونکہ یہ پلیسینٹا نہیں بناسکتے ۔ لیکن اسکے علاوہ تمام اقسام کے خلیات بنا سکتے ہیں اس لئیے انکو پلوریپوٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ای ایس خلیات اس بات کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوئے ہیں کہ کونسی چیز خلیات کو پلوریپوٹنٹ حالت کے اندر برقرار رکھتی ہے۔

سالوں تک مایہ ناز سائنسدانوں, جن میں کیمبرج کے عظیم سورانی ، ایڈنبرگ کے آسٹن سمتھ ، بوسٹن کے روڈولف جینیش اور جاپان کے شنیا یاماناکا شامل ہیں، نے ایک کثیر عرصہ ای ایس خلیات میں ظاہر ہونے والی پروٹین اور جینز کی نشاندھی کرتے ہوئے گزارا ہے۔ یہ جینز انتہائی اہم ہیں کیونکہ اگر تجربات کے دوران مخصوص ماحول میں تبدیلی ہوتو یہ خلیات کسی دوسری قسم کے خلیات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مثلاً کلچر ڈش کے اندر چھوٹی سی تبدیلی اور ای ایس خلیات کارڈیو مائیو سائٹس میں تبدیل ہوجائیں گے اور وہی کریں گے جو دل کے خلیات کرتے ہیں۔ یہ ایک ساتھ ملکر دھڑکنا شروع کردیں گے۔کلچر ڈش کے اندر موجود کیمیکلز میں تھوڑا سا ردو بدل کرنے سے یہ خلیات دل کے راستے سے مڑکر ایسے خلیات کی ڈیولپمنٹ شروع کردیں گے جو دماغ کے عصبی خلیوں کی تشکیل کرتے ہیں ۔

اکیسویں صدی کے اوائل تک سائنسدانوں نے پلوریپوٹنٹ خلیات کو اپنی حالت میں برقرار رکھنے کیلئے طریقے تلاش کرلئے۔ اور انکی بیالوجی کے بارے میں بھی کافی معلومات ہمارے پاس جمع ہوچکی تھیں۔ اسکے علاوہ یہ بھی معلوم کرلیا گیا کہ تجرباتی حالات میں کونسی تبدیلیاں کرنے سے خلیات مختلف قسم کے خلیات میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتے ہیں مثلاً عصبی خلیات، جگر کے خلیات یا دل کے خلیات۔ کیا ان معلومات کی مدد سے ہم خلیات کو دوبارہ ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ پر پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک مکمل بالغ خلیہ لیکر اسکو اسطرح سے ٹریٹ کیا جائے کہ وہ دوبارہ ای ایس خلیے میں تبدیل ہو جائے؟ اکیسویں صدی کے وسط تک تقریباً بیس ایسے جینز کی نشاندھی کی جا کی تھی جو ای ایس خلیات کیلئے اہم تھے۔ لیکن ابھی تک ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔
————————————————————————

امید کی فتح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض اوقات عظیم پیش رفت تب ہوتی ہے جب کوئی چارسو پھیلی مایوسی کو یکسر نظر انداز کردیتا ہے۔ وہ پرامید انسان جس نے وہ کرنے کی ٹھانی جسکو باقی سب ناممکن قرار دے چکے تھے شنیا یاماناکا تھے۔ پروفیسر یاماناکا اس فیلڈ کے اندر چند نوجوان دماغوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک ہی مقصد تھاکہ کیسے بالغ مخصوص خلیات سے پلوریپوٹنٹ خلیات تیار کئیے جائیں۔ اپنی تحقیق کی ابتدا میں انھوں نے چوبیس جینز پر کام کا آغاز کیا جو پلوریپوٹنٹ خلیات کیلئے اہم تھے۔ ان جینز کو پلوروپوٹینسی جینز کہا جاتا ہے اور اگر ایمبریونک سٹیم سیلز کو پلوریپوٹنٹ حالت میں رہنا ہو تو ان جینز کا آن رہنا ضروری ہے۔ قدرتی ماحول میں جب خلیات بالغ ہوکر مختلف قسم کے خلیات میں تبدیل ہونا شروع ہوتے ہیں تو ان جینز کو آف کردیا جاتا ہے۔

پروفیسر یاماناکا نےیہ ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا کہ کیا ان جینز کے کمبی نیشنز بالغ خلیات کو دوبارہ پیچھے کی طرف اپنی ابتدائی حالت میں دھکیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر نتائج منفی آتے تو یہ بتانا مشکل تھا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ کیا پروفیسر یاماناکا اور انکی ٹیم خلیات کو ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ پر پیچھے دھکیلنے میں اس لئیے کامیاب نہیں ہوپائی کیونکہ انکی تجربات میں کچھ خامیاں تھیں؟ یا پھر ایسا ممکن ہی نہیں تھا؟ یہ ایک رسک تھا اور نوجوان سائنس دان ٹاکاہاشی جو اس ٹیم میں پروفیسر کیساتھ تھے کیلئے ایک جوے سے کم نہیں تھا۔ اگر آپ پیپرز شائع نہیں کرتے تو آپکو ریسرچ فنڈنگ نہیں ملتی ، آپکو یونیورسٹی میں ملازمت نہیں ملیگی ۔ اور جب آپکی سالوں کی محنت کے بعد بھی نتائج یہ ہوں کہ ” میں نے بہت کوشش کی لیکن یہ نہیں ہوسکا ” تو آپکے پیپرز کسی اچھے جریدے میں شائع ہونے کے مواقع بھی نفی میں ہونگے۔ لہذاٰ ایسے پروجیکٹ پر کام کرنا جس میں مثبت نتائج کے امکانات بہت کم ہوں نوجوان ٹاکاہاشی کی ہمت اور لگن کا ثبوت ہے۔

انھوں نے چوبیس جینز کو چنا اور ایک خاص قسم کے خلیات جنکو مائوس ایمبریونک فائبروبلاسث MEFs کہا جاتا ہے میں ٹیسٹ کیا۔ فائبروبلاسٹ کنیکٹو ٹشوز کے بنیادی خلیات ہیں اور تقریباً ہر عضو میں موجود ہوتے ہیں بشمول جلد کے۔ انکو نکالنا بہت آسان ہے اور لیبارٹری کے اندر انکو کلچر کروانا بھی آسان ہوتا ہے جسکی وجہ سے انکو اکثر تجربات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماؤس ایمبریونک فائبروبلاسث کیونکہ ایمبریو سے لئیے گئے تھے لہٰذا یہ امید تھی کہ انکے اندر ابتدائی حالت کی طرف پلٹنے کی صلاحیت باقی ہوگی۔ انھوں نے جو چوہوں کے خلیات استعمال کئیے ان میں ایک اضافی جین ڈالا گیا تھا جسکو نیو مائسین رزسٹنس جین کہاجاتا ہے۔ نیومائیسین ایک اینٹی بائیوٹک قسم کا کمپاونڈ ہے جو عام طور پر ممالیہ خلیات کو مار دیتا ہے۔ لیکن اگر خلیات کے نیومائیسین کے اظہار کیلئے جینیاتی ترمیم کی گئی ہو تو وہ بچ جاتے ہیں۔ یاماناکا نے تجربات کےا ندر استعمال ہونے والے چوہوں کے اندر نیومائیسین کو اس طرح ڈالا کہ وہ صرف اسی وقت آن ہوتے جب خلیات پلوریپوٹنٹ ہوتے۔ لہذاٰ اگر وہ خلیات کو دوبارہ پیچھے کی طرف ابتدائی حالت میں دھکیلنے میں کامیاب ہوجاتے تو انکے اندر بڑھوتری جاری رہتی چاہے اینٹی بائیوٹک کی کثیر مقدار بھی ڈالی جاتی۔ اور اگر تجربات ناکام ہوتے تو تمام خلیات مرجاتے۔

جب شنیا یاماناکا نے تمام چوبیس جینز کو ایک ساتھ استعمال کیا تو کچھ خلیات اینٹی بائیوٹک کے اثرات سے بچنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ایک کم تعداد تھی لیکن نتائج حوصلہ افزا تھے۔ اسکا مطلب تھا ان خلیات کے اندر جینز آن ہوگئے تھے اور یہ ای ایس خلیات کی طرح بن گئے تھے۔ لیکن جب ایک ایک جین کو علیحدہ علیحدہ استعمال کیا گیا تو کوئی بھی خلیہ زندہ نہ رہ سکا۔ اسکے بعد انھوں نے تئیس جینز کے مختلف کمبی نیشنز استعمال کئیے اور دس ایسے جینز کی نشاندھی کرنے میں کامیاب ہوئے جو تمام نیو مائیسن رزسٹنس پلوریپوٹنٹ خلیات بنانے کیلئے اہم تھے۔ دس جینز کے اندر مختلف کمبی نیشنز استعمال کرتے ہوئےآخرکار وہ سب سے چھوٹا جادوئی ہندسہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے جو ایمبریونک فائبروبلاسث کو ای ایس خلیات کے اندر تبدیل کردیتا تھا۔

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔ جب فائبروبلاسٹ کےا ندر چار جینز Oct4, Sox2, Klf4 اور C- Myc ڈالے گئے تو وہ نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔ یعنی یہ خلیات ایمبریونک سٹیم سیلز کےا ندر تبدیل ہوچکے تھے۔ اور یہ خلیات اپنی ساخت تبدیل کرکے ایمبریونک سٹیم سیلز کی ساخت اختیار کرچکے تھے۔ مختلف قسم کے تجرباتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے ریسرچر ان ریپروگرام خلیات کو تین بنیادی ٹشوز کے اندر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے جن سے ممالیہ جانداروں کے تمام اعضاء بنتے ہیں یہ ٹشوز ایکٹو ڈرم، اینڈوڈرم اور میزوڈرم ہیں۔ پروفیسر یاماناکا نے یہ مشاہدہ کروایا کہ وہ اس تمام عمل کو دہرا سکتے ہیں اور اس دفعہ ایمبریونک خلیات کی بجائے وہ ایک بالغ چوہے کہ خلیات کو لیکر یہی نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ صرف ایمبریو کے خلیات تک محدود نہیں ہے بلکہ بالغ خلیات کو بھی ایمبریونک سٹیم سیلز کے اندر بلا جاسکتا ہے۔

یاماناکا نے اپنے بنائے گئے خلیات کو انڈیوسڈ پلوریپوٹنٹ سٹیم سیلز کا نام دیا اور IPS سلیز سے آج بیالوجی کے اندر کام کرنے والے لوگ اچھی طرح سے واقف ہیں۔ یہ بہت حیرت انگیز ہے کہ ممالیہ جانداروں کے خلیات میں بیس ہزار کے قریب جینز موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف چار کی مدد سے خلیات کو پلوریپوٹنٹ بنایا جاسکتا ہے۔ صرف چار جینز کی مدد سے پروفیسر یاماناکا گیند کو واڈنگٹن لینڈ سکیپ کے کسی ایک راستے سے دوبارہ پیچھے چوٹی پر پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہئے کہ پروفیسر یاماناکا اور ٹاکاہاشی کے نتائج چند بہترین مستند جرائد میں سے ایک “سیل ” میں شائع ہوئے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بہت سے سائنسدان یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ایسا ممکن ہے۔ انکی یہ سوچ اس وجہ سے نہیں تھی کہ پروفیسر یاماناکا اور انکی ٹیم نے کوئی فراڈ کیا تھا بلکہ انھیں لگتا تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں تھا۔

اس صورتحال میں ظاہری حل یہی تھا کہ انھیں تجربات کو دوبارہ دہرایا جائے اور دیکھا جائے کہ نتائج ویسے ہی ملتے ہیں یا نہیں۔ سائنٹفک کمیونٹی سے باہر کے لوگوں کیلئے یہ ایک سادہ بات ہے لیکن دراصل اس دوران کوئی لیبارٹری ایسی نہیں تھی جو اس وقت ان تجربات میں دلچسپی رکھتی ہو۔ ان تجربات کی تکمیل دو سال کے عرصے میں ممکن ہوپائی تھی اور تقریباً تمام لیبارٹریز اپنے حالیہ ریسرچ پروگرام پر توجہ مرکوز کئیے ہوتی ہیں اور اسکو بیچ میں چھوڑ کر کسی دوسرے پروگرام پر کام نہیں کرنا چاہتی ہیں جسکے ممکنہ نتائج مثبت آنے کے امکانات کم ہوں۔ لہذاٰ کسی بہترین اور وافر فنڈنگ کیساتھ اور بہترین سہولیات کیساتھ مزین لیبارٹری کا سربراہ ہی ایسے تجربات پر وقت ضائع کرنے کا رسک لے سکتا ہے۔

وائٹ ہیڈ انسٹیٹیوٹ آف کیمبرج کےرڈلوف جینیش کا تعلق جرمنی سے ہے اور امریکہ میں انھوں نے تیس سال تک کام کیا ہے ۔ انکا شعبہ جانوروں کی جینیاتی ترمیم کا ہے۔ یہ وہ سائنس دان تھے جنھوں نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کیا اور اور دیکھنے کی کوشش کی کہ کیا واقعی شنیا یاماناکا نے یہ ناممکن کام سر انجام دیا ہے یا نہیں۔ اپریل 2007 میں کولوراڈو میں ایک کانفرنس کے اندر رڈولف جینیش یہ اعلان کیا کہ انھوں نے یاماناکا کے تجربات کو دہرایا ہے اور واقعی وہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پروفیسر یاماناکا صحیح تھے۔ واقعی آپ بالغ خلیات کےاندر صرف چار جینز دال کر انھیں آئی پی ایس خلیات میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

روڈولف جینیش کے مطابق وہ جانتے تھے کہ پروفیسر یاماناکا صحیح نہیں ہوسکتے اور اسی کو ٹیسٹ کرنے کے لیے انھوں نے تجربات کئیے۔ اس واقعے کے بعد اس فیلڈ میں ایک نئی روح دوڑ گئی۔ بڑی بڑی لیبارٹریز یاماناکا کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات شروع کرنے لگیں اور اسکے اندر مزید بہتری لانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ کچھ ہی سالوں کے اندر ایسی لیبارٹریز جنھوں نے آج تک ایک بھی آئی ایس خلیہ تیار نہیں کیا تھا، اپنی مرضی کے خلیات سے آئی ایس خلیات بنانے لگیں۔ آئی ایس خلیات ہر سائنسی تحقیقات اب ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں۔ اس تکنیک کی مدد سے فائبروبلاسٹ خلیات کو آئی ایس خلیات میں تبدیل کئیے بغیر براہ راست عصبی خلیات میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ یہ ایسا ہی کہ واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ پر کسی گیند کو پیچھے کی طرف آدھے رستے تک لیکر جایا جائے اور اسکے بعد کسی اور راستے میں ڈال دیا جائے۔ پروفیسر یاماناکا نے 2009 میں جان گورڈن کیساتھ مشترکہ طور پر لیسکر پرائز وصول کیا۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں