372

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر 4

ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کانراڈ واڈنگٹن بہت زیادہ بااثر برطانوی پولیمیتھ تھے۔ وہ 1903 میں انڈیا میں پیدا ہوئے لیکن سکول کی تعلیم کیلئے واپس برطانیہ بھیج دیا گیا۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے اور اپنے اکیڈیمک کیریئر کا زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایڈنبرگ میں گزارا۔ انکی دلچسپی ڈیویلپمینٹل بیالوجی سے لیکر فنون لطیفہ اور فسلفہ میں تھی اور ان ساروں کے درمیان میں ربط اس سوچ میں نظر آتا ہے جسکی انھوں نے بنیاد رکھی۔ واڈنگٹن نے ڈیویلپمینٹل بیالوجی کے تصورات کی وضاحت کیلئے اپنا استعاراتی ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ 1957 میں پیش کیا۔ جیساکہ کہ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک گیند ہے ۔ جیسے ہی گیند چوٹی سے نیچے آنا شروع ہوگی تو وہ بہت سے راستوں (troughs) میں سے کسی ایک راستے کے اندر سفر کریگی۔

اس لینڈ سکیپ کو دیکھ کر ہم کیا سمجھتے ہیں؟ ہم جانتے ہیں ہیں کہ جب کوئی گیند پہاڑ کے نچلے سرے پر پہنچ گئی تو وہ اسی جگہ پر رہیگی جب تک کہ ہم اس کیساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گیند کو دوبارہ چوٹی پر لیکر جانا بہت مشکل ہے بنسبت اسکو نیچے لانے کے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گیند کو ایک راستے یا ٹرف سے نکال کر دوسرے میں لیجاکر نیچے لیکر آنا بہت مشکل ہے۔ اسکے علاوہ گیند کو پیچھے چوٹی پر لیجاکر دوبارہ کسی نئے راستے یا ٹرف میں نیچے لانا آسان ہوگا بجائے اسکے کہ براہ راست ایک ٹرف سے دوسرے میں اسکو بھیج دیا جائے۔ یہ خاص طور صحیح ہوگا اس حالت میں جب ہمارے دونوں راستوں کے درمیان ایک سے زیادہ پہاڑیاں ہوں۔

یہ تصویر خلیاتی ڈیولپمنٹ کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔ چوٹی کے اوپر موجود گیند دراصل زائیگوٹ ہے ، ایک واحد خلیہ جو کہ ایک انڈے اور ایک سپرم کے ملاپ سے بنتا ہے۔ جسیے مختلف خلیات ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں یا مخصوص کاموں کیلئے مخصوص ہوتے ہیں، ہر خلیہ ایک گیند کی مانند ہے جو کہ چوٹی سے نیچے سرک چکا ہے اور ایک مخصوص راستے میں نیچے سفر کر رہا ہے۔ جب وہ اتنا آگے چلا جاتا ہے جتنا وہ جاسکتا ہے تو اسکے بعد وہ اسی راستے پر ہی رہیگا. جب تک کچھ بہت غیر معمولی واقع نہ ہو جائے یہ خلیہ کسی دوسری قسم کے خلیہ میں تبدیل نہیں ہوگا (ایک راستے سے دوسرے راستے میں جانا)۔ ناہی وہ دوبارہ پیچھے چوٹی کی طرف جائیگا اور اور پھر سے نیچے آکر مختلف اقسام کے خلیات کی تشکیل کریگا۔

جان گورڈن کے تجربات نے یہ ثابت کردیا تھا کہ بعض اوقات بہت زیادہ محنت کیساتھ وہ ایک خلیہ کو بالکل نیچے سے دھکیل کر دوبارہ چوٹی پر لے جانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اور یہاں سے وہ دوبارہ نیچے جا کر کسی بھی قسم کے خلیات کے اندر تبدیل ہوسکتا تھا۔ اسکے علاوہ گورڈن اور اسکی ٹیم نے جو بھی مینڈک پیدا کئیے انھوں نے ہمیں دو اہم باتیں سکھائیں۔ پہلی یہ کہ کلوننگ یعنی کسی بالغ جاندار کے خلیے سے دوبارہ اسی طرح کا جاندار پیدا کرنا ممکن ہے۔ اور دوسرا یہ کہ کلوننگ بہت مشکل اور صبر طلب کام ہے کیونکہ ہر ایک مینڈک کیلئے سینکڑوں بار سومیٹک سیل نیوکلئیر ٹرانسفر کرنا پڑا ۔

یہی وجہ ہے کہ جب 1996 میں کیتھ کیمبل اور ایان ولمٹ نے پہلی بار ایک ممالیہ جاندار ڈولی جو کہ ایک بھیڑ تھی کو کلون کیا تو اس واقعے نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ جان گورڈن کی طرح انھوں نے بھی سومیٹک سیل نیوکلئیر ٹرانسفر کی تکنیک استعمال کی۔ انھوں نے بھیڑ کے میمری گلینڈ سے نیوکلئس نکال کر ایک نان فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر ڈالا اور اسکے بعد اس انڈے کو ایک اور بھیڑ کی یوٹیرس کے اندر رکھا گیا۔ کیمبل اور ولمٹ نے تقریباً تین سو نیوکلئس ٹرانسفر کئیے اسکے بعد ہی وہ ڈولی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، وہ ایک مشہور جانور جو اب ایک شیشے کے کیس کے اندر رائل سکاٹش میوزیم میں ایڈنبرگ میں موجود ہے۔

ڈولی کی وقت سے پہلے موت سے لیکر آج تک یہ سوال توجہ طلب ہے کہ آخر جانوروں کی کلوننگ سے مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں کیے جاسکے؟ اور دوسرا یہ کہ کلوننگ سے پیدا ہونے والے جاندار عام جانداروں کی نسبت کیوں کم صحت مند ہوتے ہیں؟ ان دونوں سوالوں کا جواب ایپی جینیٹکس ہے اور مالیکیولر وضاحت بھی ہم دیکھیں گے جب ہم اس فیلڈ کو مزید جانیں گے۔ ممالیہ جانداروں کی کلوننگ میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر ممالیہ جاندار ایک وقت میں ایک ہی ایگ خارج کرتے ہیں اور اسکے بعد اسکو لیبارٹری میں مناسب ماحول مہیا کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ انسانی کلوننگ پر دنیا کے تمام ممالک جو اسکی صلاحیت رکھتے ہیں میں پابندی ہے۔ لیکن ہم انسانی خلیات کی کلوننگ کرسکتے ہیں۔ دراصل ہمیں ایسے خلیات چاہیئے جو ہر قسم کے خلیات میں تبدیل ہوسکیں۔ ایسے خلیات کو سٹیم سیلز کہا جاتا ہے اور یہ واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ کے بالکل چوٹی کے اوپر موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں انکی ضرورت کیوں ہے؟ اسکی وجہ ترقی یافتہ ممالک میں پھلینے والی مختلف بیماریاں ہیں۔

وہ بیماریاں جو زیادہ اموات کا باعث بن رہی ہیں وہ زیادہ تر دائمی ہیں۔ بیماری اپنے اثرات دکھانے میں وقت لیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس شخص کو موت کی طرف لیکر جاتی ہے۔ مثلاً دل کی بیماریوں کو دیکھ لیں۔ جب کوئی شخص ابتدائی ہارٹ اٹیک کے بعد صحتیاب ہوتا ہے تو اسکا دل پہلے جیسا صحت مند نہیں رہتا۔ دل کے اندر خاص خلیات جنکو کارڈیو مائیو سائٹس کہا جاتا ہے موجود ہوتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے دوران ان میں سے کچھ خلیات آکسیجن کی کمی کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں۔ لیکن دوسرے اعضاء کی طرح کارڈیو مائیو سائٹس دوبارہ نہیں بنتے ہیں ۔جیسے بون میرو کے اندر خون کے خلیات دوبارا بنتے رہتے ہیں کارڈیو مائیو سائٹس کیساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ دراصل یہ خلیات واڈنگٹن لینڈ سکیپ کے بالکل نیچے والے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور خاص راستے کے اندر پھنس جاتے ہیں. لہٰذا ہارٹ اٹیک کے بعد دل کے مسلز سیلز دوبارا نہیں بنتے اور زیادہ تر ان مرے ہوئے خلیات کی جگہ کنیکٹو ٹشوز بن جاتے ہیں اور دل پہلے کی طرح نہیں دھڑکتا۔

یہی صورتحال شوگر ، الزائیمر ، آسٹیو آرتھرائیٹس وغیرہ جیسی مختلف بیماریوں میں ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے چیلینج یہ ہے کہ کیسے ہم اپنی مرضی کے خلیات دوبارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اسطرح کی بیماریوں سے نمٹنے کیلئے سٹیم سیلز کی کلوننگ کو تھراپیوٹک کلوننگ کہا جاتا ہے۔ پچھلے چالیس سالوں میں ہم یہ جان چکے ہیں کہ تھیوری کے اندر ایسا کرنا ممکن ہے۔ جان گورڈن اور اسکے بعد کے تجربات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلیات کے پاس جسم کے تمام اقسام کے خلیات کا بلیو پرنٹ موجود ہوتا ہے اگر اس تک پہچنے کا صحیح راستہ ہمیں معلوم ہو۔ جان گورڈن نے ایک بالغ خلیے سے نیوکلئس نکال کر اسکو ایک نان فرٹیلائزڈ ایگ خلیے کے اندر ڈالا اور اسطرح وہ اسکو واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ پر پیچھے کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ولمٹ اور کیمبل نے بھی یہی کیا انھوں نے بالغ خلیے سے لئے گئے خلیے کو ریپروگرام کردیا تھا۔ ان تجربات کے اندر ایک بات بہت اہم ہے کہ نیوکلئس کو ایک نان فرٹیلائزڈ ایگ کے اندر رکھا گیا تھا اور اس ریپروگرامنگ کے اندر اس ایگ کا بہت اہم کردار تھا۔ نیوکلئس کو کسی عام خلیہ کے اندر رکھ کر وہ کبھی کلوننگ میں کامیاب نہ ہو پاتے۔

یہاں پر ہمیں تھوڑی سیل بیالوجی پڑھنے کی ضرورت ہے۔ نیوکلئس کے اندر وہ تمام معلومات ہوتی ہیں جو ہمارا بلیو پرنٹ کہلاتی ہیں۔ اسکے علاوہ بہت کم مقدار کے اندر ڈی این اے مائٹو کونڈریا کے اندر بھی موجود ہوتا ہے لیکن اسکے بارے ہم ابھی بات نہیں کرینگے۔ جب ہم نے سکول میں خلیے کے بارے میں پڑھا تھا تو بتایا گیا تھا کہ نیوکلئس ہی اکیلا طاقتور سینٹر ہے جو تمام خلئیے کو کنٹرول کرتا ہے اور باقی سائٹو پلازم ایک محلول ہے جسکا کوئی خاص کام نہیں ہے۔ لیکن یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔ جان گورڈن کے مینڈک اور ڈولی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ سائٹو پلازم ہی اہم ہے۔ سائٹو پلازم کے اندر کچھ ایسا موجود ہے جس نے ان تجربات کے اندر ڈالے گئے نیوکلئس کو ریپروگرام کردیا تھا۔ ان نامعلوم عوامل نے کچھ نیوکلئسز کو واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ میں بالکل نیچے سے کسی راستے سے دھکیل کر دوبارہ چوٹی پر پہنچا دیا ۔

کسی کو نہیں معلوم تھا کہ سائٹو پلازم کیسے ایک بالغ نیوکلئس کو زائیگوٹ کے نیوکلئس میں تبدیل کردیتا ہے۔ ایک مفروضے کے تحت جو بھی عوامل اسکے پیچھے کارفرما ہیں وہ نہایت پیچیدہ اور آسانی سے سمجھ آنے والے نہیں ہیں۔ اور سائنس میں عام طور بڑے پیچیدہ سوالات کے اندر آسان اور قابل فہم سوالات موجود ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں