163

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر 3

ایک بدصورت مینڈک اور ایک خوبصورت انسان۔

1937 میں ہنگری سے تعلق رکھنے والے بائیوکیمسٹ Albert szent-Gyorgyi وٹامن سی کی دریافت پر فزیالوجی اور طب میں نوبل انعام کے حقدار قرار پائے۔ اپنی دریافت کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ” وہ دیکھو جو باقی سب دیکھ چکے ہوں لیکن وہ سوچو جو کسی نے نہیں سوچا ہو”. سائنسدانوں کے کام کے بارے میں یہ سب سے بہترین جملہ ہے۔ سر جون گرڈن ایک بہترین سائنسدان ہیں جنکا کام ایپی جینیٹکس کےحوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی جملہ جان گورڈن کی شخصیت اور کام کو واضح کرتا ہے۔

جان گورڈن نے مینڈک کے نان فرٹیلائزڈ انڈوں پر تجربات کئیے۔ سادہ الفاظ میں وہ انڈے جنکے ساتھ سپرم کا ملاپ نہیں ہوا ہوتا۔ انھوں نے مینڈک کے انڈوں کا انتخاب ہی کیوں کیا اسکی بھی وجوہات ہیں۔ ایمفیبئیز کے انڈے جسامت میں بڑے ہوتے ہیں، تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اور جسم سے باہر دیئے جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ انڈے شفاف ہوتے ہیں یعنی ان سے آرپار دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تمام خصوصیات مینڈک کو ڈیویلپمینٹل بیالوجی میں بہترین تجرباتی نمونہ بناتی ہیں۔

جان گورڈن نے افریقی پنجوں والے ٹوڈ کے اوپر تجربات کئیے۔ اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ خلیات کیساتھ کیا ہوتا ہے جب وہ تعداد میں بڑھتے ہیں اور مخصوص ہوتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا بالغ مینڈک کے خلیوں کےاندر وہ سارے جینز موجود ہوتے ہیں جو کہ ابتدائی خلیے کے اندر تھے یا پھر ان میں سے کچھ جینز کو ہمیشہ کیلئے غیر فعال کردیا جاتا ہے جب خلیات مختلف عوامل کیلئے مخصوص ہوجاتے ہیں۔ گورڈن نے یہ تجربات جس تکنیک کی مدد سے کئیے اسکو سومیٹک سیل نیوکلئیر ٹرانسفر کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک بالغ مینڈک کے خلیے سے نیوکلس نکال کر اسکو ایک غیر فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر ڈالا گیا جسکا اپنا نیوکلئیس نکال دیا گیا تھا۔ نیوکلئیس کی منتقلی کے بعد اس نے ان انڈوں کو موضوع ماحول میں رکھ دیا اور اس بات کا انتظا کرنےلگا کہ آیا ان انڈوں میں سے بچے نکلتے ہیں یا نہیں۔

یہ تجربات درج ذیل ہائپو تھیسز کوٹیسٹ کرنے کیلئے ترتیب دیئے گئے تھے ۔
” جیسے جیسے خلیات زیادہ مخصوص ہوتے جاتے ہیں انکےاندر موجود جینیاتی مادہ غیر فعال ہوتا جاتا ہے”.
ان تجربات کے دو ممکنہ نتائج ہوسکتے تھے:

1. ہائیپوتھیسز درست تھا اور بالغ نیوکلئیس کے اندر سے کچھ جینیاتی معلومات ختم کردی گئیں تاکہ نیا جاندار بن سکے۔ اس طرح کی حالت میں بالغ نیوکلئیس کبھی بھی انڈے کے اندر موجود نیوکلئیس کی جگہ نہیں لے پائے گا اور انڈا ایک بالغ ٹوڈ کے اندر تبدیل نہیں ہوسکیگا۔

2. یا پھر ہائپوتھیسز غلط تھا اور ایک نان فرٹیلائزڈ انڈے سے نیوکلس نکال کر ایک بالغ خلیے کا نیوکلئس ڈالنے سے نیا جاندار بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے سائنسدانوں نے جان گورڈن سے پہلے بھی اس قسم کے تجربات کئیے۔ 1952 میں برگز اور کنگ نامی دو سائنسدانوں نے ایک اور قسم کے مینڈک کے اوپر تجربات کیئے ۔ انھوں نے ایک ابتدائی عمر کے مینڈک کے خلیے سے نیوکلئیس نکالا اور اپنے نیوکلئیس سے محروم ایک انڈے میں ڈالدیا اور اسکے نتیجے میں مینڈک پیدا ہوا۔ اس تجربے نے یہ ثابت کردیا کہ تکنیکی طور پر ایسا ممکن ہے کہ کسی ایک خلیہ کا نیوکلئس نکال کر نیوکلئس کے بغیر انڈے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک دوسری تحقیق کے دوران جب انھوں نے ایک قدرے زیادہ عمر کے جاندار سے نیوکلئس نکال کر انڈے میں منتقل کیا تو وہ کسی قسم کا جاندار پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ دونوں تجربات میں استعمال ہونے والے نیوکلئیس کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ دوسرے والا نیوکلیئس جس خلیے سے لیا گیا تھا وہ پہلے والے خلیے سے ایک دن بڑا تھا ۔ اس بات نے مفروضے کو تقویت دی کہ جب خلیے عمر میں بڑھتے ہیں اور مخصوص ہونے لگتے ہیں تو ناقابل واپسی غیر فعالیت واقع ہوتی ہے۔ جون گرڈن نے اس مسئلے پر پوری ایک دہائی تجربات کرنے میں صرف کردی۔

تجربے کا ڈیزائن بہت اہم تھا۔ تصور کریں ہم اگاتھا کرسٹی کی جاسوسی کہانیاں پڑھنا شروع کرتے ہیں اور ابھی ہم نے تین پڑھی ہیں اور ہم یہ مفروضہ بناتے ہیں ” اگاتھا کرسٹی کے ناولوں میں ہمیشہ ڈاکٹر قاتل ہوتا ہے”. ہم مزید تین ناول پڑھتے ہیں اور قاتل توقع کے مطابق ڈاکٹر ہی ہوتا ہے۔ کیا ہم نے اپنا مفروضہ ثابت کردیا ؟ نہیں۔ ہمیشہ یہ خیال رہیگا کہ شاید ایک اور ناول پڑھنے سے کچھ اور نتیجہ نکل آئے۔ اور کیا پتہ کچھ ناول مزید ایسے موجود ہوں لیکن ہم وہ نہ پڑھ سکیں یا پھر انکی کوئی کاپی ہمیں مارکیٹ میں نہ مل سکے؟ بیشک جتنے ناولز ہم پڑھ لیں ہمیں اطمینان نہیں ہوگا کہ واقعی ہم نے سارا مجموعہ پڑھ لیا ہے۔ لیکن یہی تو مفروضے کو غلط ثابت کرنے کا مزا ہے۔ ہمیں صرف ایک موقع چاہیئے جس میں ہمارا ہیرو پوئروٹ یا مس مارپل یہ انکشاف کرے کہ ڈاکٹر نہایت شریف اور باخلاق انسان ہے اور حقیقت میں قاتل پادری ہے، اور اسکے ساتھ ہی ہمارا مفروضہ بھی چور چور ہو جائیگا۔ اور بہترین سائنسی تجربات بھی اسی طرح مفروضے کو غلط ثابت کرنے کیلئے نہ کے سچ ثابت کرنے کیلئے ڈیزائن کئیے جاتے ہیں۔

جان گورڈن جو کرنا چاہ رہا تھا وہ اس وقت کی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت زیادہ مشکل تھا۔ اگر وہ بالغ خلیے سے لئیے گئے نیوکلئس سے نیا مینڈک پیدا کرنے میں ناکام ہوجاتا تو اسکا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ اسکی تکنیک میں کوئی مسئلہ ہے۔ بیشک جتنی مرتبہ بھی وہ نیا مینڈک پیدا کرنے میں ناکام ہوتا اس سے مفروضہ صحیح ثابت نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر وہ بالغ خلیے سے نیوکلئیس ایک انڈے میں منتقل کرکے نیا مینڈک پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو اس سے مفروضہ غلط ثابت ہوجاتا۔ اور یہ بات ثابت ہوجاتی کہ جب خلیات تقسیم ہوتے ہیں اور مخصوص ہونا شروع ہوتے ہیں تو انکے اندر موجود جینیاتی معلومات ختم یا بند نہیں ہوتیں۔ صرف ایک مینڈک پوری تھیوری کو الٹ سکتا تھا اور ایسا ہی ہوا۔

گورڈن اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہا کہ اس نے جن لیبارٹریز کے اندر کام شروع کیا وہ کافی زیادہ بہتر تھیں اور انکے اندر ایسے آلات تھے جن سے الٹرا وائلٹ روشنی پیدا ہوتی تھی۔ ان آلات کی مدد سے وہ بآسانی انڈے کے نیوکلئیس کو ختم کرسکتا تھا بنا خلیے کو نقصان پہنچائے۔ اور وہ خلیے کو نرم بھی کر سکتا تھا تاکہ وہ ہائپوڈرمک سوئی کی مدد سے اسکے اندر نیوکلئیس ڈال سکے۔

لیب کے اندر موجود کچھ دوسرے محققین نے ایسے مینڈک تیار کئیے ہوئے تھے جنکے اندر ایسی میوٹیشنز تھیں جنکی بآسانی نشاندہی کی جاسکتی تھی اور وہ خلیات کو نقصان بھی نہیں پہنچاتی تھیں۔ تمام میوٹیشنز کی طرح یہ بھی سائٹو پلازم کی بجائے نیوکلئیس میں تھیں۔ سائٹو پلازم خلیے کے اندر موجود ایک گاڑھا محلول ہوتا ہے جسکے اندر نیوکلئس موجود ہوتا ہے۔ گورڈن نے انڈے دوسرے مینڈک کے نمونوں سے لئیے اور اور نیوکلئس میوٹیشن والے نمونوں سے لئیے۔ اس طرح سے وہ یہ تسلی کر سکتا تھا کہ نتیجے میں پیدا ہونے ولا مینڈک کو دراصل ڈونر نیوکلئس م کوڈ کررہا تھا ناکہ وہ کسی تجرباتی غلطی کا نتیجہ تھا۔

جان گورڈن نے پندرہ سال کے عرصے میں یہ واضح کیا کہ بالغ اور مخصوص خلیات سے نیوکلئس کو نکال کر نئے جاندار پیدا کئیے جاسکتے ہیں اگر انھیں صحیح ماحول کے اندر رکھا جائے۔ لہذاٰ اس نے یہ بتایا کہ گوکہ خلیے کے اندر کوئی ایسا نظام موجود ہے جو کہ مخصوص جینز کو مختلف قسم کے خلیات میں آن یا آف کرتا ہے۔ وہ نظام جو بھی ہے لیکن اس میں ہمیشہ کیلئے جینیاتی معلومات ختم نہیں ہوتی ہیں کیونکہ جب ہم ایک بالغ خلیے کے نیوکلئس کو موزوں ماحول کے اندر ایک خالی نان فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر رکھتے ہیں تو وہ اپنی تمام یاداشت بھول جاتا ہے کہ وہ کونسے خلیے سے آیا ہے۔

ایپی جینیٹکس خلیے کے اندر یہ نامعلوم نظام ہے ۔ ایپی جینیٹک نظام اس چیز کو کنٹرول کرتا ہے کہ ڈی این اے کے اندر جینز کیسے استعمال ہوتے ہیں۔ ایپی جینیٹک ترامیم ڈی این اے بلیو پرنٹ کے اوپر موجود ہوتی ہیں اور دہائیوں تک خلیات کو پروگرام کرتی ہیں۔ لیکن کچھ موزوں حالات کے اندر یہ ایپی جینیٹک معلومات ہٹائی جاتی ہیں اور نیچے ہماری چمکدار ڈی این اے کی ترتیب موجود ہوتی ہے۔ بالکل ایسا ہی ہوا جب گرڈن نے بالغ اور مخصوص خلیے کا نیوکلئس نکال کر نان فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر ڈالا۔

کیا جان گورڈن کو معلوم تھا کہ یہ پروسیسں کیا ہے جب اس نے نئے مینڈک پیدا کئیے؟ نہیں۔ کیا یہ سب اسکے تجربات کو کم شاندار بناتے ہیں؟ بالکل نہیں۔
مینڈل ڈی این اے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جب ، آسٹریا کی ایک خانقاہ کے باغ میں ، اس نے اپنا وراثتی خصوصیات کا تصور پیش کیا جو اپنی خالص حالتوں میں مٹر کی کے اندر نسل درنسل منتقل ہوتی تھیں۔ انھوں نے وہ دیکھا جو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا اور ایک دم سے ہمارے پاس دنیا کو دیکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ آگیا۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں