28

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر۔ 9

یوٹیوب پر موجود کرشماتی چوہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی سال پہلے ایم ایم آر ویکسین سے آٹزم پھیلنے کی تھیوری جوکہ اب رد ہوچکی ہے کافی مقبول تھی اور میڈیا میں اسکو کافی توجہ مل رہی تھی۔ ایک مشہور برطانوی اخبار نے ایک بچی کی دردناک کہانی شائع کی۔ پیدائش کے شروع کے دنوں میں اسکی بڑھوتری بالکل ٹھیک تھی۔ اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے جیسے ہی اسے ایم ایم آر ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تو اسکی حالت خراب ہونے لگی ۔ جب تک اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی وہ بچی چار سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی اور رپوٹر کے مطابق آٹزم کے سنگین علامات کا شکار تھی۔ اس میں زبان کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکی تھی، اسکی حرکات بہت محدود اور بار بار دہرائی جانے والی تھیں۔ بہت ہی کم بامقصد ہاتھ کی حرکات اسکے اندر موجود تھیں مثلاً وہ کھانے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھاتی تھی سیکھنے میں کئی مسائل تھے۔ اسکی یہ شدید معذوری اسکے خاندان کیلئے یقیناً ایک سانحے سے کم نہیں تھی۔

لیکن اگر نیوروجینیٹکس کی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص یہ آرٹیکل پڑھتا تو فوراً سے دو باتیں اسکے دماغ میں آتیں۔ پہلی بات کہ یہ بالکل غیر معمولی تھا اور لڑکیوں کے اندر آٹزم کی اس قدر شدید علامات کبھی سننے میں نہیں آئی تھیں۔ یہ علامت زیادہ تر لڑکوں میں پائی جاتی ہیں۔ دوسری بات یہ کیس بالکل اپنی علامات اور عمر کے حصے کے حوالے سے ریٹ سینڈروم کی طرح تھا۔ یہ ایک اتفاق تھا کی ریٹ سینڈروم اور آٹزم کی علامات ٹھیک عمر کے اس حصے میں واضح ہونا شروع ہوتی تھیں جس عمر میں ایم ایم آر ویکسین دی جاتی تھی۔ لیکن اسکا ایپی جینیٹکس سے کیا تعلق ہے؟ 1999 کے اندر ٹیکساس کے بیلر کالج آف میڈیسن ہوسٹن کے اندر ایک گروپ نے جسکی قیادت ڈاکٹر ھدی الزغبی کررہی تھیں نے یہ دکھایا کہ ریٹ سینڈروم کے زیادہ تر واقعات MeCP2 کے اندر میوٹیشن سے ہوتے ہیں۔ یہ وہی جین ہے جو ڈی این اے میتھائی لیشن کے ریڈر کو کوڈ کرتا ہے۔ اس بیماری کا شکار بچوں میں MeCP2 جین میں میوٹیشن پائی جاتی ہے جسکا مطلب ہے کہ انکے اندر فعال MeCP2 پروٹین نہیں بنتی۔ گوکہ انکے خلیات ڈی این اے میتھائیلیںشن کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہ اس ایپی جینیٹک کوڈ کو پڑھ نہیں پاتے۔

MeCP2 میوٹیشن کے حامل بچوں کے اندر بیماری کی شدید علامات سے ہمیں پتہ چلا کہ ایپی جینیٹک کوڈ کو صحیح طریقے سے پڑھنا انتہائی اہم ہے۔ لیکن ان سے کچھ اور باتوں کا بھی پتہ چلا ۔ ان بچیوں کے اندر تمام خلیات ریٹ سینڈروم سے یکساں متاثر نہیں تھے۔ مطلب یہ ایپی جینیٹک میکانزم کچھ ٹشوز کے اندر دوسروں سے زیادہ اہم تھا۔ کیونکہ مریضوں میں شدید دماغی مسائل دیکھے گئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دماغ کے اندر اس پروٹین کی صحیح مقدار ہونا بہت ضروری ہے۔ اور کیونکہ ان بچوں میں دوسرے اعضاء مثلاً جگر اور گردوں میں مسائل نہیں پائے گئے اسکا مطلب یہ پروٹین ان ٹشوز کے اندر اس قدر اہم نہیں ہے۔ ان ٹشوز کے اندر یا تو ڈی این اے میتھائی لیشن کی اتنی اہمیت نہیں ہے یا پھر انکے پاس MeCP2 پروٹین کے علاوہ بھی پروٹینز موجود ہیں جو ایپی جینیٹک کوڈ کے اس حصے کو پڑھ سکتی ہیں۔ اس بیماری کا شکار بچوں کے خاندان انکے معالج اور ان ہر تحقیقات کرنے والے سائنسدان اس بات کو پسند کریں گے اس بیماری کے حوالے سے بڑھتے ہوئے علم سے نئے علاج کے طریقے سامنے آئیں۔

ریٹ سینڈروم کے حوالے سے سب سے کمزور پہلو شدید ذہنی معذوری تھا جوکہ اس بیماری کی عام علامت ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ آیا کے ذہنی معذوری جسیے نیوروڈیولپمنٹل مسئلے کو ٹھیک کرنا ممکن ہوگا یا نہیں، اسکے بارے عام تاثر مثبت نہیں تھا۔ ایڈریان برڈ ہماری کہانی میں ابھی بھی اہم کردار ہے۔ 2007 میں انھوں نے سائنس میں ایک پیپر شائع کیا جس کے مطابق چوہوں کے اندر ریٹ سینڈروم کا علاج کیا جاسکتا تھا ۔ ایڈریان برڈ اور ان کے ساتھیوں نے چوہوں کے کلون تیار کئیے جنکے اندر MeCP2 پروٹین کے جین کو غیر فعال کردیا گیا تھا۔ انھوں نے روڈلوف جینش کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا۔ ان چوہوں کےا ندر شدید قسم کی نیورولوجیکل علامات پیدا ہوچکی تھیں اور ان میں عام چوہوں جیسی سرگرمیاں نا ہونے کے برابر تھیں۔ اگر آپ ایک عام صحتمند چوہے کو ایک سفید باکس میں چھوڑ دیں تو وہ وہ فوراً باکس کے اندر چلنا شروع کردیگا اور اپنے اردگرد کو جاننا شروع کردیگا۔ وہ اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہوکر اردگرد کے ماحول کا بغور جائزہ لیگا۔ MeCP2 میوٹیشن کا حامل چوہا ان میں سے چند سرگرمیاں ہی کریگا لیکن وہ بھی سست روی سے اسے باکس کے درمیان میں بٹھا دیں اور وہ وہیں بیٹھا رہیگا۔

پروفیسر ایڈریان برڈ نے ان تجربات کو ایسے ڈیزائن کیا تھا کہ چوہوں کے اندر ایک نارمل MeCP2 جین کی کاپی بھی موجود تھی لیکن یہ کاپی خاموش تھی اور خلیات میں آن نہیں ہوتی تھی۔ انکی پلاننگ اسطرح تھی کے اگر چوہوں کو کوئی نقصان دہ کیمیکل دیا جاتا تو یہ یہ نارمل جین آن ہوجاتی۔ اس طرح سے سائنس دان اس قابل ہوگئے کہ وہ چوہوں کو مطلوبہ وقت تک افزائش کرواتے اور اسکے بعد اپنی مرضی سےMeCP 2 جین آن کروادیتے۔ جین کے آن ہونے کے اثرات غیر معمولی تھے وہ چوہا جو پہلے درمیان میں بیٹھا رہتا تھا جین آن ہوتے ہی فوراً سے فعال ہوگیا اور عام چوہوں کی طرح اردگرد کے ماحول کو جاننے لگا۔ ان تجربات وڈیوز اور ساتھ میں ایڈریان برڈ کا انٹرویو آپ یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں جنکے مطابق وہ اس قسم کے ڈرامائی نتائج کی توقع نہیں کررہے تھے۔

یہ تجربات کیوں اہم ہیں ؟ کیونکہ ان سے ہمیں امید ملی ہے کہ ہم پیچیدہ ذہنی امراض کا علاج ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اس پیپر کے شائع ہونے سے پہلے عام تاثر یہی تھا کہ ایک دفعہ اس قسم کی بیماری ہو جائے تو اسکے اثرات کو بدلنا ناممکن ہے۔ یہ تاثر ان بیماریوں کے بارے میں زیادہ تھا جو خصوصاََ ماں کے پیٹ میں یا ابتدائی عمر میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ دورانیہ ممالیہ جانداروں کے دماغ کیلئے بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس دوران دماغ مختلف قسم کے رابطے اور ساختیں بناتا ہے جو باقی زندگی میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان تحقیقات سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ ریٹ سینڈروم کے اندر شاید وہ خلیاتی مشینری جو صحت مند نیورولوجیکل فنکشن کیلئے ضروری ہوتی ہے وہ ابھی بھی دماغ کے اندر موجود ہے بس اسے صحیح طرح سے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ انسانوں کے حوالے سے بھی درست ہوا تو ہم ذہنی معذوری کا اعلان کرنے کے قابل بھی ہوسکیں گے۔ گوکہ ہم انسانوں میں ایسا اس طرح نہیں کرسکتے جیسا چوہوں میں کیا گیا کیونکہ انسانوں پر تجربات ممکن نہیں لیکن اس سے ایسی دوائیں بنانے کی راہ ہموار ضرور ہوگی جنکے اثرات اسی قسم کے ہوں۔

ڈی این اے میتھائی لیشن کی اہمیت واضح ہے۔ ڈی این اے میتھائیلیشن کو پڑھنے میں غلطی سے بچے ساری زندگی کیلئے ریٹ سینڈروم جیسے پیچیدہ نیورولوجیکل بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ڈی این اے میتھائیلیشن مختلف خلیات کے اندر درست جین کے اظہار کے پیٹرن کو برقرار رکھنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ چاہے وہ عصبی خلیات کے اندر کئی دہائیوں تک ہو یا پھر لگاتار تبدیل ہونے والے ٹشوز جیسے جلد کے سٹیم سیلز کی تمام نسلوں میں۔ لیکن ابھی بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے ۔ دماغ کے عصبی خلیات جلد کے خلیات سے مختلف ہیں اگر دونوں قسم کے خلیات جینز کو آن یا آف رکھنے کیلئے ڈی این اے میتھائی لیشن کااستعمال کرتے ہیں تو ضرور یہ دونوں الگ جینز کے سیٹ پر میتھائی لیشن کو استعمال کررہے ہونگے۔ دو مختلف اقسام کے خلیات ایک جیسے میکانزم کو مختلف نتائج پیدا کرنے کیلئے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اسکا جواب اس بات میں ہے کہ خلیات کے اندر ڈی این اے میتھائی لیشن کو کیسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی ہم مالیکولر ایپی جینیٹکس کے دوسرے بڑے میدان “پروٹین” میں داخل ہوتے ہیں۔

ریٹ سینڈروم کے شکار چوہے کی MeCP2 جینز کے آن ہونے سے پہلے کی ویڈیو۔
https://youtu.be/CFfx5wNvCT0

اور MeCP2 جینز کے آن ہونے کے بعد کی ویڈیو
https://youtu.be/Clsjf6Uv6_w

پروفیسر ایڈریان برڈ کا انٹرویو۔
https://youtu.be/RyAvKGmAElQ

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں