144

ایپی جینیٹکس: قسط نمبر۔ 13

مختلف رنگ کے چوہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیٹا اس ماڈل کی سپورٹ کرتا ہے جسکے مطابق ایپی جینیٹکس عوامل کسی حد تک مونو زائیگوٹک ٹونز کی فینوٹائپس یعنی ظاہری خصوصیات میں اختلاف کا ذریعہ ہیں۔ لیکن ہم سوفیصد اطمینان کیساتھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ انسانوں پر تجربات ممکن نہیں۔ اس مقصد کیلئے تجرباتی جانور اہم ہیں جنکا ماحول ہم اپنی مرضی سے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ زیادہ تر جانداروں میں بنیادی عوامل ایک جیسے ہیں۔ مثلاً ییسٹ اور انسان کی ایپی جینیٹک مشینری میں اختلافات کی بجائے مماثلت زیادہ ہے۔ یہ جاندار ہو بہو انسانی جسم کا متبادل نہیں لیکن پھر بھی ہم کافی حد تک بنیادی حیاتیات سیکھ سکتے ہیں ۔ مونو زائیگوٹک ٹونز بالکل ایک جسیے کیوں نہیں ہوتے؟ اس سوال کے جواب کیلئے چوہے ہمارے سب سے زیادہ مددگار ہوسکتے ہیں۔ چوہوں کے نناوے فیصد جینز کی کسی حد نشاندہی انسانوں میں کی جاسکتی ہے گوکہ یہ بالکل ایک جسیے نہیں ہونگے۔ سائنسدان ایسے چوہے تیار کرتے ہیں جو جینیاتی طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں اسطرح سے غیر جینیاتی عوامل کے کردار کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتے ہے۔ اسطرح سے سیکنڑوں بلکہ ہزاروں جینیاتی طور پر ایک جیسے جاندار تیار کئیے جاسکتے ہیں ۔ ان چوہوں میں سے کسی ایک میں ڈی این اے کے کسی حصے کے اندر تبدیلی کردی جاتی ہے۔

ایپی جینیٹک میکانزم کیسے جینیاتی طور پر ایک جیسے افراد میں اختلاف پیدا کرتے ہیں اس بات کا جواب حاصل کرنے کیلئے ایک خاص قسم کے چوہے Agouti mouse کا کردار بنیادی ہے۔ عام چوہوں کے اندر بالوں کی رنگت تین رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ بال کا چوٹی کا حصہ سیاہ ، درمیانی حصہ پیلا اور نیچے والا پھر سیاہ ہوتا ہے۔ پیلے رنگت کیلئےAgouti جین موجود ہوتا ہے. اس جین کے اندر میوٹیشن ہوجائے تو اس ورژن کو a کہاجاتا ہے اور جین کبھی آن نہیں ہوپاتا۔ اس میوٹیشن والے جین کے حامل چوہوں میں بال بالکل سیاہ ہوتے ہیں۔ اس جین کے اندر ایک اور میوٹیشن سے Avy ورژن وجود میں آتا ہے اس میں یہ جین ہمیشہ کیلئے آن ہوجاتا ہے اور اس جین کے حامل چوہوں کے بال بالکل پیلے ہوتے ہیں۔ چوہوں کے پاس اس جینز کی دو کاپیاں ہوتی ہے ایک باپ کی طرف سے اور ایک ماں کی طرف سے۔ Avy جین غالب ہوتا ہے۔ اگر ایک کاپی Avy ہو تو یہ a جین کے اظہار کو دبادیگا۔ سائنسدانوں نے ایسے چوہے تیار کئیے جنکے ہر خلیے میں ایک Avy جین اور ایک a جین موجود تھا۔ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ تمام چوہوں کے بالوں کا رنگ کیا ہوگا۔

لیکن نتائج توقع کے برعکس تھے اور ان چوہوں میں رنگت کے لحاظ سے کافی فرق تھام کچھ سیاہ کچھ عام چوہوں کی طرح اور کچھ مزید مختلف شیڈز کیساتھ تھے۔ یہ کافی عجیب تھا کیونکہ تمام کا ڈی این اے ایک جیسا تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ماحول کے فرق کی وجہ سے ایسا ہو لیکن تمام ایک ہی جیسی لیبارٹری کنڈیشنز میں موجود تھے۔ ماہر جینیات جانتے ہیں کہ Agouti جین کیسے کام کرتا ہے۔ ڈی این اے کا ایک ٹکڑا ان چوہوں کے اندر ڈالا گیا بالکل اس جین کے پیچھے اسکو ریٹروٹرانسپوسون کہا جاتا ہے ۔ یہ ڈی این اے کسی پروٹین کو کوڈ نہیں کرتا بالکہ اس سے کوڈ ہونے والا آر این اے اس پروٹین کو ہمیشہ کیلئے آن رکھتا ہے۔ لیکن سوال وہیں ہے کیوں ایک جسیے Avy/a جینوٹائپ کے چوہے الگ الگ رنگ کے بال پیدا کررہے تھے۔ اسکا جواب ایپی جینیٹکس ہے۔ کچھ چوہوں کے اندر ریٹروٹرانسپوسون کے اندر CpG حصوں پر ڈی این اے میتھائی لیشن کافی زیادہ تھی جسکی وجہ سے یہ ہمیشہ کیلئے آف رہے اور Agouti جین کے اظہار کو متاثر نہ کرسکے۔ یہ وہ چوہے تھے جنکی رنگت عام چوہوں جیسی تھی۔ کچھ دوسرے چوہوں کے اندر ریٹروٹرانسپوسون پر میتھائی لیشن کو ختم کردیا گیا تھا جسکی وجہ سے Agouti جین ہمیشہ کیلئے آن رہ گیا۔ انکی رنگت پیلی تھی۔ جن چوہوں میں میتھائی لیشن درمیانے درجے کی تھی انکی رنگت بھی سیاہ اور پیلے دونوں رنگوں کے درمیان میں تھی۔

یہاں ڈی این اے میتھائی لیشن ایک ڈمر سوئچ کہ طرح کام کررہا ہے۔ ان چوہوں نے بڑی اچھی طرح سے واضح کیا کہ کیسے ایپی جینیٹکس خصوصاً ڈی این اے میتھائی لیشن کے کیس میں ایک جیسے افراد میں اختلاف پیدا کرتی ہے۔ لیکن ہمیشہ سے ایک خدشہ رہا ہے کہ شاید یہ ایک خاص کیس ہے اور یہ عمومی میکانزم نہیں ہے۔ ایسا اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ انسانوں کے اندر Agouti جین ڈھونڈنا بیت مشکل ہے یہ ان جینز میں سے ہے جو چوہوں اور انسانوں میں مختلف ہیں۔ ایک اور خصوصیت مڑی ہوئی دم ہے یہ بھی جینیاتی طور پر ایک جیسے افراد میں اختلاف کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ڈی این اے میتھائی لیشن کہ وجہ سے ہونے والے اختلافات کی دوسری مثال ہے۔ لیکن یہ خصوصیت بھی انسانوں میں نہیں پائی جاتی۔ لیکن ایک خاصیت ہے جو انسانوں اور چوہوں دونوں میں پائی جاتی ہے۔ وزن، جینیاتی طور پر ایک جیسے چوہے وزن میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔ سائنس دان ماحول اور اور خوارک تک رسائی کو جتنا بھی کنٹرول کریں یہ چوہے وزن میں مختلف ہوتے ہیں۔ سالوں تک کئیے جانے والے تجربات سے یہ واضح ہوا کہ وزن میں اختلاف کا تعلق بیس سے تیس فیصد پیدائش کے بعد کے ماحول سے ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ستر سے اسی فیصد اختلافات کا سبب کیا ہے۔ یہ جینیات نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام چوہے جینیاتی طور پر ایک جیسے ہیں۔ ماحول کے علاوہ کوئی اختلاف کا ذریعہ ہونا چاہیئے۔ 2010 میں کوئینز لینڈ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کی پروفیسر ایما وائٹلا نے ایک اہم پیپر شائع کیا۔ انھوں نے انبریڈ چوہوں کا گروپ تیار کیا اور اسکے بعد جینیاتی ترمیم کے ذریعےمختلف گروپس تیار کئے جو ابتدائی چوہوں کی طرح تھے لیکن انکے اندر مخصوص ایپی جینیٹک پروٹیینز آدھی سطح تک ظاہر ہوتی تھیں۔ جب پروفیسر ایما نے نارمل اور میوٹیشن کے حامل چوہوں کے مختلف گروپس میں وزن کاجائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ نارمل چوہوں کے گروپس میں تمام افراد کے وزن تقریباً ایک جیسے تھے۔ لیکن کم ایپی جینیٹک پروٹیز والے چوہوں میں وزن کے اندر اختلافات زیادہ تھے۔ اس پیپر میں یہ بتایا گیا کہ ایپی پروٹینز کے اظہار میں کمی کا تعلق منتخب جینز کے اظہار میں ردو بدل سے تھا جوکہ میٹابولزم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں ایپی جینیٹک پروٹیز دوسرے جینز کے اظہار کو کسی حد تک کنٹرول کررہی تھیں جسکی ہمیں امید تھی۔

پروفیسر ایما نے مختلف ایپی جینیٹک پروٹیز کو ٹیسٹ کیا لیکن ان میں سے چند ہی جسمانی وزن میں اختلافات میں اضافے کا باعث تھیں۔ ان میں سے ایک پروٹین Dnmt3a ہے۔ یہ ان اینزائمز میں سے ہے جو ڈی این اے پر میتھائل گروپ منتقل کرکے اسکو آف کرتے ہیں۔ ایک اور پروٹین Trim28 ہے جوکہ مختلف پروٹینز کے ساتھ ملکر کمپلیکس بناتی ہے جوکہ ہسٹونز پر ترامیم کرتے ہیں۔ یہ ترامیم ساتھ موجود جین کے اظہار کو کم کردیتی ہیں۔ ان ترامیم کو ریپریسیو ہسٹون ترامیم یا مارکس بھی کہاجاتا ہے۔ جینوم کے وہ حصے جہاں یہ مارکس زیادہ ہوتے ہیں زیادہ میتھائی لیٹد ہوتے ہیں۔ یعنی یہ پروٹین ڈی این اے میتھائی لیشن کےلئے صحیح ماحول تیار کرتی ہے۔ ان تجربات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کچھ ایپی جینیٹک پروٹینز کسی ڈیمپننگ فیلڈ کی طرح کام کرتی ہے۔ ترامیم کے بغیر ڈی این اے بے ترتیب طریقے سے آن ہو سکتا ہے۔ اسکا مجموعی اثر ایسے ہی ہے جیسے خلیے کے اندر بہت ساری بیک گرائونڈ گپ شپ جاری ہو۔ اسکو ٹرانسکرپشنک شور کہا جاتا ہے۔ ایپی جینیٹک پروٹینز ہسٹون پر ترامیم کرکے اس شور کی آواز کم کردیتی ہیں اور جینز کا اظہار کم ہوجاتا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہےکہ مختلف ٹشوز کے اندر مختلف قسم کی ایپی جینیٹک پروٹینز جینز کو آف کرتی ہوں۔

ایسا تمام جینز پر نہیں ہوتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک جیسے چوہوں میں بھی وزن میں فرق پایا گیا ہے۔ ایپی جینیٹیکس جانداروں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مختلف اقسام اور فنکشنز کے حامل خلیات بناسکیں اور ایک جیسے جین کے اظہار کے پیٹرن میں ہی قید ہوکر نہ رہ جائیں۔ اسطرح سے خلیات بدلتے ماحول کے حساب سے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ ابتدائی ڈیولپمنٹ کا کردار واضح ہوتا جارہا ہے۔ ابتدائی عمر کے اندر ہی ٹرانسکرپشنل شور کے کنٹرول کو لاگو کیا جاتا ہے۔ ڈیولپمنٹل پروگرامنگ کے اندر سائنس کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے جسکے اندر بچے کی ابتدائی ڈیولپمنٹ کے دوران وقوع پذیر ہونے والے واقعات باقی تمام زندگی کے اوپر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور ایپی جینیٹکس اس پروگرامنگ کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ اس قسم کا ماڈل پروفیسر ایما کےDnmt3a اور Trim28 کی کم ہونےوالی سطح پر تجربات سے مطابقت رکھتا ہے۔ وزن پر اثرات اس وقت واضح تھے جب چوہے صرف تین ہفتے کہ عمر کے تھے۔ Dnmt3a کی مقدار میں کمی کا تعلق وزن میں اختلافات سے تھا اسی طرح دوسرے انزائمDnmt1 کا پروفیسر ایما کے تجربات میں کوئی اثر نہیں دیکھا گیا تھا۔ Dnmt3a بغیر ترامیم کے ڈی این اے پر میتھائل گروپ جوڑتی ہے جبکہ Dnmt1 پہلے سے میتھائی لیٹد حصوں کو ہی مظبوط کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کم از کم وزن میں اختلافات کے کیس میں تو جین کے اظہار کے پیٹرن میں کمی کے اندر سب سے اہم خاصیت سب سے پہلے ڈی این اے میتھائی لیشن کا صحیح پیٹرن قائم کرنا ہے۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں