75

ایپی جینیٹکس: قسط۔ 16

منحرف چوہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا نسل درنسل وراثت کی تحقیق کا کوئی متبادل راستہ موجود ہے؟ اگر یہ فینومینا دوسری سپی شیز میں بھی موجود ہے تو یہ ہمارا اعتماد مزید مظبوط کریگا کہ یہ اثرات حقیقی ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ ماڈل سسٹمز کے اندر مخصوص مفروضے کو ٹیسٹ کرنے کیلئے تجربات تشکیل دئیے جاسکتے ہیں بجائے اسکے کہ صرف ان ڈیٹا بیسز کو جانچا جائے جو فطرت یا تاریخ مہیا کرتی ہے۔

یہاں پر ہم دوبارہagouti چوہوں کی طرف رخ کریں گے۔ ایما وائٹلا کے تجربات نے واضح کیا کہ چوہوں کے اندر رنگت میں تغیرات دراصل ایپی جینیٹک میکانزم کی وجہ سے تھے خاص طور پر Agouti جین کے اندر ریٹروٹرانسپوسون پر میتھائی لیشن سے۔ مختلف رنگ کے چوہوں کے اندر ایک جیسا ڈی این اے تھا لیکن ریٹروٹرانسپوسون پر میتھائی لیشن الگ الگ سطح کی تھی۔

پروفیسر وائٹلا نے اس بات کی تحقیق کا فیصلہ کیا کہ کیا بالوں کی رنگت وراثت میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اگر ہوسکتی ہے تو اس سے ثابت ہوجائیگا کہ صرف ڈی این اے ہی نہیں جو آباؤ اجداد سے نسلوں میں منتقل ہوتا ہے بلکہ جینوم میں موجود ایپی جینیٹک ترامیم بھی منتقل ہوتی ہیں۔ یہ حاصل شدہ خصوصیات کی نسل درنسل منتقلی کیلئے ایک میکانزم مہیا کردیگا۔

جب پروفیسر ایما نے Agouti مادہ چوہوں کو بریڈ کروایا تو نتائج کچھ اسطرح تھے۔ اگر ماں کے Avy جین ہر میتھائی لیشن موجود نہیں تھی اور رنگت پیلی تھی تو بچوں میں بھی پہلی رنگت دیکھنے کو ملتی اور کچھ کی رنگت میں تھوڑا تغیر دیکھنے کو ملتا۔ اس قسم کی مادہ کبھی بھی ایسے بچوں کو جنم نہیں دیتی تھی جنکی رنگت سیاہی مائل ہوتی۔
اسکے برعکس اگر ماں کے جین پر بہت زیادہ مقدار میں میتھائی لیشن موجود ہوتی تو کچھ بچوں کی رنگت بھی سیاہی مائل پائی جاتی۔ اگر ماں اور اسکی ماں میں بھی رنگت سیاہ ہوتی تو اسکا اثر مزید واضح دیکھا جاتا۔ ہر تیسرے بچے کی رنگت سیاہ ہوتی ۔

ایما وائٹلا نے تجربات انبریڈ چوہوں پر کئیے۔ اسطرح وہ ایک جیسے چوہوں کی کثیر تعداد تیار کرنے کے قابل ہوگئی تھیں۔ یہ اہم ہے کیونکہ اگر ایک تجربے میں ہمارے پاس ڈیٹا زیادہ ہو تو اسکے نتائج مزید قابل بھروسہ ہوجاتے ہیں۔ شماریاتی ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ایک جیسے جینیاتی مادہ رکھنے والے چوہوں کی فینوٹائپس میں فرق بہت واضح تھا۔ دوسرے الفاظ میں اسکے امکانات بہت کم تھے کہ یہ اثرات بائی چانس ہوگئے تھے۔ ان تجربات کے نتائج سے پتہ چلا کہ ایک جاندار میں ایپی جینیٹکس کی وجہ سے ہونے والا اثر اسکے بچوں میں منتقل ہوگیا تھا۔ لیکن کیا چوہے نے براہ راست ایپی جینیٹک ترامیم اپنی ماں سے حاصل کی تھیں؟

اس بات کے امکانات تھے کہ نظر آنے والے اثرات Avy ریٹروٹرانسپوسون پر ایپی جینیٹک ترمیم کی براہ راست وراثتی منتقلی کی وجہ سے نہیں تھے بلکہ کسی اور میکانزم کے تحت منتقل ہوئے تھے۔ جب یہ جین حد سے زیادہ آن ہو جاتا تو یہ صرف پیلی رنگت ہی پیدا نہیں کرتا تھا۔ Agouti دوسرے جینز کی ریگولیشن میں بھی گڑبڑ کرتا تھا جسکی وجہ سے چوہے موٹے اور ذیابیطس کا شکار ہو جاتے تھے۔ لہذاٰ ایسا ہوسکتا تھا کہ سیاہ اور پیلی رنگت والے چوہوں میں یوٹیرس کے اندرونی ماحول میں مختلف غذائیت کی فراہمی کے لحاظ سے فرق تھا۔ غذا کی فراہمی انفرادی طور پر اس بات کو متاثر کرسکتی ہے کہ کیسے ایک مخصوص ایپی جینیٹک مارک بچے کے ریٹروٹرانسپوسون پر پڑتا ہے۔ یہ ایپی جینیٹک وراثت کی طرح لگتا ہوگا لیکن درحقیقت بچوں نے ڈی این اے میتھائی لیشن براہ راست ماؤں سے وصول نہیں کی ہونگی۔ اسکی بجائے وہ ماں کی یوٹیرس میں ایک جیسے ماحول سے گزرے ہونگے۔

ان تجربات کے دوران سائنسدان یہ جانتے تھے کہ خوراک ان چوہوں کی رنگت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ جب حاملہ چوہوں کو ایسی خوراک کھلائی گئی جس میں میتھائل گروپ دینے والے کیمیکلز کثرت میں تھے تو مختلف رنگ کے بچوں کی شرح میں فرق دیکھا گیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کیونکہ خلیات کے پاس میتھائل گروپس کی فراہمی زیادہ تھی لہذاٰ وہ زیادہ میتھائی لیشن کے قابل ہوئے اور جین کے ابنارمل اظہار کو بند کردیا گیا۔ اسکا مطلب تھا کہ پروفیسر وائٹلا اور انکی ٹیم کو یوٹیرس کے اندرونی ماحول کے اثرات کو کنٹرول کرنے کیلئے کافی احتیاط کی ضرورت تھی۔

ایسے ہی ایک تجربے میں جو انسانوں پر کرنا ممکن نہیں ہے انھوں نے پیلی رنگت والی مادہ چوہوں سے فرٹیلائزڈ زائیگوٹ نکال کر سیاہ رنگت والی مادہ میں ڈال دئیے اور سیاہ رنگ والی مادہ سے زائیگوٹ نکال کر پہلی رنگت والی مادہ میں منتقل کردئیے۔ دونوں صورتوں میں بچوں میں رنگت کی شرح وہی تھی جو انکی اپنی بائیولوجیکل ماں سے منتقل ہونی تھی۔ اسکا مطلب تھا کہ یوٹیرس کا ماحول رنگت کو کنٹرول نہیں کررہا تھا۔ بریڈنگ کی پیچیدہ سکیموں کو استعمال کرتے انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ رنگت کے پیٹرن کہ وراثتی منتقلی انڈے کے سائٹوپلازم کی وجہ سے بھی نہیں تھی۔ لہذا اس ڈیٹا کی سادہ وضاحت یہی کی جاسکتی ہے کہ ایپی جینیٹک وراثت وقع پذیر ہوئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایپی جینیٹک ترمیم (ڈی این اے میتھائی لیشن کی صورت میں) جینیاتی کوڈ کیساتھ منتقل ہوئی تھی۔

فینوٹائپ کی ایک نسل سے دوسری میں منتقلی بالکل مکمل نہیں تھی۔ یعنی تمام بچے بالکل ماں کی طرح نہیں تھے۔ اسکا مطلب Agouti جین کو کنٹرول کرنے والی ڈی این اے میتھائی لیشن نسل درنسل منتقلی کے دوران بالکل مستحکم نہیں تھی۔ یہ بالکل انسانی آبادیوں میں نسل درنسل وراثت کی منتقلی (ڈچ ہنگر ونٹر) کی طرح ہے۔ اگر ہم بڑی تعداد میں سٹڈی گروپس کا جائزہ لیں تو مختلف گروپس میں بچوں کے وزن میں فرق نظر آتا ہے لیکن ہم کسی ایک فرد کے بارے میں قطعی پیش گوئی نہیں کرسکتے۔

ان چوہوں میں ایک غیر معمولی جنس مخصوص فینومینا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی جلد کی رنگت کا پیٹرن واقعی نسل درنسل اثر دکھاتا ہے جب ماں سے بچے میں منتقل ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک نر چوہا Avy ریٹروٹرانسپوسون کو بچوں میں منتقل کرتا ہے تو اس قسم کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ نر چوہا سیاہ ہے پیلا ہے یا کسی اور رنگ کا اسکے بچوں میں یہ سارے پیٹرن دیکھنے کو ملتے تھے۔

لیکن اسکے علاوہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایپی جینیٹک وراثت نر اور مادہ دونوں سے منتقل ہوتی ہے۔ مثلاً مڑی ہوئی دم کی فینوٹائپ باپ اور ماں دونوں سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہاں اس بات کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں کہ اس فینوٹائپ کی نسل درنسل وراثت یوٹیرس کے ماحول یا ساٹوپلازم کی وجہ سے ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا نر چوہے یہ اثر کبھی منتقل نہ کرتے۔ لہذاٰ اس بات کے امکانات زیادہ تھے کہ یہ فینوٹائپ دونوں والدین سے نسل درنسل منتقل ہورہی تھی۔

اسطرح کے ماڈل یہ ثابت کرنے کیلئے کافی مددگار ثابت ہوئے ہیں کہ غیر جیناتی فینوٹائپ کی نسل درنسل وراثتی منتقلی ہوتی ہے اور یہ ایپی جینیٹک ترامیم کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ واقعی ایک انقلابی دریافت ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کچھ مخصوص حالتوں میں لامارک کا وراثتی ماڈل لاگو ہورہا ہے اور اسکے پیچھے موجود مالیکولر میکانزم کو ہم سمجھ چکے ہیں۔ لیکن مڑی ہوئی دم اور agaouti فینوٹائپس دونوں چوہوں کے جینیوم میں موجود مخصوص ریٹروٹرانسپوسون پر انحصار کررہی ہیں۔ کیا یہ ایک مخصوص کیس ہے یا یہ اثر عمومی طور پر موجود ہے؟ ایک دفعہ پھر ہم ایسی چیز کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہم سب کیلئے ایک جیسی متعلقہ ہے، خوراک۔

موٹاپے کی ایپی جینیٹکس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ موٹاپے کا مرض بڑھتا جارہا ہے۔ یہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے خصوصاً صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ معاشروں میں اسکی شرح کافی زیادہ ہے۔ 2007 کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک بالغ انسان وزن کی زیادتی یا موٹاپے کا شکار ہے۔ امریکہ میں یہ شرح اور بھی خطرناک ہے۔ موٹاپے کا تعلق دیگر بیماریوں سے بھی ہے جیساکہ کہ دل کی بیماریاں اور ذیابیطس 2۔ چالیس سال سے زائد موٹاپے کا شکار افراد عام لوگوں کی نسبت اوسطاً سات سال پہلے فوت ہوجاتے ہیں۔

ڈچ ہنگر ونٹر اور دیگر قحط سے لیا گیا ڈیٹا اس بات کی تائید کرتا ہے کہ حمل کے دوران خوراک کی کمی بچوں کو اگلی کئی نسلوں تک متاثر کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں غذائیت میں کمی کے ایپی جینیٹک اثرات ہوتے ہیں۔ اوورکیلکس کے ڈیٹا کی وضاحت تھوڑی پیچیدہ ہے اسکے مطابق لڑکوں کی ایک خاص عمر میں حد سے زیادہ خوراک کے استعمال کے خطرناک اثرات اگلی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ موٹاپے کی اس وبا کے اثرات آنے والی نسلوں میں ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ہم مزید چالیس سال انتظار نہیں کرسکتے لہذاٰ سائنسدانوں نے جانوروں کے ماڈلز پر کام کرنا شروع کردیا ہےتاکہ معلومات حاصل کی جاسکیں۔

جانوروں کے ماڈلز سے حاصل ہونے والے پہلے ڈیٹا سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خوراک کوئی خاص نسل درنسل اثر نہیں ہوتا۔ جب چوہوں کو میتھائل گروپس کے حامل کیمیکلز دئیے گئے تھے تو رنگت کے پیٹرن میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسلوں میں منتقل نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن یہ ماڈل شاید بہت زیادہ مخصوص تھا۔ 2010 میں دو پیپر شائع ہوئے جنھوں نے ہمیں کچھ وقفہ لیکر سوچنے کیلئے مجبور کردیا۔ یہ پیپر دنیا کے دو بہترین جریدوں سیل اور نیچر میں شائع ہوئے۔ دونوں تحقیقات میں محققین نے نر جانوروں کو زیادہ کھلایا اور پھر اسکے اثرات دیکھے۔ نر جانداروں کی سیلیکشن کی وجہ سے انھیں یوٹیرس کے اندرونی ماحول اور سائٹوپلازم کے اثرات کی فکر نہیں تھی۔

ایک تجربے کےا ندر خاص قسم کی نسل کے چوہوں کو استعمال کیا گیا جو کہ البینو تھے ان کو زیادہ چربی والی خوراک کھلائی گئی اور ٹھنڈے ماحول میں رکھا گیا تاکہ ذیادہ چربی کیساتھ آرام سے رہ سکیں۔ ان نر چوہوں کو ایسی مادہ کیساتھ بریڈ کروایا گیا جوکہ عام خوراک کھاکر پلی تھی۔ جنکو زیادہ چربی والی خوراک کھلائی گئی تھی وہ موٹے تھے اور ذیابیطس کی علامتیں بھی ان میں موجود تھیں۔ لیکن ان سے پیدا ہونے والے بچے وزن میں نارمل تھے لیکن کچھ ذیابیطس کی طرح کی خرابیاں ان میں موجود تھیں۔ ان بچوں کےا ندر زیادہ تر وہ جینز متاثر تھے جو میٹابولزم پر اثرانداز ہوتے ہیں اور جو یہ تعین کرتے ہیں کہ جاندار اپنی کیلیوریز کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ مادہ بچے تھے جو یہ اثرات ظاہر کررہے تھے۔

ایک الگ گروپ نے خوراک کے اثرات کو سٹڈی کیا۔ نر چوہوں کو ایسی خوراک دی گئی جس میں پروٹین کم تھی اور شوگر زیادہ تھی۔ ان چوہوں کو نارمل خوراک پر پلنے والی مادہ کیساتھ بریڈ کروایا گیا۔ ماہرین نے انسے پیدا ہونے والے تین ہفتے کی عمر کے بچوں کے جگر کے اندر جینز کے اظہار کا جائزہ لیا۔ بہت سارے بچوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتائج آئے کہ زیادہ تر بچوں کے میٹابولزم والے جینز کی ریگولیشن میں تبدیلیاں تھیں۔ انھوں نے ان بچوں کے جگر میں ایپی ترامیم میں بھی تبدیلیاں دیکھیں۔

ان تجربات نے یہ بتایا کہ کم از کم چوہوں کی حد تک باپ کی خوراک بچے کی ایپی جینیٹک ترامیم، جینز کے اظہار اور صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ماحول کی وجہ سے نہیں ہے یہ انسانی مثال کی طرح نہیں ہے کہ ایک بچہ اس وجہ سے موٹاپے کا شکار ہوگیا کیونکہ اسکے والدین اسکو زیادہ فاسٹ فوڈز کھلاتے تھے۔ یہ براہ راست اثر ہے اور یہ اس قدر تواتر کیساتھ ہوتا ہے کہ یہ خوراک کی وجہ سے ہونے والی میوٹیشنز کی وجہ سے نہیں ہوسکتا۔ لہذا زیادہ ممکنہ وضاحت خوراک کی وجہ سے ہونے والی ایپی جینیٹک اثرات جوکہ باپ سے بچوں میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس تحقیق کا ڈیٹا خصوصاً اسکی تائید کررہا ہے۔

اگر ہم اس سلسلے میں تمام ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک پریشان کن پیٹرن سامنے آتا ہے ۔ جیساکہ پرانی کہاوت ہے کہ “ہم وہ ہیں جو ہم کھاتے ہیں” یہ بات پوری طرح درست نہیں۔ بلکہ ہم وہ ہیں جو ہمارے والدین نے کھایا اور اس سے پہلے انکے والدین نے کھایا۔

یہ ہمیں حیران کن طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیگا کہ کیا صحت مند زندگی کے حوالے سے کوئی نصیحت پر عمل کرنے کا فائدہ ہے۔ اگر ہم سب ایپی جینیٹکس کے فلسفہ جبریت کے شکار ہیں تو ہوسکتا ہے ہمارا پانسہ پہلے سے پلٹ چکا ہے اور ہم اپنے آباؤاجداد کے میتھائی لیشن پیٹرن کے رحم و کرم پر ہیں۔ لیکن یہ بہت ہی آسان ماڈل ہوجائیگا۔ کثیر تعداد میں ڈیٹا اس بات کی تائید کرتا ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت کی طرف سے دی جانے والی ہدایت یعنی سبزیوں، پھلوں کا زیادہ استعمال، تمباکو نوشی سے پرہیز، ورزش وغیرہ واقعی کارآمد اور ضروری ہیں۔ ہم پیچیدہ جاندار ہیں اور ہماری صحت اور طویل عمری پر ہمارے جینوم ، ایپی جینیوم اور ماحول سبکا اثر پڑتا ہے۔ لیکن یاد کریں بالکل سٹینڈرڈ ماحول میں رکھے گئے چوہوں کے اندر بھی رنگت اور موٹاپے کی شرح کے متعلق ہو بہو پیشںگوئ کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہم کیوں اپنی اچھی صحت اور طویل عمری کیلئے ہر ممکنہ اقدامات نہ کریں۔ اور اگر ہم بچے پیدا کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو کیا ہم نہیں چاہیں گے کہ انکی بہتر صحت کیلئے جو ممکن ہو وہ کریں ؟

ہمیشہ کچھ ایسی چیزیں ہونگی جن پر ہم قابو نہیں پا سکتے۔ ماحولیاتی فیکٹر جسکا ایپی جینیٹک اثر کئی نسلوں تک واضح پایا گیا اسکی بہترین مثال ایک ماحولیاتی زہر کی ہے۔ ونکلوزولن ایک فنجیسائیڈ ہے جو کہ زیادہ تر وائن انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہ ممالیہ جانداروں کے جسم میں داخل ہوجائے تو ایسے کیمیکل میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اینڈروجن ریسپٹر کیساتھ جڑ جاتا ہے۔ یہ وہ ریسپٹر ہے جسکے ساتھ ٹیسٹوسٹیرون جڑتا ہے، ٹیسٹوسٹیرون میل ہارمون ہے جو جنسی ڈیویلپمنٹ، سپرم کی پروڈکشن اور دیگر خصوصیات کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ جب ونکلوزولن اینڈروجن ریسپٹر کیساتھ جڑتا ہے تو یہ ٹیسٹوسٹیرون کو جڑنے سے روک دیتا ہے اور ٹیسٹوسٹیرون اپنے سگنلز خلیات تک نہیں پہنچا سکتا۔ اسطرح ٹیسٹوسٹیرون صحیح طور پر کام نہیں کرتا۔

اگر مادہ چوہوں کو ونکلوزولن حمل کے دوران دیا جائے تو پیدا ہونے والے بچوں کے ٹیسٹیز صحیح طرح بن نہیں پاتے اور انکی عمل تولید کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ اور اسی طرح کے اثرات اگلی تین نسلوں تک دیکھے گئے ہیں۔ نوے فیصد چوہے متاثرہ تھے اور یہ ریٹ جینوم کےاندر میوٹیشن کی وجہ سے نہیں ہوسکتا۔ جب جینوم کے اسی حصے میں میوٹیشن ریٹ دیکھا گیا تو وہ اس دس گنا کم تھا۔ اس تجربے میں صرف ایک نسل کو ونکلوزولن سے متاثر کروایا گیا تھا پھر بھی اسکے اثرات چار نسلوں تک موجود تھے۔ یہ لامارکئین وراثت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ ایپی جینیٹک وراثتی میکانزم کی ایک اور مثال ہوسکتی ہے۔ اسی ریسرچ گروپ کی طرف سے مزید شائع ہونے والی تحقیقات میں جینیوم کےا ندر حصوں کی نشاندھی کی گئی جہاں پر ونکلوزولن کی وجہ سے میتھائی لیشن پیٹرن تبدیل ہواتھا۔

ان تجربات کے اندر چوہوں کو ونکلوزولن کی بہت زیادہ مقدار سے متاثر کروایا گیا تھا۔ یہ اس مقدار سے زیادہ تھی جسکا انسان عام ماحول میں سامنا کر سکتے ہیں۔ اس قسم کے نتائج ہی کہ وجہ سے آج بہت سے ماہرین اس بات کی تحقیق کرنا شروع کررہے ہیں کہ کیا مصنوعی ہارمونز اور ہارمونز کو منتشر کرنے والے کیمیکلز (جوکہ مانع حمل گولیوں اور کیڑے اور جڑی بوٹی مار ادویات سے خارج ہوتے ہیں) کے اثرات انسانی آبادیوں میں نسل درنسل وراثت میں منتقل ہو سکتے ہیں۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں