93

ایپی جینیٹکسں: قسط۔ 19

ایپی جینیٹک امپرنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امپرنٹنگ کا مطلب جب دو میں سے صرف ایک جین ممبر کا اظہار ہو اور وہ ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے۔ جین کے آن ہونے کو کیا چیز کنٹرول کرتی ہے؟ ہمارے لئے یہ حیران کن نہیں ہوگا کہ ڈی این اے میتھائی لیشن اس میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ ڈی این اے میتھائی لیشن جینز کو آف کرتی ہے۔ لہذاٰ اگر باپ کی طرف سے وراثت میں منتقل ہونے والے ایک کروموسوم کے حصے ہر میتھائی لیشن موجود ہو تو اس حصے ہر موجود جینز آف ہونگے۔

چلیں UBE3A جین کی مثال لیتے ہیں جسکا تعارف ہم پریڈر ولی سینڈروم اور اینجل سینڈروم کیساتھ کر چکے ہیں۔ عام طور پر باپ کی طرف سے منتقل ہونے والی کاپی میٹھائی لیٹڈ ہوتی ہے اور جین آف ہوتا ہے۔ ماں کی طرف سے منتقل ہونے والی کاپی پر یہ میتھائی لیشن مارک نہیں ہوتا اور یہ جین آن ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح کا واقعہ igf2r جین کیساتھ چوہوں میں ہورہا ہوتا ہے۔ جن میں باپ سے منتقل ہونے والی کاپی میتھائی لیٹڈ اور آف ہوتی ہے اور ماں کی طرف سے آنے والی کاپی بغیر میٹھائی لیشن کے اور آن ہوتی ہے۔

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ میٹھائی لیشن اکثر جین کی باڈی کے اوپر نہیں ہوتی ہے۔ جین کا وہ حصہ جو پروٹین کو کوڈ کرتا ہے ایپی جینیٹیکلی وسیع طور پر ایک جیسا ہوتا ہے۔ جب ہم میٹرنل (ماں کی طرف سے) اور پیٹرنل (باپ کی طرف سے) کروموسومز کی کاپیوں کا موازنہ کرتے ہیں تو کروموسوم کا وہ حصہ جو پروٹین کی کوڈنگ کو کنٹرول کرتا ہے میٹرنل اور پیٹرنل جینوم میں الگ الگ طرح سے میٹھائی لیٹڈ ہوتا ہے۔

تصور کریں آپ اپنے دوست کے باغ میں گرمیوں کی ایک دعوت میں موجود ہیں جو رات کو منعقد کی گئی ہے۔ خوبصورت روشنیاں پودوں کے درمیان میں خوبصورتی اور ترتیب سے لگائی گئی ہیں ۔ لیکن مہمانوں کے گزرنے سے پاس لگا موشن ڈیٹیکٹر محرک ہوجاتا ہے ہے اور بار بار گھر کے اوپر لگی بڑی لائٹ روشن ہوجاتی ہے۔ یہ لائٹ دعوت کی رنگینیوں کو پھیکا کرتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس لائئٹ کو ڈھانپا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ بہت بلندی پر موجود ہے ۔ اچانک سے سب کو خیال آتا ہے کہ لائٹ کی بجائے انھیں اس سینسر کو ڈھانپنا چاہئیے جو بار بار لائٹ کو جلا رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی امپرنٹنگ میں ہوتا ہے۔

میتھائی لیشن جین کے ایک خاص حصے پر ہوتی ہے جسکو ICRs یا امپرنٹنگ کنٹرول ریجن کہا جاتا ہے۔ کچھ صورتحال میں امپرنٹنگ پیٹرن بہت سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا ہوتا ہے۔ والدین میں سے کسی ایک سے منتقل ہونے والے جین کا پروموٹر ریجن میتھائی لیٹڈ ہوتا ہے اور دوسرے کا نہیں ہوتا۔ میتھائی لیشن جینز کو آف کئیے رکھتا ہے۔ یہ کام کرتا ہے جب کروموسوم کے امپرنٹڈ ریجن میں صرف ایک جین ہو۔ لیکن اکثر امپرنٹڈ جینز گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں جوکہ کروموسوم کےا یک خاص حصے میں قریب قریب واقع ہوتے ہیں۔ اس گچھے میں سے کچھ جینز میٹرنل کروموسوم سے زیادہ ظاہر ہونگے اور کچھ پیٹرنل کروموسوم سے۔ ڈی این اے میتھائی لیشن اب بھی بنیادی فیکٹر ہے لیکن دوسرے فیکٹرز اسکی مدد کرتے ہیں۔

امپرنٹنگ کنٹرول ریجن لمبے فاصلے پر کام کرتا ہے اور کچھ حصے بڑی پروٹینز کو جوڑتے ہیں۔ پروٹینز شہروں میں موجود روڈ بلاکرز کا کام کرتی ہے اور کروموسوم کے مختلف حصوں کو الگ رکھتی ہیں۔ اس طرح سے جینز کے درمیان رکاوٹیں بنانے سے امپرنٹنگ کے عمل کو مزید نفاست ملتی ہے۔ اس وجہ سے ایک واحد امپرنٹنگ ریجن ہزاروں بیس کے جوڑوں پر کام کرتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ان ہزاروں بیسز میں ہر جین ایک ہی طرح سے متاثر ہو۔ ایک امپرنٹڈ کروموسوم ریجن پر مختلف جینز باہر کو نکل کر ایک دوسرے کیساتھ فزیکل تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ اس طرح دبے ہوئے جینز ایکدوسرے کیساتھ اکٹھے ہوکر ایک گرہ بناتے ہیں۔ اسی ریجن میں موجود فعال جینز ایک دوسرے کیساتھ ملکر ایک اور گٹھڑی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔

امپرنٹنگ کے اثرات مختلف ٹشوز پر مختلف ہوتے ہیں۔ پیلیسینٹا کےا ندر امپرنٹڈ جینز کا اظہار بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بالکل ہمارے امپرنٹنگ ماڈل جو کہ ماں کے وسائل کی ضروریات کے لحاظ سے توازن کا کام کرتا ہے کہ توقعات کے مطابق ہے۔ دماغ بھی امپرنٹنگ کے اثرات کے حوالے سے کافی حساس معلوم ہوتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ایسا کیوں ہے۔ دماغ میں جین کے اظہار کے پیرنٹ آف اوریجن کنٹرول اور غذائیت کی جنگ جسکا ذکر ہم کررہے ہیں کے درمیان مطابقت پیدا کرنا مشکل ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر گڈرن مور نے ایک دلچسپ تجویز دے رکھی ہے۔ انکے مطابق دماغ کے اندر کثیر تعداد میں موجود امپرنٹنگ پیدائش کے بعد جاری رہنے والی جنسوں کی جنگ کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ پروفیسر مور نے قیاس آرائی کی ہے کہ دماغ کے اندر کچھ امپرنٹنگ کے پیٹرن پیٹرنل جینوم کی طرف سے بچوں میں بعض رویوں کو فروغ دینے کی کوشش ہیں جس میں ماں کو تحریک دی جاتی ہے کہ وہ اپنے وسائل بچوں میں منتقل کرے مثلاً لمبے عرصے کیلئے بچوں کو اپنا دودھ پلانا۔

امپرنٹڈ جینز کی تعداد بہت کم ہے پروٹین کوڈنگ جینز کے ایک فیصد سے بھی کم۔ اور یہ ایک فیصد بھی تمام ٹشوز میں امپرنٹڈ نہیں ہونگے۔ بہت سے خلیات میں پیٹرنل اور میڑنل کروموسوم کا اظہار ایک جیسا ہوگا۔ یہ اس لئیے نہیں ہے کہ ٹشوز کے اندر میٹھائی لیشن پیٹرن مختلف ہوگا بلکہ اسلئے کیونکہ خلیات اس میتھائی لیشن کو الگ الگ طریقے سے پڑھیں گے۔

امپرنٹنگ کنٹرول ریجنز کے اوپر ڈی این اے میتھائی لیشن پیٹرن تمام خلیات میں موجود ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ کونسا خلیہ کس پیرینٹ سے منتقل ہوا ہے۔ اس اسے امپرنٹنگ ریجنز کے بارے ایک اور بات پتہ چلتی ہے کہ یہ سپرم اور ایگ کے ملاپ کے بعد زائیگوٹ کی تخلیق کے بعد ہونے والی پروگرامنگ سے بچ نکلتے ہیں۔ بصورت دیگر میتھائی لیشن ترامیم کو ختم کردیا جاتا اور خلیے کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا یہ بتانے کا کہ کونسا کروموسوم کس پیرینٹ سے آیا ہے۔ جیسے آئی اے پی ریٹروٹرانسپوسون پروگرامنگ کے دوران میتھائی لیشن کو برقرار رکھتے ہیں اسی طرح کسی میکانزم کے تحت امپرنٹنگ ریجنز بھی اس پروگرامنگ کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے لیکن یہ صحت اور نارمل ڈیولپمنٹ کیلئے ضروری ہے۔

یہاں ہر ایک مسئلہ ہے اگر امپرنٹڈ ڈی این اے میتھائی لیشن مارکس اتنے مستحکم ہیں تو یہ والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے وقت تبدیل کیوں ہوتے ہیں؟ پروفیسر عظیم سورانی کے تجربات سے ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے۔ ان تجربات میں ہم نے دیکھا کہ کیسے مخصوص حصوں پر میتھائی لیشن نسل درنسل وراثت میں تبدیل ہوتی ہے۔

دراصل جب سائنسدانوں نے اس بات کا پتہ لگالیا کہ پیرینٹ آف اوریجن ایفیکٹ کا وجود ہے تو انھوں نے پیش گوئی کی کہ کوئی ایسا میکانزم ہونا چاہیئے جس سے سے ایپی جینیٹک مارکس کو دوبارہ ترتیب دیا جاسکے۔ گوکہ اس وقت انھیں معلوم نہیں تھا کہ ایپی جینیٹک مارکس کیسے ہوتے ہیں۔ کروموسوم نمبر پندرہ کی مثال لیتے ہیں ایک خاتون نے ایک کاپی اپنی ماں سے اور دوسری اپنے والد سے وصول کی ہے۔ UBE3A امپرنٹنگ کنٹرول ریجن جو خاتون کی والدہ سے موصول ہوا اس پر میتھائی لیشن نہیں تھی اور اسی کی کاپی جو والد سے موصول ہوئی اس پر میتھائی لیشن موجود تھی۔ یہ UBE3A پروٹین کے درست اظہار کے پیٹرن کو اس خاتون کے دماغ میں یقینی بناتا ہے۔

جب اس خاتون کی اووریز انڈے بنائیں گی تو ہر انڈا ایک کروموسوم کی کاپی ایک پیرینٹ سے وصول کریگا جوکہ آگے بچوں میں منتقل ہونگے۔ اس خاتون کے ہر کرومو سوم پندرہ کی ایک کاپی پر UBE3A پر ماں کا امپرنٹنگ مارک موجود ہوگا لیکن دوسری کاپی کے اوپر پیٹرنل مارک بھی موجود ہوگا۔ واحد راستہ جس کے ذریعے درست میٹرنل مارک اس خاتون کے بچوں میں منتقل ہو یہ ہے کہ اسکے خلیات کے پاس ایک میکانزم موجود ہو جو پیٹرنل مارکس کو اتار کر میٹرنل مارک جوڑتا ہو۔ ایسا ہی عمل مردوں میں ہونا چاہیئے جو سپرم بننے کے وقت ہو۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے ۔ یہ ایک محدود عمل جو صرف جرم لائن خلیات تک ہوتا ہے۔

سپرم اور انڈے کی فیوژن کے بعد زائیگوٹ میں جینیوم کے تمام حصوں کی ریپروگرامنگ ہوتی ہے۔ خلیات تقسیم ہوتے ہیں ابتدائی پلیسینٹا سے لیکر مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اس مقام پر آئی سی ایم کے تمام خلیات واڈنگٹن کے ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ پر اپنے اپنے راستوں پر رواں دواں ہوتے ہیں۔ لیکن بہت کم تعداد میں (سو سے بھی کم) خلیات ایک اور جانب چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان خلیات میں ایک جین Blimp1 آن ہوجاتا ہے۔ اس جین سے بننی والی پروٹین خلیات میں ایک اور قسم کے سگنلز کے سلسلے کو شروع کردیتی ہے جو خلیات کو اپنی منزل کی طرف جانے سے روکتا ہے۔ یہ خلیات واڈنگٹن لینڈ سکیپ پر الٹی جانب چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں وہ امپرنٹڈ مارکس بھی ختم کردئیے جاتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کونسا کروموسوم کونسے پیرینٹ سے آیا یے۔

یہ منحرف خلیات کی آبادی پرائمورڈیل جرم سیلز کہلاتی ہے۔ اور یہی خلیات آگے چل کر گونیڈز یعنی اووریز اور ٹیسٹیز بناتے ہیں۔ اور جین خلیات بطور سٹیم سیلز کام کرتے ہیں اور سپرم اور انڈے بناتے ہیں۔ واڈنگٹن لینڈ سکیپ پر الٹ سمت سفر کرنے والے یہ خلیات دراصل پلوریپوٹنٹ بن رہے ہیں اور یہ جسم کے تمام خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ پرائموڈیل جرم سیلز بڑی جلدی ایک اور راستے میں چلے جاتے ہیں جہاں یہ سپرم اور ایگ میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے یہ خلیات نئی ایپی جینیٹک ترامیم حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ترامیم وہ ہیں جو خلیات کی شناخت کا تعین کرتے ہیں مثلاً ان جینز کا آن ہونا جو انڈے کو انڈا بناتی ہیں۔ لیکن محدود تعداد بطور پیرینٹ آف اوریجن مارکس کام کرتی تاکہ اگلی نسل میں جینوم کے امپرنٹڈ حصوں کی شناخت بطور پیرینٹ آف اوریجن کے ہوسکے۔

یہ انتہائی پیچیدہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک سپرم کے انڈے کو فرٹیلائز کرنے سے لیکر نئے پیدا ہونے والے فرد میں سپرم بننے کے سفر کو دیکھیں تو ترتیب کچھ اسطرح ہوتی ہے۔

✓ انڈے میں داخل ہونے والے سپرم میں ایپی جینیٹک ترامیم موجود ہوتی ہیں۔
✓ ابتدائی زائیگوٹ میں یہ ترامیم اتار لی جاتی ہیں سوائے امپرنٹڈ حصوں کے۔
✓ جب آئی سی ایم خلیات مخصوص ہونے لگتے ہیں تو ترامیم دوبارہ کردی جاتی ہیں۔
✓ جب پرائیموڈیل جرم سیلز ڈیولپمنٹل راستے سے منحرف ہوتے ہیں تو امپرنٹڈ حصوں سمیت تمام جینوم سے ترامیم ختم کردی جاتی ہیں۔
✓ جب سپرم بنتا ہے تو ایپی جینیٹک ترامیم کردی جاتی ہیں۔

یہ اس مقام سے جہاں ہم نے شروعات کی تھی دوبارہ واپس آنے کا ایک غیرضروری طور پر پیچیدہ راستہ لگتا ہے لیکن یہ ضروری ہے۔

وہ ترامیم جو سپرم کو سپرم اور انڈے جو انڈا بناتی ہیں انکا خاتمہ سٹیج 2 پر ضروری ہے ورنہ زائیگوٹ ٹوٹی پوٹینٹ نہیں ہوگا۔ اگر وراثتی ترامیم برقرار رہیں تو ڈیولپمنٹ ممکن نہیں ہوپائیگی۔ لیکن پرائمورڈیل جرم سیلز بنانے کیلئے تقسیم ہونے والے آئی سی ایم خلیات سے کچھ کو ایپی جینیٹک ترامیم ختم کرنا پڑیں گی۔ تاکہ یہ خلیات عارضی طور پر زیادہ پلوریپوٹنٹ ہوسکیں اور اپنے امپرنٹنگ مارکس کو ختم کرکے جرم سیلز کے راستے میں داخل ہوسکیں۔

جیسے ہی پرائمورڈیل جرم سیلز کا انحراف ہوتا ہے ایپی جینیٹک ترامیم دوبارہ کردی جاتی ہیں۔ ایسا اس لئیے بھی ہوتا ہے کیونکہ کثیر خلوی جانداروں کی ڈیولپمنٹ کے دوران پلوریپوٹنٹ خلیات زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ہمارے جسم سے ایسے خلیات کا ہونا جو بار بار تقسیم ہوں اور کسی بھی قسم کے خلیہ میں تبدیل ہوسکیں ایک زبردست تصور لگتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس قسم کے خلیات ہمیں کینسر میں ملتے ہیں۔

کبھی کبھی اس قسم کی امپرنٹنگ کے اندر غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ اینجل سینڈروم اور پریڈر ولی سینڈروم کی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں جرم سیل سٹیج پر امپرنٹ کو صحیح طرح سے نہیں اتا را گیا۔ مثلاً ایک عورت ایسے انڈے پیدا کرسکتی ہے جن میں کرومو سوم پر ابھی تک پیٹرنل مارک موجود ہو۔ جب اس قسم کا انڈا کسی سپرم سے فرٹیلائز ہوگا تو دونوں کاپیاں کروموسومز پیٹرنل کی طرح ہونگی اور یونی پیرینٹل ڈائسومی کی طرح فینوٹائپ سامنے آئیگی۔

اس پر ریسرچ جاری ہے کہ یہ سارے عوامل کیسے کنٹرول ہوتے ہیں۔ ہم پوری طرح سے نہیں جانتے کہ کیسے سپرم اور انڈے کی فیوژن کے بعد امپرنٹس برقرار رہتے ہیں۔ ناہی ہمیں یہ پوری طرح معلوم ہے کہ کیسے جرم سیل سٹیج میں امپرنٹس ختم ہوجاتے ہیں۔ ہم اس بارے بھی اطمینان سے نہیں بتاسکتے کہ کسیے یہ امپرنٹس اپنی درست جگہ ہر واپس آجاتے ہیں۔ تصویر ابھی دھندلی ہے لیکن تفصیلات غبار سے باہر آنا شروع ہوچکی ہیں۔

اس میں سپرم کے جینوم پر موجود ہسٹون کی شرح کا کردار بھی ہوسکتا ہے۔ ان میں سے بہت سی ہسٹونز امپرنٹنگ کنٹرول ریجن پر پائی جاتی ہیں اور شاید سپرم اور انڈے کی فیوژن کے بعد ریپروگرامنگ سے بچاتی ہیں۔ ہسٹون ترامیم گیمیٹس کی پروڈکشن کے دوران نئے امپرنٹس مستحکم کرنے کے حوالے سے بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ امپرنٹنگ کنٹرول ریجنز وہ تمام ہسٹون ترامیم ختم کرتے ہیں جو جینز کے آن ہونے سے تعلق رکھتی ہیں تب ہی نئی مستقل ڈی این میتھائی لیشن کی جاسکتی ہے۔ یہی ڈی این اے میتھائی لیشن ہے جو ایک جین کو ریپریسیو امپرنٹ مارک دیتی ہے۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں