81

ایپی جینیٹکسں: قسط۔ 18

(جنسوں کی جنگ)

لیبارٹری سٹک انسیکٹ (Carausius morosus) ایک مشہور پالتو جانور ہے۔ جب تک اسکے پاس کھانے کیلئے پرائیوٹ نامی پودے کے کچھ پتے موجود ہوں یہ اس پر قناعت کرتا ہے اور کچھ ماہ بعد انڈے دینا شروع کردیتا ہے۔ مطلوبہ عرصے میں ان میں سے چھوٹے چھوٹے سٹک انسیکٹ نکل آتے ہیں۔ اگر باہر نکلتے ہی ایک بچے کو الگ کردیا جائے اور ایک الگ جگہ رکھا جائے تو کچھ عرصہ بعد یہ بھی انڈے دینا شروع کردیگا اور یہ سائیکل چلتا رہیگا۔ باوجود اسکے کہ اس نے کسی دوسرے انسیکٹ سے ملاپ نہیں کیا ہے۔

یہ کیڑے اکثر اس طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔ اس میکانزم کو پارتھینوجینیسز کہا جاتا ہے جو یونانی زبان کا لفظ ہے جسکا مطلب کنواری پیدائش ہے۔ مادہ بغیر کسی نر سے ملاپ کئیے فرٹائل انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں۔ ان کیڑوں میں یہ خاص میکانزم پیدا ہوا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بچوں میں کروموسومز کی تعداد درست ہو۔ لیکن یہ تمام ماں کی طرف سے آتے ہیں۔

یہ چوہوں اور انسانوں سے بالکل مختلف ہے جیسے ہم نے اس سے پہلے دیکھا ہے۔ انسانوں اور چوہوں میں بچہ پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ماں اور باپ دونوں سے ڈی این اے آنا چاہیئے۔ یہ قیاس کرنا پرکشش لگتا ہے کہ سٹک انسیکٹ انتہائی غیر معمولی ہیں لیکن یہ نہیں ہیں۔ ہم ممالیہ جاندار اس سے مستثنیٰ ہیں۔ حشرات، مچھلیاں، ایمفیبئنز ، ریپٹائلز اور پرندوں کی کچھ انواع ایسی موجود ہیں جو پارتھینوجینیسز سے بچے پیدا کرتی ہیں۔ یہ ممالیہ جانور ہیں جو ایسا نہیں کرتے ہیں۔ جانوروں کے کنگڈم میں یہ ہماری کلاس ہے جو انوکھی ہے۔ لہذا یہ پوچھنا سمجھ میں آتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ہم ان خصوصیات کو دیکھنے سے شروع کرسکتے ہیں جو صرف ممالیہ جانداروں میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بال ہوتے ہیں، درمیانی کان میں تین ہڈیاں ہوتی ہیں یہ خصوصیات دوسری کلاسز میں نہیں پائی جاتیں۔ لیکن یہ کہنا بالکل درست نہیں ہوگا کہ انکی وجہ سے ممالیہ جاندار کنواری پیدائش کے قابل نہیں ہیں۔

ممالیہ جانداروں میں بالکل الگ جاندار ڈک بلڈ پلیٹیپس ، اور خار پشت ہیں جو انڈے دیتے ہیں۔ اسکے بعد پیچیدگی کے لحاظ سے مارسوپئیل جانور آتے ہیں کینگرو اور تسمانیین ڈیول وغیرہ۔ انکے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو کافی کمزور حالت میں ہوتے ہیں۔ انکے بچے اپنی ڈیولپمنٹ کے زیادہ تر مراحل ماں کے پیٹ سے باہر تھیلی میں پوری کرتے ہیں۔ یہ تھیلی انکے جسم کے باہر موجود ہوتی ہے۔

ابھی تک ہماری کلاس کے اکثریت جانور پلیسینٹل یا یوتھیرین میملز کہلاتے ہیں۔ انسان، ٹائیگر، چوہے اور بلیو وہیل ہم سب اپنے بچوں کی ایک ہی طرح سے نشونما کرتے ہیں۔ ہمارے بچے ماں کی رحم میں ایک
لمبے نشوونما کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ اس نشوونما کے مرحلے کے دوران بچے اپنی خوراک پلیسینٹا کے ذریعے لیتے ہیں۔ یہ بڑی پینکیک کی طرح کی ساخت بچے اور ماں کے خون کے نظام کے درمیان انٹرفیس کا کام کرتی ہے۔ خون درحقیقت ایک سے دوسرے کی طرف نہیں بہتا ۔ بلکہ دونوں خون کے نظام ایک دوسرے کے اتنے قریب سے بہتے ہیں کہ شوگر ، نمکیات، امائنو ایسڈ، وٹامن وغیرہ ماں کے خون سے بچے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ آکسیجن بھی اسی طرح ماں کے خون سے بچے میں جاتی ہے۔ اسکے مقابلے میں بچے کے خون سے فالتو مادے اور زہریلے مادے ماں کے نظام ترسیل میں چلے جاتے ہیں۔

یہ ایک متاثر کن نظام ہے اور ممالیہ جانوروں کو ابتدائی ڈیولپمنٹ کے دوران اپنے بچوں کی پرورش کے قابل بناتا ہے۔ ہر حمل کے دوران نئی پلیسینٹا بنتی ہے اور اسکا کوڈ ماں کے پاس نہیں ہوتا۔ بالکہ بچہ اسکو کوڈ کرتا ہے۔ ابتدائی بلاسٹوسائٹ کے ہمارے ماڈل کو دوبارہ یاد کریں۔ بلاسٹوسائٹ کے تمام خلیات یک خلوی فرٹیلائزڈ زائیگوٹ سے بنتے ہیں۔ وہ خلیات جو آخرکار پلیسینٹا بناتے ہیں وہ ٹینس بال خلیات ہیں جو بلاسٹوسائٹ کے باہر موجود ہیں۔ دراصل ان ابتدائی فیصلوں میں سے ایک جوکہ خلیات تب کرتے ہیں جب وہ واڈنگٹن لینڈ سکیپ سے نیچے لڑھکنا شروع کرتے ہیں یہ ہوتا ہے کہ، وہ پلیسینٹا کے خلیات میں تبدیل ہونگے یا پھر مستقبل کے جسمانی خلیات میں۔

ہم اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلیسینٹا خوراک کی ترسیل کیلئے فائدہ مند ہے لیکن اسکے بھی مسائل ہیں۔ سیاسی زبان میں بات کریں تو مفادات کا تصادم ہے۔ نر کیلئے ضروری ہے کہ بچے کی جسامت بڑی سے بڑی ہو تاکہ اگر اسکو دوبارہ جنسی ملاپ کا موقع نہ ملے تو زیادہ بہتر طریقے سے اسکے جینز آگے منتقل ہوں۔ دوسری طرف مادہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ساری توانائی اسی ایک بچے پر نہ صرف کردے بلکہ اس کے لئے ایک سے زیادہ حمل بہتر ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی جینوم برتری نہ لینے پائے۔ اسکو ہم اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں اگر ہم دوبارہ عظیم سورانی، ڈیور سوبیل اور بروس کیٹاناچ کے کام کو دیکھیں۔ یہ وہ سائنسدان ہیں جنھوں نے چوہوں کے زائیگوٹ تیار کئیے جن میں یا باپ کا ڈی این اے تھا یا صرف ماں کا۔

ٹیسٹ ٹیوب زائیگوٹ بنانے کے بعد ان سائنسدانوں نے اسکو مادہ کی رحم میں ڈالا۔ ان میں سے کسی لیب نے زائیگوٹ میں زندہ چوہا نہیں بنایا ۔ زائیگوٹ کی ڈیولپمنٹ ہوئی بعض دفعہ لیکن ابنارمل طریقے سے۔ ابنارمل ڈیولپمنٹ بھی مختلف تھی اور اس بات پر منحصر تھی کہ تمام کروموسومز باپ سے آرہے ہیں یا ماں سے۔

دونوں صورتوں میں جو بھی چند ایمبریو بنے چھوٹے اور کم گروتھ کے حامل تھے۔ جہاں تمام کروموسومز ماں کی طرف سے آتے وہاں پلیسینٹل ٹشوز صحیح طرح سے ڈیولپ نہیں ہوئے تھے۔ اگر تمام کروموسومز باپ کی طرف سے آتے تو ایمبریو کی ڈیولپمنٹ مزید خراب ہوتی لیکن پلیسینٹل ٹشوز کی پروڈکشن زیادہ ہوتی۔ سائنسدانوں نے ان دونوں قسم کے خلیات کے مکس سے ایمبریوز پیدا کئیے لیکن یہ ایمبریو بھی ڈیولپ نہیں ہوسکے۔ جب جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ ایمبریو کے تمام ٹشوز ماں کے ڈی این اے کے حامل خلیات سے تھے اور پلیسینٹل ٹشوز سارے باپ کے ڈی این اے کے حامل خلیات سے تھے۔

یہ تمام ڈیٹا ثابت کرتا ہے کہ مرد کے کروموسومز کے اندر کچھ ایسا ہوتا ہے جو ڈیولپمنٹل پروگرامنگ کو پلیسینٹا کی طرف دھکیلتا ہے۔ اور ماں کی طرف سے آئے جینوم کے اندر پلیسینٹا کی طرف رغبت کم اور ایمبریو کی طرف زیادہ ہوتی ہے۔ پلیسینٹا ماں سے خوراک لینے اور بچے کو منتقل کرنے کا ایک پورٹل ہے۔ باپ سے آئے کروموسوم پلیسینٹا کی ڈیولپمنٹ کو فروغ دیتے ہیں اور جتنا ممکن ہوسکے غذائیت ماں سے بچے کو منتقل کرتے ہیں۔ جبکہ ماں کے کرومو سوم اسکے الٹ کا کرتے ہیں۔

ایک ظاہری سوال یہ ہے کہ کیا تمام کروموسومز ان اثرات کےلئے اہم ہیں۔ بروس کیٹاناچ نے چوہوں کے اوپر پیچیدہ تجربات ڈیزائن کئیے۔ چوہوں کے اندر مختلف طریقوں سے دوبارہ مرتب کئیے گئے کروموسومز موجود تھے۔ سادہ الفاظ میں تمام چوہوں کے اندر کروموسومز کی تعداد درست تھی لیکن یہ غیر معمولی طریقے سے ترتیب دئیے گئے تھے۔ وہ ایسے چوہے تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا جن میں کروموسومز کی وراثت میں عین مطابق غیرمعمولی پن موجود ہوتا۔ مثلاً ایسے چوہے جن میں کسی خاص کروموسومز کی دونوں کاپیاں والدین میں سے کسی ایک سے آئی تھیں۔

پہلے تجربات میں چوہے کے کروموسوم نمبر 11 کو استعمال کیا گیا۔ باقی تمام کروموسومز کے حوالے سے چوہوں نے ایک کروموسوم ماں اور ایک باپ سے لیا تھا۔ لیکن بروس کیٹاناچ کے تجربات میں پیدا کئیے جانے والے چوہے نے کروموسوم نمبر گیارہ کی دونوں کاپیاں ماں سے وصول کی تھیں۔

ایک دفعہ پھر یہ اس ماڈل کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے کہ باپ کے کروموسوم کے اندر خصوصیات ہیں جو بچے کی بڑی جسامت کہ ڈیولپمنٹ کو فروغ دیتے ہیں۔ ماں کے کروموسومز میں موجود خصوصیات یا تو الٹ سمت میں کام کرتی ہیں یا پھر نیوٹرل ہوتی ہیں۔

جیساکہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ یہ خصوصیات ایپی جینیٹک ہیں ناکہ جینیٹک۔ اوپر بیان کی گئی مثال میں فرض کریں کہ تمام والدین انبریڈ چوہوں کے سٹرین سے ہیں اور جینیاتی طور پر ایک جیسے ہیں۔ اگر تینوں اقسام کے بچوں میں کروموسوم نمبر گیارہ کی دونوں کاپیوں کو دیکھا جاتا تو دونوں بالکل ایک جیسی ہوتیں۔ انکے اندر وہی چار بیسز لاکھوں کی تعداد میں اسی ترتیب میں موجود ہونگی۔ کروموسوم نمبر گیارہ کی دونوں کاپیاں فعالیاتی سطح پر مختلف برتاؤ کرتی ہیں۔ اسی لئیے ماں کی طرف سے آنے والے کروموسوم نمبر گیارہ اور باپ کی طرف سے آنے والے کروموسوم نمبر گیارہ میں ایپی جینیٹک اختلافات موجود ہیں۔

جنسی تفریق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ کروموسوم کی دونوں کاپیاں اپنے اپنے پیرنٹ آف اروریجن کی بنیاد پر الگ الگ برتاؤ کررہی تھیں۔ کروموسوم گیارہ کو امپرنٹڈ کروموسوم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے اوریجن کی معلومات کیساتھ امپرنٹڈ ہوتا ہے۔ کروموسومز کے اوپر بڑے حصے ایسے ہیں جہاں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کروموسوم کہاں سے آیا ہے۔ اسی طرح ایسے حصے بھی ہیں جو دونوں والدین سے ایک جیسے ہیں۔ ایسے کروموسومز بھی ہیں جو مکمل طور پر امپرنٹنگ سے خالی ہیں۔

امپرنٹڈ ریجنز جینوم کے وہ حصے ہیں جہاں ہم بچوں کے اندر پیرنٹ آف اوریجن ایفیکٹ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ حصے اس اثر کو کیسے لیکر چلتے ہیں۔ امپرنٹڈ ریجنز کے اندر کچھ جینز اپنی وراثت کے لحاظ سے آف ہوتے ہیں یا پھر آن ہوتے ہیں۔ اوپر بیان کی گئی مثال میں کروموسوم گیارہ جوکے باپ سے منتقل ہوتا ہے اس میں پلیسینٹا کی گروتھ کے جینز آن ہوتے ہیں اور کافی فعال بھی ہوتے ہیں۔ یہ ماں کےلئے مسئلہ پیدا کرتا ہے کیونکہ اسطرح سے خوراک کا زیادہ استعمال ہوگا لہذا اس سے نمٹنے کیلئے انکے اندر میکانزم بھی موجود ہے۔ ماں کے اندر یہ جینز آف ہوتے ہیں لہذا یہ پلیسینٹا کی گروتھ کو کم کرتے ہیں یا پھر کچھ ایسے جینز ہونگے جو باپ کے جینز کے اثرات کو برابر کرتے ہیں اور یہ جینز ماں کے کرومو سوم پر ہونگے۔

ان اثرات کی مالیکیولر بیالوجی کو سمجھنے کیلئے بہت کام ہوا ہے ن مثلاً بعد میں آنے والے محققین نے چوہوں کے اندر کروموسوم نمبر سات پر کام کیا ۔ اس کروموسوم کے ایک حصے کے اندر ایک جین ہے جسکو Igf2 انسولین لائک گروتھ فیکٹر ٹو کہا جاتا ہے۔ یہ جین ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے اندر کردار ادا کرتا ہے۔ اور اسکا اظہار صرف باپ کی طرف سے وراثت میں منتقل ہونے والے کروموسوم سے ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس جین کے اندر میوٹیشن پیدا کی جسکی وجہ سے نارمل Igf2 پروٹین پیدا نہیں ہوتی تھی اور اس میوٹیشن کے اثرات بچوں پر دیکھے گئے۔ جن چوہوں کے اندر یہ میوٹیشن ماں کے کرومو سوم سے منتقل ہوتی تھی وہ باقی چوہوں کی طرح ہی ہوتے تھے۔ کیونکہ ماں کے کرومو سوم پر یہ جین ویسے ہی آف ہوتا ہے لہٰذا اس میوٹیشن سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ لیکن جب میوٹیشن باپ کے کرومو سوم سے منتقل ہوتی تو ان چوہوں کی جسامت باقیوں کی نسبت بہت چھوٹی ہوتی تھی۔ یہ اس وجہ سےہے کیونکہ جین کی جس اکلوتی کاپی کے اوپر انکی گروتھ کا انحصار تھا وہ میوٹیشن کی وجہ سے آف ہوگئی تھی۔

چوہوں کے کروموسوم نمبر سترہ کے اوپر ایک جین ہے جسکو igf2r کہتے ہیں اور یہ Igf2 پروٹین کے بطور گروتھ پروموٹر کے کام کو بند کرتی ہے۔ یہ جین بھی امپرنٹڈ ہے کیونکہ اسکا اثر Igf2 کے بالکل الٹ ہے یعنی یہ گروتھ کو روکتی ہے۔ اور اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس جین کے اظہار کروموسوم نمبر سترہ کی ماں کی طرف سے آنے والی کاپی سے ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے چوہوں کے اندر سو امپرنٹڈ جینز کی نشاندھی کی ہے اور اس سے آدھی تعداد انسانوں میں دیکھی گئی ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ واقعی انسانوں میں اسکی تعداد کم ہے یا پھر تجرباتی طور پر اسکی نشاندھی مشکل ہے۔ امپرنٹنگ ایک سو پچاس ملین سال پہلے وجود میں آئی اور یہ زیادہ تر پلیسینٹل ممالیہ جانداروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ پارتھینوجینیسز سے بچے پیدا کرنے والے جانداروں میں موجود نہیں ہے۔ امپرنٹنگ ایک پیچیدہ میکانزم ہے اور ہر پیچیدہ مشینری کی طرح یہ خراب ہوسکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں اس میکانزم میں خرابیوں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

جب امپرنٹنگ خراب ہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پریڈر ولی سینڈروم PWS ہر دوہزار میں سے ایک پیدائش کو متاثر کرتا ہے۔ متاثرہ بچے کا وزن کم ہوتا ہے اور مسلز بھی کمزور ہوتے ہیں۔ نوزائیدہ بچپن میں ان بچوں کو خوراک کھلانا ممکن نہیں ہوتا اور ان میں بڑھوتری نہیں ہوپاتی۔ لیکن یہ علامات آگے چل کر الٹ ہوجاتی ہیں۔ بچے لگاتار بھوکے ہوتے ہیں، زیادہ کھالیتے ہیں اور اسطرح خطرناک حد تک موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ دیگر علامات یعنی چھوٹے ہاتھ پاؤں، زبان کا دیر سے ڈیولپ ہونا، بانجھ پن کیساتھ ذہنی معذوری بھی موجود ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ برتاؤ میں خرابیاں جیسے غصے کا بہت زیادہ آنا جیسی علامات بھی موجود ہوتی ہیں۔

ایک اور بیماری جو کہ PWS جتنی تعداد کو متاثر کرتی ہے اور جسکا نام بھی اسکی سب سے پہلے تشخیص کرنے والے کے نام پر رکھا گیا ہے اینجل مین سینڈروم ہے۔ اس بیماری کا شکار بچے شدید ذہنی معذوری دماغ کے چھوٹے ہونے اور بولنے کی محدود صلاحیت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بچے بغیر کسی وجہ کے زور زور سے ہنستے ہیں۔ ان دونوں بیماریوں میں ریسرچ کے مطابق والدین بالکل صحت مند ہوتے ہیں اور یہ خرابی کروموسومز کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ والدین میں علامات نہیں ہوتی ہیں لہذا ضروری ہے کہ یہ خرابی سپرم اور انڈے کی تیاری کے وقت پیدا ہوتی ہے۔

1989 کے اندر محققین نے PWS کی وجوہات کی کھوج کی۔ انھوں نے جینیوم کے ان حصوں کا جائزہ لیا جو صحت مند بچوں اور اس بیماری کا شکار بچوں میں الگ الگ تھے۔ AS پر تحقیق کرنے والے سائنسدان بھی اسی طرح کا کچھ کر رہے تھے۔ 1980 کی دہائی میں یہ سامنے آیا کہ دونوں گروپس جینوم کے ایک ہی حصے کو دیکھ رہے تھے۔ یہ کروموسوم نمبر پندرہ کا ایک خاص حصہ تھا اور متاثرہ بچوں کے اندر اس حصے میں سے ایک ٹکڑا غائب تھا۔

لیکن یہ دونوں بیماریاں بالکل مختلف تھیں اور ماہرین آسانی کے ساتھ ان کی فرق بیان کرسکتے تھے۔ کیسے ایک ہی جینیاتی مسئلہ جینوم میں کروموسوم نمبر پندرہ سے ایک ہی حصے کے غائب ہونا الگ الگ علامات ظاہر کررہا تھا؟

1989 میں بوسٹن کے چلڈرن ہسپتال کے ایک گروپ نے ثابت کیا کہ یہ ڈیلیشن اتنی اہم نہیں تھی بلکہ یہ تبدیلی کس طرح وراثت میں منتقل ہوتی ہے یہ اہم تھا۔ جب یہ ابنارمل کروموسوم باپ سے وراثت میں منتقل ہوتا تو بچوں میں PWA کی علامات ظاہر ہوتیں۔ اور اگر یہی کروموسوم ماں کی طرف سے منتقل ہوتا تو بچوں میں AS کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی۔

یہ بیماری کی ایپی جینیٹک وراثت کا ایک بالکل واضح ثبوت تھا۔ پریڈر ولی سینڈروم اور اینجل سینڈروم کے شکار بچے دونوں کے اندر ایک ہی جینیاتی مسئلہ تھا ۔ دونوں میں کروموسوم نمبر پندرہ سے ایک خاص حصہ غائب تھا۔ لیکن واحد فرق یہ تھا کہ کہ دونوں بچے یہ کروموسوم کس سے وراثت میں منتقل کرتے ہیں۔ یہ پیرنٹ آف اوریجن ایفیکٹ کی ایک اور مثال ہے۔

ایک اور ذریعہ بھی ہے جس سے بچے یہ دونوں سینڈروم وراثتی طور پر لے سکتے ہیں۔ ایسے مریض بھی ہیں جن میں کروموسوم نمبر پندرہ کی دونوں کاپیاں بالکل درست ہیں اور ان میں کسی قسم کی ڈیلیشن یا میوٹیشن موجود نہیں ہوتی۔ اسکو سمجھنے کیلئے اس چوہے کو ذہن میں لائیے جو کروموسوم نمبر گیارہ کی دونوں کاپیاں والدین میں سے ایک ہی سے وصول کرتا ہے۔ PWS پر تحقیق کرنے والے انھی سائنسدانوں میں سے چند نے یہ دریافت کیا کہ اس بیماری کا شکار بچوں میں کروموسوم نمبر پندرہ کو دونوں کاپیاں صحیح موجود ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ماں کی طرف سے منتقل ہوتی ہیں۔ اسکو یونیپیرنٹل ڈائسومی کہا جاتا ہے جس میں ایک ہی فرد دو کروموسوم منتقل کرتا ہے۔ 1991 میں انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ لندن کی ایک ٹیم نے یہ دکھایا کہ AS سینڈروم کے کچھ کیسز میں کروموسوم نمبر پندرہ کی دونوں کاپیاں باپ کی طرف سے منتقل ہورہی تھیں۔

اس سے مزید اس بات کو تقویت ملی کہ یہ دونوں سینڈروم دراصل ایپی جینیٹک بیماریاں ہیں۔ ان بچوں کے تمام جینز اپنی صحیح تعداد اور حالت میں موجود تھے پھر بھی یہ شدید علامات کا شکار تھے۔ کروموسوم نمبر پندرہ کا یہ چھوٹا سا حصہ جو عموماً صحیح حالت میں منتقل ہوتا ہے کیونکہ یہ امپرنٹڈ ہوتا ہے۔ اس ریجن میں جینز موجود ہیں جو یا تو ماں کی طرف سے ظاہر ہوتے ہیں یا پھر صرف باپ کی طرف سے۔ ایسا ہی ایک جین UBE3A یہ دماغ کی نارمل فعالیت کیلئے اہم ہے اور یہ صرف ماں کی طرف سے آنے والے کروموسوم سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر یہ کاپی بچہ اپنی ماں سے وصول نہیں کرتا تو کیا ہوتا ؟ اس صورت میں دونوں کاپیاں باپ سے منتقل ہوتی ہیں یا پھر ماں سے ایک کاپی منتقل ہوتی ہے لیکن اس میں میوٹیشن موجود ہوتی ہے۔
ان دونوں صورتوں میں یہ UBE3A پروٹین نہیں بنیگی اور اینجل مین سینڈروم کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی۔

اسی طرح SNORD116 نامی جین صرف باپ کی طرف سے منتقل ہونے والی کروموسوم نمبر پندرہ کی کاپی سے ہی اپنا اظہار کرتا ہے۔ اور اگر یہ جینز باپ کی طرف سے منتقل نہ ہو یا پھر اس میں میوٹیشن ہوجائے تو پریڈر ولی سینڈروم کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

انسانوں میں امپرنٹنگ کی بیماریوں کی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ ان میں سے مشہور بیک وِتھ وِڈیمن سنڈروم ہے۔ اس بیماری میں بچوں کے مسلز کی گروتھ ضرورت سے زیادہ ہوتی مثلاً زبان کی لمبائی عموماََ اکثر زیادہ ہوتی ہے۔ عام حالت میں کروموسوم نمبر گیارہ پر ایک جین صرف باپ سے آنے والے کرومو سوم سے ہی ایکسپریس ہوتا ہے ۔ لیکن جب امپرنٹنگ میں غلطی ہو تو ماں اور باپ سے آنے والی دونوں کاپیاں آن ہوجاتی ہیں۔ اہم جین IGF2 ہے جوکہ گروتھ فیکٹر پروٹین کو کوڈ کرتی ہے جس سے ہم پہلے ملاقات کر چکے ہیں۔ جب ایک کی بجائے دو کاپیاں اپنا اظہار کرتی ہیں تو دگنی مقدار میں گروتھ فیکٹر پروٹین بنتی ہے جس سے گروتھ زیادہ ہوجاتی ہے۔ اسکا ایک کاٹ کیس سلور رسل سینڈروم ہے جوکہ اسی جین کیساتھ منسلک ہے لیکن اس میں جینز آف ہوجاتے ہیں اور گروتھ نہیں ہوپاتی اس بیماری میں بچوں میں پیدائش سے پہلے اور بعد میں بڑھوتری کی رفتار بہت کم ہوتی ہے۔
(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں