196

ایپی جینیٹکسں: قسط۔ 17

(نسلوں کا کھیل)

بعض اوقات بہترین سائنس سادہ سولات سے شروع ہوتی ہے۔ یہ سوالات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ کوئی انکو پوچھنے کی کوشش نہیں کرتا جواب دینا تو دور کی بات ہے۔ ہم۔ان چیزوں کی اکثر جانچ نہیں کرتے جو اظہر من الشمس ہوں۔ اور جب کوئی اچانک کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ “یہ کیسے ہوتا ہے” تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ فینومینا جو بالکل واضح معلوم ہوتا تھا درحقیقت ایک مکمل راز ہے۔ یہ بات حیاتیات کے اہم پہلوؤں میں سے ایک کے حوالے سے بالکل درست ہے، جسکے بارے ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ایسا کیوں ہے۔

جب ممالیہ جاندار بشمول انسان بچے پیدا کرتے ہیں تو ایک نر اور مادہ والدین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

سیکشوئل ریپروڈکشن میں چھوٹا اور بہت زیادہ پھرتیلا سپرم تیزرفتاری کیساتھ بنسبت ٹھہرے ہوئے انڈے یا ایگ تک پہچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب ان میں سے ایک فاتح سپرم انڈے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو دونوں خلیات کے نیوکلئس آپس میں مکس ہو کر زائیگوٹ بناتے ہیں جوکہ تقسیم ہوکر جسم کے تمام خلیات بناتا ہے۔ سپرم اور انڈے کو گیمیٹس کہا جاتا ہے۔ جب ممالیہ جانداروں کے جسم میں گیمیٹس بنتے ہیں تو ہر گیمیٹ عام تعداد سے آدھے کروموسومز وصول کرتا ہے۔ اسکا مطلب ہے ان کے پاس تئیس کروموسومز ہونگے ، ہر جوڑے میں سے ایک۔ اسکو ہیپلائڈ جینوم کہا جاتا ہے۔ سپرم اور انڈے کے نیوکلئس کے ملاپ کے بعد یہ تعداد پھر سے نارمل ہو جاتی ہے اور جینوم کو ڈپلائیڈ کہا جاتا ہے۔ یہ اہم ہے کہ سپرم اور ایگ دونوں کا ہیپلائڈ ہونا ضروری ہے ورنہ جاندار اپنے والدین کی نسبت دگنا کروموسومز کیساتھ پیدا ہوگا۔

ہم مفروضہ بناسکتے ہیں کہ ممالیہ جانداروں میں ایک ماں اور ایک باپ کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسا دو ہیپلائیڈ جینومز کو آپس میں ملانے کیلئے ضروری ہے تاکہ نیا زائیگوٹ مکمل جینوم کیساتھ پیدا ہو۔ بیشک ایسا ہی ہوتا ہے لیکن اس ماڈل سے یہ بھی لاگو ہوتا ہے کہ دو اجناس کے والدین کی ضرورت صرف بطور منتقلی کے نظام (Delivery system) ہوتی ہے۔

کانراڈ واڈنگٹن کا پوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2010 میں پروفیسر رابرٹ ایڈورڈ نے فزیالوجی اور میڈیسن کی فیلڈ میں نوبل پرائز حاصل کیا۔ انکا کام ان وائٹرو فرٹیلائزیشن کے حوالے سے تھا جوکہ بعد میں ٹیسٹ ٹیوب بیبیز کا باعث بنا۔ اس کام میں ایک عورت کے جسم سے انڈے نکالے گئے ، انکو لیبارٹری کے اندر فرٹیلائز کیا گیا اور دوبارہ عورت کے جسم میں منتقل کردیا گیا۔ یہ کام کافی مشکل تھا اور پروفیسر ایڈورڈ کی اس کامیابی کے پیچھے چوہوں پر کی جانے والی سالوں سے جاری محنت تھی۔

چوہوں پر کئیے تجربات نے لگاتار تجربات کی بنیاد رکھی جن سے ہمیں پتہ چلا کہ ممالیہ جانوروں میں ریپروڈکشن میں منتقلی کے نظام کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اس میدان کے اندر ایک بڑا نام کیمبرج کے پروفیسر عظیم سورانی کا ہے جنھوں نے اپنی پی ایچ ڈی رابرٹ ایڈورڈ کی نگرانی میں حاصل کی۔ پروفیسر عظیم سورانی نے اپنی ابتدائی ریسرچ ٹریننگ کانراڈ واڈنگٹن کی لیبارٹری میں حاصل کی لہذا ہم انکو کانراڈ واڈنگٹن کا فکری پوتا (Intellectual grandson) کہہ سکتے ہیں۔

پروفیسر سورانی برطانیہ کے کچھ ان سائنسدانوں میں سے ہیں جو اپنی شہرت کو کافی ہلکا لیتے ہیں۔ یہ رائل سوسائٹی کے فیلو اور رائل ایمپائر کے کمانڈر بھی ہیں۔ انھوں نے گاباور میڈل اور رائل سوسائٹی رائل میڈل بھی حاصل کر رکھا ہے۔ جان گورڈن اور ایڈریان برڈ کی طرح یہ بھی اس ریسرچ مے میدان میں نئی جہتیں متعارف کرواتے رہتے ہیں جسکی انھوں نے خود کچھ دہائیاں قبل بنیاد رکھی تھی۔

1980 کی دہائی میں پروفیسر سورانی نے ریسرچ پروگرام تشکیل دیا جس نے ہمیں بتایا کہ ممالیہ جانوروں کی ریپروڈکشن میں ڈیلوری سسٹم کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ہمیں ایک حیاتیاتی ماں اور باپ کی اس لئیے ضرورت نہیں ہوتی کہ صرف ہیپلائڈ جینوم کو آپس میں ملایا جائے۔ بلکہ یہ اہم ہے کہ ہمارا آدھا ڈی این اے ماں کی طرف سے اور آدھا باپ کی طرف سے آتا ہے۔

انڈے اور سپرم میں موجود ہیپلائڈ نیوکلئس کو پرونیوکلئس کہتے ہیں۔ مادہ پرونیوکلئسں نر یا سپرم کے پرونیوکلئس سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ یہ تجرباتی طور پر اہمیت کا حامل ہے کہ ہم دونوں پرونیوکلیائی کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔ سائنس دان ایک خلیے سے دوسرے میں پرونیوکلئس کو منتقل کرسکتے اور بتا سکتے ہیں کہ کونسا نیوکلئس کس خلیے سے آیا ہے۔

کافی سال پہلے پروفیسر گورڈن نے مائیکرو پیپیٹس کے ذریعے مینڈک کے جسمانی خلیات سے نیوکلئسں نکال کر انڈوں کے اندر ڈالے تھے۔ عظیم سوارنی نے مینڈک کے مختلف خلیات کے درمیان پرونیوکلئیس کا تبادلہ اس تکنیک کی بہتر شکل استعمال کرتے ہوئے کیا۔ ان فرٹیلائزڈ انڈوں کو مادہ مینڈکوں کے اندر منتقل کردیا گیا۔ 1984 اور 1987 کے درمیان شائع ہونے والے مختلف پیپرز کے اندر پروفیسر سورانی نے ثابت کیا کہ ایک نئے چوہے کو پیدا کرنے کیلئے ایک نر اور مادہ کا ہونا لازمی ہے۔ اگر فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر صرف مادہ پرونیوکلئس یا صرف نر پرو نیوکلئس موجود ہوتا تو کسی چوہے کی پیدائش نہیں ہوتی تھی۔ آپکو ہر جنس کے ایک پرونیوکلئس کی ضرورت ہوتی۔

یہ ایک غیر معمولی دریافت ہے۔ جب دو سپرم نیوکلیائی کو فرٹیلائزڈ خلیے میں ڈال گیا تو کوئی چوہا پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح جب دو ایگ پرونیوکلیائی کو ڈالا گیا تو اس دفعہ بھی کوئی چوہا پیدا نہیں ہوا۔ چوہوں کی پیدائش تبھی ہوتی جب ایک سپرم اور ایک ایگ پرونیوکلیائی کو اکٹھا ڈال جاتا۔ ان تینوں صورتوں میں زائیگوٹ کےاندر ڈی این اے کی مقدار بالکل ایک جتنی تھی۔ ہر زائیگوٹ کے اندر ڈپلائیڈ جنیوم موجود تھا۔ اگر نئے جانداروں کی تخلیق میں اہمیت صرف ڈی این اے کی مقدار کی ہوتی تو تینوں صورتوں میں فرٹیلائزڈ انڈے سے نئے جاندار بننے چاہئے تھے۔

مقدار سب کچھ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے ایک انقلابی تصور سامنے آیا۔ ماں اور باپ کے جینوم ایک جیسا ڈی این اے منتقل کرتے ہونگے لیکن یہ فعالیاتی طور پر برابر نہیں ہیں۔ درست ترتیب کے حامل درست ڈی این اے کا ہونا کافی نہیں ہے۔ ہمیں کچھ اپنی ماں سے اور کچھ باپ سے وراثت میں لینا ضروری ہے۔ کسی طرح سے ہمارے جینز یاد رکھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ یہ تبھی صحیح طرح سے کام کریں گے جب یہ درست والدین سے آئیں گے۔ صرف ہر جین کی درست کاپیوں کا ہونا نارمل ڈیولپمنٹ اور صحت مند زندگی کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔

ہر پندرہ سو میں سے ایک حمل کےاندر یوٹیرس کے اندر پلیسینٹا موجود ہوتی ہے لیکن بچہ نہیں ہوتا۔ پلیسینٹا ابنارمل ہوتی ہے اور انگور کی طرح کے لوتھڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس ساخت کو hydatidiform mole کہا جاتا ہے۔ ایشیائی آبادیوں میں اسکی شرح ہر دو سو میں سے ایک حمل ہوتی ہے۔ اس صورت میں عورتوں کا وزن زیادہ بڑھ جاتا ہے اور شدید صبح کی سستی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیلیسینٹا کے اندر تیزی سے بڑھنے والی ساختیں زیادہ ہارمونز کے اخراج کا باعث بنتی ہیں جسکی وجہ سے متلی کی کیفیت ہوتی ہے۔

ایسے ممالک جہاں صحت کی سہولیات اچھی ہیں وہاں پہلے الٹرا سائونڈ میں ہی اسکی نشاندہی کردی جاتی ہے اور اسکےبعد اسقاط حمل کی طرح کا طریقہ کیا جاتا ہے۔ اگر اسکی نشاندھی نہ ہو تو چار اور پانچ مہینوں کے درمیان اچانک اسقاط حمل ہوجاتا ہے۔ ابتدائی طور پر اسکا نکالنا اہم ہے کیونکہ بعد میں یہ رسولیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ ساختیں تب بنتی ہیں جب ایسا انڈا فرٹیلائزڈ ہوجائے جسکا نیوکلئس ضائع ہوجائے۔ اسی فیصد کیسز میں ایک خالی انڈا سپرم سے فرٹیلائزڈ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہیپلائیڈ جینوم اپنے آپ کو کاپی کرکے ڈپلائیڈ کرلیتا ہے۔ بیس فیصد کیسز میں خالی انڈا دو سپرمز سے فررٹیلائزڈ ہوجاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر کروموسومز کی تعداد 46 درست ہے لیکن تمام ڈی این اے باپ کی طرف سے آرہا ہے۔ اسکی وجہ سے بچہ نہیں بنتا۔ تجرباتی چوہوں کی طرح انسانی ڈیولپمنٹ کو بھی دونوں والدین سے کروموسومز کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ انسانی حالت اور چوہوں پر ہونے والے تجربات اس ماڈل کیساتھ مطابقت نہیں رکھتےجو صرف ڈی این اے پر مشتمل ہے، جس میں ڈی این اے ایک برہنہ مالیکول ہے اور تمام معلومات اسکی چار بیسز میں محفوظ ہوتی ہے۔ ڈی این اے اکیلا نئی زندگی کی تخلیق کیلئے کافی نہیں ہے۔ جینیاتی معلومات کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔ کچھ ایپی جینیٹک۔

ایگ اور سپرم بہت زیادہ مخصوص خلیات ہیں یہ واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ کے بالکل نیچے موجود ہوتے ہیں۔ یہ سپرم اور ایگ کے علاوہ کچھ نہیں بنتے ہیں جب تک کہ آپس میں مل نہ جائیں۔ آپس میں ملنے کے بعد یہ ایک غیر مخصوص ٹوٹی پوٹینٹ خلیہ بنادیتے ہیں جس سے پلیسینٹا سمیت تمام جسمانی خلیات بن سکتے ہیں۔ یہ زائیگوٹ ہے جو کہ ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ کے بالکل چوٹی پر موجود ہے۔ جب یہ تقسیم ہوتا ہے تو خلیات مزید مخصوص ہوتے جاتے ہیں اور جسم کے مختلف خلیات اور ٹشوز بناتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ٹشوز سپرم اور ایگ بناتے ہیں (جنس کے مطابق) اور یہ سائیکل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ ڈیولپمنٹل بیالوجی کےا ندر کبھی نہ رکنے والا ایک سرکل چلتا رہتا ہے۔

سپرم اور انڈے کے پرونیوکلئس میںں کثیر تعداد میں ایپی جینیٹک ترامیم موجود ہوتی ہیں۔ یہ اس میکانزم کا حصہ ہے جو گیمیٹس کو گیمیٹس بنائے رکھتی ہے اور کسی دوسرے قسم کے خلیے میں تبدیل نہیں کرتا۔ لیکن یہ گیمیٹس اپنا ایپی جینیٹک پیٹرن آگے منتقل نہیں کرتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو زائیگوٹ آدھا سپرم اور آدھا ایگ ہوتا جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک مکمل ٹوٹی پوٹینٹ خلیہ ہوتا ہے جو ایک نئے جاندار کو وجود دیتا ہے۔ کسی طرح سے سپرم اور ایگ کے اندر موجود ترامیم کسی دوسرے قسم کی ترامیم میں تبدیل ہو جاتی ہیں جوکہ زائیگوٹ کو ایک الگ قسم کا خلیہ بنادیتی ہیں۔ جوکہ واڈنگٹن کے ایپی جینیٹک لینڈ سکیپ پر الگ جگہ پر موجود ہوتا ہے۔ یہ نارمل ڈیولپمنٹ کا حصہ ہے۔

آپریٹنگ سسٹم کو ری انسٹال کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی سپرم انڈے کے اندر داخل ہوتا ہے ایک ڈرامائی چیز واقع ہوتی ہے۔ سپرم کے اوپر موجود تمام ڈی این اے میتھائی لیشن اتار لی جاتی ہے اور یہ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ یہی مادہ کے ڈی این اے کیساتھ بھی ہوتا ہے لیکن تھوڑا آہستگی کیساتھ۔ اسکا مطلب بہت ساری ایپی جینیٹک یاداشت کو جینوم سے ختم کردیا جاتا ہے۔ یہ زائیگوٹ کو واڈنگٹن لینڈ سکیپ کی چوٹی تک لانے کیلئے ضروری ہے۔ زائیگوٹ دوبارہ تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بلاسٹوسائٹ بناتا ہے، ٹینس گیند کے اندر موجود گولف کی گیند کی طرح۔ گولف کی گیند کے اندر موجود خلیات پلوریپوٹنٹ ہیں جنکو انر سیل ماس کہا جاتا ہے جن سے لیبارٹری کے اندر ایمبریونک سٹیم سیلز بنتے ہیں۔

آئی سی ایم خلیات بڑی جلدی تقسیم ہوتے ہیں اور مختلف اقسام کے خلیات بناتے ہیں۔ یہ چند بنیادی جینز کے سختی سے ریگولیٹڈ اظہار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک خاص پروٹین OCT4 ایک اور جینز کے سیٹ کو آن کرتی ہے جوکہ جینز کے اظہار کے مزید سلسلے کا باعث بنتی ہیں اور یہ سلسلہ چلتا جاتا ہے۔ ہم OCT4 سے پہلے مل چکے ہیں یہ ان چند پروٹینز میں سے سب سے اہم ہے جسکو پروفیسر یاماناکا نے خلیات کو پروگرام کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔ جینز کے اظہار کا لگاتار سلسلے کا تعلق ایپی جینیٹک ترامیم کیساتھ ہے جوکہ ہسٹونز مارکس کو اسطرح سے تبدیل کرتی ہیں کہ کچھ جینز آن ہوجاتے ہیں یا آف ہوجاتے ہیں۔ ابتدائی ڈیولپمنٹ کے دوران ایپی جینیٹک واقعات کی ترتیب درج ذیل ہے۔

​✓ نر اور مادہ پرونیوکلیائی جو سپرم اور انڈے کے اندر موجود ہوتے ہیں اپنے ساتھ ایپی جینیٹک ترامیم لئیے ہوتے ہیں۔

​✓ فرٹیلائزیشن کے فوراً بعد ایپی جینیٹک ترامیم اتار لی جاتی ہیں۔

​✓ جیسے جیسے خلیات مختلف کاموں کیلئے مخصوص ہونا شروع ہوتے ہیں نئی ایپی جینیٹک ترامیم شامل کی جاتی ہیں۔

اسکو ہم نے بہت سادہ کرکے پیش کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ دوسرے مرحلے میں سائنسدانوں نے ڈی این اے میتھائی لیشن کو ختم ہوتے دیکھا ہے لیکن یہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے خاص طور پر ہسٹون ترامیم کے حوالے سے۔ جب کچھ ہسٹون ترامیم ختم کی جارہی ہوتی ہیں ساتھ کچھ ترامیم کی بھی جارہی ہوتی ہیں۔ اسی وقت جب ڈی این اے کے اظہار کو دبانے والی میتھائی لیشن کو ختم کیا جارہا ہوتا ہے ساتھ ہی جینز کے اظہار کو دبانے والے ہسٹون مارکس کو بھی اتارا جاتا ہے۔ دوسری ہسٹون ترامیم جو جینز کے اظہار کو بڑھاتی ہیں انکو مستحکم کیا جاتا ہے۔ اس لئیے ایپی جینیٹک تبدیلیاں اس قدر سادہ نہیں ہیں کہ انکو صرف ایپی جینیٹک ترامیم کے ختم ہونے یا مستحکم ہونے سے ظاہر کیا جائے۔ درحقیقت ایپی جینوم کو دوبارہ پروگرام کیا جارہا ہوتا ہے۔

یہ ریپروگرامنگ ہی تھی جسکا مظاہرہ جان گورڈن نے اپنے تجربات میں کیا، جسکا عملی مظاہرہ کیتھ کیمبل اور ایان ولمٹ نے ڈولی کی صورت میں کیااور پروفیسر یاماناکا نے چار پروٹینز کی مدد سے اسکو واضح کیا۔ مصنوعی طور پر خلیات کو ریپروگرام کرنے کا کوئی بھی طریقہ قدرتی ریپروگرامنگ کی رفتار اور نفاست کے برابر نہیں ہوسکتا۔ لیکن انڈا یہ سب کچھ بغیر مدد کے نہیں کرتا ابتدائی طور پر سپرم کی ایپی جینیٹک ترامیم ریپروگرامنگ کیلئے موضوع ہوتی ہیں اور آسانی سے ریپروگرام ہوجاتی ہیں۔ ریپروگرامنگ کافی مشکل اس وقت ہوجاتی ہے جب بالغ نیوکلئس کو فرٹیلائزڈ انڈے کے اندر منتقل کیا جاتا ہے۔ یا پھر خلیات کو چار یاماناکا فیکٹرز کی مدد سے پروگرام کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام ہیں اور نیوکلئس کو مکمل ریپروگرام کرنا کافی کٹھن ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کلون جانداروں مے اندر بیماریاں موجود ہوتی ہیں اور انکی عمر بھی کم ہوتی ہے۔ ان کلون جانداروں کے اندر خرابیاں ایک اور چیز واضح کرتی ہیں جب ریپروگرامنگ کے اندر غلطیاں ہوجائیں تو وہ تاعمر موجود رہتی ہیں۔ ابنارمل ایپی جینیٹک ترامیم کے پیٹرن لمبے عرصے کیلئے جینز کے غلط اظہار کا باعث بنتی ہیں اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

نارمل ابتدائی ڈیولپمنٹ کے اندر یہ تمام ریپروگرامنگ گیمیٹس کے ایپی جینوم کو تبدیل کرکے زائیگوٹ کا نیا ایپی جینوم تشکیل دیتی ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ زائیگوٹ کا ایپی جینیٹک پیٹرن سپرم اور انڈے کے ایپی جینیٹک پیٹرن سے مختلف ہے۔ لیکن اسکا ایک اور اثر بھی ہے۔ خلیات مختلف جینز کے اوپر غلط ترامیم بھی اکٹھی کرسکتے ہیں۔ یہ جینز کے نارمل اظہار کو خراب کرتا ہے اور بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے جوکہ آگے جاکر ہم دیکھیں گے۔ سپرم اور انڈے کی ریپروگرامنگ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ انکے اندر موجود کوئی غلط ترمیم بچوں کے اندر نہ جانے پائے۔ ایسا سلیٹ کو بالکل صاف کرنے کی طرح نہیں ہوتا بلکہ یہ سسٹم کو ری انسٹال کرنے کی طرح ہے۔

کروموسومز پر جھنڈیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن اس سے ایک پہیلی سامنے آتی ہے۔ عظیم سورانی کے تجربات سے پتہ چلا کے مادہ اور نر کے گیمیٹس فعالیاتی طور پر یکساں نہیں ہوتے دونوں میں سے ایک چاہیئے ہوتا ہے نیا جاندار تخلیق کرنے کیلئے۔ اسکو پیرینٹ آف اوریجن ایفیکٹ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زائیگوٹ اور ڈاٹر خلیات کے پاس بہت سے راستے ہوتے ہیں جس سے وہ ماں اور باپ کے کروموسومز کے درمیان فرق کرسکتے ہیں۔ یہ جیناتی اثر نہیں ہے بلکہ یہ ایپی جینیٹک ہے لہذا کوئی ایپی جینیٹک ترمیم بھی ہونی چاہیئے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے۔

1987 میں سورانی لیب نے ایک پیپر شائع کیا جس میں مفروضہ دیا گیا تھا کہ پیرینٹ آف اوریجن ایفیکٹ ڈی این اے میتھائی لیشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اس وقت تک یہ اکلوتی کرومیٹن ترمیم تھی جودریافت ہوئی تھی لہذا یہ بہترین نکتہ تھا شروعات کیلئے۔ محققین نے جنیاتی طور پر ترمیم شدہ چوہے تیار کئیے انکے اندر اضافی ڈی این اے کا ٹکڑا موجود تھا جو جینوم کے اندر کہیں بھی ڈالا جاسکتا تھا۔ اضافی ڈی این اے کا ٹکڑا خصوصی طور پر ان تجربات میں اہم نہیں تھا۔ جو بات اہم تھی وہ یہ کہ وہ اس چیز کو دیکھ سکتے تھے کہ ڈی این اے پر کتنی میتھائی لیشن موجود ہے اور کیا یہ میتھائی لیشن خالص حالت میں والدین سے بچوں میں منتقل ہورہی ہے۔

عظیم سورانی اور انکے ساتھیوں نے سات نمونوں کو جانچا اور ان میں سے ایک نمونے کے اندر بہت عجیب ہورہا تھا۔ جب ایک مادہ بچوں کو اضافی ڈی این اے منتقل کرتی تھی تو بچوں میں اس ڈی این اے کے اوپر بہت زیادہ میتھائی لیشن دیکھنے کو ملتی۔ جب یہی ڈی این اے باپ کی طرف سے منتقل ہوتا تو میتھائی لیشن کی مقدار کافی کم ہوتی۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ میتھائی لیشن کا انحصار والدین کی جنس کے اوپر تھا جس سے وہ ڈی این اے منتقل ہورہاتھا۔

پروفیسر سورانی کے اس پیپر اور دیگر پیپرز نے بتایا کہ جب ممالیہ جانور گیمیٹس بناتے ہیں تب وہ ان خلیات کے اندر موجود ڈی این اے کو بارکوڈ کرتے ہیں۔ یہ ایسے ہے جیسے کروموسومز مختلف جھنڈیاں اٹھائے ہوئے ہوں۔ سپرم کے اندر موجود کروموسومز جھنڈا اٹھائے ہوتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے “میں باپ کی طرف سے ہوں” اور انڈے کے اندر موجود کروموسومز کے اوپر جھنڈوں ہر لکھا ہوتا ہے “میں ماں کی طرف سے ہوں”. ڈی این اے میتھائی لیشن وہ دھاگہ ہے جس سے یہ جھنڈے بنے ہوتے ہیں۔

اسکے لئے جو اصطلاح استعمال ہوتی ہے اسکو امپرنٹنگ کہتے ہیں۔ کروموسومز اس معلومات کیساتھ امپرنٹڈ ہوتے ہیں کہ وہ اصل میں کس والدین سے آئے ہیں۔ امپرنٹنگ اور پیرینٹ آف اوریجن ایفیکٹ کو ہم آگے جاکر تفصیل سے دیکھیں گے۔ اس اضافی ڈی این اے کیساتھ کیا ہورہا تھا؟ شاید وہ اتفاق سے اس حصے کے اندر آگیا تھا جس پر یہ جھنڈے موجود تھے۔ جسکے نتیجے میں اس بیرونی ڈی این اے کے اوپر بھی یہ جھنڈے موجود تھے جب یہ ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوا۔

سات میں سے این لائن کے اندر یہ اثرات دیکھے گئے اسکا مطلب تمام جینوم کے اندر یہ جھنڈے موجود نہیں ہوتے۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں ہیں کہ جانور والدین سے حاصل شدہ خصوصیات وراثت میں موصول کرتے ہیں۔ ایما وائٹلا کے کام سے یہ بھی پتہ چلا کہ زیادہ تر ایپی جینیٹک ترامیم بھی سپرم اور انڈے کے ذریعے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اس قسم کی وراثت نایاب ہے لیکن یہ ہمارے اس یقین کو مستحکم کرتی ہے کہ ایسی ایپی جینیٹک ترامیم موجود ہیں جو خاص ہیں۔ یہ تبدیل نہیں ہوتیں جب سپرم اور انڈا آپس میں ملتے ہیں۔ لہذا جب زیادہ تر ایپی جینیٹک ترامیم تبدیل کردی جاتی ہیں کچھ فیصد ایسی بھی ہیں جو تبدیلی سے محفوظ رہتی ہیں۔

ایپی جینیٹک اسلحے کی دوڑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جینوم کا دو فیصد حصہ پروٹین کو کوڈ کرتا ہے۔ بیالیس فیصد ریٹروٹرانسپوسون پر مشتمل ہے۔ جینوم میں کچھ عجیب حصے ہیں جنکے بارے خیال ہے یہ وائرسز سے آئے ہیں۔ کچھ ریٹروٹرانسپوسون کو ٹرانسکرائب کرکے آر این اے بنایا جاتا ہے جو کہ پڑوسی جینز کے اظہار پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسکے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں مثلاً اگر یہ ایسے جینز کے اظہار کو تیز کردے جو خلیاتی تقسیم کے عمل کو بہت تیز کردیں تو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک مستقل اسلحے کی دوڑ موجود ہے اور ایسے میکانزم وجود میں آئے ہیں جن سے ایسے ریٹروٹرانسپوسون کی ایکٹیویٹی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ایک بنیادی میکانزم ایپی جینیٹکس ہے۔ ریٹروٹرانسپوسون کو خلیات کی طرف سے میتھائی لیٹڈ کیا جاتا ہے تاکہ ریٹروٹرانسپوسون آر این اے کے اظہار کو روکا جائے۔ اسطرح سے پڑوسی جینز کے اظہار کو اثرانداز ہونے سے بچایا جاتا ہے۔ ایک مخصوص کلاس آئی ای اے ریٹروٹرانسپوسون اس کنٹرول میکانزم کا مخصوص ٹارگٹ لگتا ہے۔

زائیگوٹ کی ڈیولپمنٹ کے دوران زیادہ تر ڈی این اے سے میتھائی لیشن ختم کردی جاتی ہے لیکن آر ای اے ریٹروٹرانسپوسون اس سے مبرا ہے۔ اسطرح سے ریٹروٹرانسپوسون اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ غیر جینیاتی خصوصیات کی نسل درنسل وراثت کی مثالیں Agouti mouse اور دیگر چوہوں میں دیکھی جاچکی ہیں۔ ان دونوں ماڈلز پر بہت زیادہ تحقیق ہوئی ہے اور دونوں میں فینوٹائپس جینز کے اوپر والے حصے میں موجود ریٹروٹرانسپوسون پر میتھائی لیشن کا نتیجہ ہیں۔ ڈی این اے میتھائی لیشن کی سطح والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے اور ساتھ ہی ریٹروٹرانسپوسون کے اظہار کی سطح کی وجہ سے ہونے والی فینوٹائپس بھی۔

ہم۔نے نسل درنسل وراثت کے اور بھی کیسز دیکھے جن میں خوراک کے اثرات اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات بھی شامل ہیں۔ محققین اس بات کو کھوج رہے ہیں کہ یہ ماحولیاتی محرک گیمیٹس کے ایپی جینیٹک پیٹرن میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔ جان گورڈن کی طرح پروفیسر سورانی نے بھی اپنی بنائی ہوئی فیلڈ میں بہترین کام جاری رکھا ہے۔ انکا زیادہ تر کام اس پر ہے کہ کیوں اور کیسے سپرم اور انڈے اپنے ڈی این اے کو بارکوڈ کرتے ہیں اور ایپی جینیٹک یاداشت کو اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں۔ پروفیسر سورانی کا ابتدائی کام زیادہ تر چھوٹے پیپیٹس پر انحصار کررہا تھا جس سے نیوکلئس کو خلیات میں منتقل کیا جاتا تھا۔ یہ تکنیک پندرہ سال پہلے جان گورڈن کی استعمال شدہ تکنیک کی بہتر شکل تھی۔ یہ سوچ کر عجیب خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ پروفیسر سورانی کیمبریج میں اس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ہوتے ہیں جو سر جان گورڈن کے نام سے منسوب ہے ۔ اور دونوں کی ملاقات اکثر ایک دوسرے سے راہداری اور کافی کی دکان میں ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں