109

ایپی جینیٹکسں:قسط۔ 20

(ڈولی اور اسکی نسل )

زائیگوٹ اور پرائمورڈیل جرم سیلز مین ہونے والے ریپروگرامنگ ایونٹس بہت سے ایپی جینیٹک فینومینا کو اثرانداز کرتے ہیں۔ جب لیبارٹری کے اندر یاماناکا فیکٹرز کی مدد سے جسمانی خلیات کو ریپروگرام کیا جاتا ہے تو ان میں سے بہت کم آئی پی ایس خلیات میں تبدیل ہوتے ہیں۔ بمشکل ہی کوئی اصلی ای ایس خلیات کی طرح ہوتے ہیں۔ میساچوسٹس جنرل ہسپتال بوسٹن اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک گروپ نے چوہوں کے جینیاتی طور پر ایک جیسےآئی پی ایس اور ای ایس خلیات کا جائزہ لیا۔ انھوں نے ان جینز کو دیکھا جنکے اظہار کے اندر دونوں خلیات میں فرق تھا۔ اظہار کے اندر واحد بنیادی فرق کروموسوم کے ایک حصے کے اندر تھا جسکو Dlk1-Dio3 کا نام دیا گیا۔ کچھ آئی پی ایس خلیات کے اندر اس ریجن میں موجود جینز کا اظہار اسی طرح تھا جیسا ای ایس خلیات میں ہوتا ہے۔ یہ جسم کے دوسرے ٹشوز بنانے کیلئے بہترین آئی پی ایس خلیات تھے۔

یہ Dlk1-Dio3 چوہوں کے کروموسوم نمبر بارہ میں ایک امپرنٹڈ ریجن ہے۔ اس میں حیرت نہیں ہونی چاہیئے کی ایک امپرنٹڈ ریجن اتنی اہمیت کا حامل ہے۔ یاماناکا تکنیک نے ریپروگرامنگ کے اس عمل کو شروع کیا جو عام طور پر سپرم اور انڈے کے ملاپ کے بعد ہوتی ہے۔ نارمل ڈیولپمنٹ کے دوران جین کے امپرنٹڈ ریجنز ریپروگرامنگ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یاماناکا کے مصنوعی طریقے کے اندر بھی یہ ریپروگرامنگ کے سامنے بڑی رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں۔

یہ ریجن کافی عرصے سے سائنسدانوں کی دلچسپی کا مرکز رہا یے۔ انسانوں میں اس ریجن میں یونی پیرینٹل ڈائسومی کی وجہ سے ڈیولپمنٹل مسائل اور دیگر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ ریجن پارتھینوجینیسز کے تدارک کیلئے بھی اہم ہے۔ کوریا اور جاپان کے محققین نے چوہوں کے جینوم میں اس حصے کی جینیاتی طور پر جوڑ توڑ کی ہے۔ انھوں نے دو مادہ پرونیوکلیائی کی مدد سے فرٹیلائزرمڈ زائیگوٹ کی تعمیر نو کی۔ ان میں سے ایک پرونیوکلیائی کے Dlk1-Dio3 ریجن کو اس طرح بدلا گیا کہ وہ میٹرنل امپرنٹ کی بجائے پیٹرنل امپرنٹ کے برابر ہوگیا۔ اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے چوہے دو میٹرنل جینیوم کے حامل پہلے پلیسینٹل ممیلز تھے۔

پرائمورڈیل جرم سیلز کے اندر ہونے والی ریپروگرامنگ مکمل ہمہ گیر نہیں ہوتی۔ یہ کچھ آئی اے پی ریٹروٹرانسپوسونز کے اوپر زیادہ یا کم میتھائی لیشن برقرار رکھتی ہے۔ سپرم کے اندر AxinFu ریٹروٹرانسپوسون پر ڈی این اے میتھائی لیشن کی سطح اس سٹرین کے چوہوں کے جسمانی خلیات کی طرح ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پرائمورڈیل جرم سیلز کی ریپروگرامنگ کے وقت میتھائی لیشن ختم نہیں ہوئی تھی گوکہ جینوم کے دیگر حصوں سے ترامیم ختم کردی گئی تھیں۔ AxinFu ریٹروٹرانسپوسون کی ایپی جینیٹک ریپروگرامنگ کے دونوں مراحل(زائیگوٹ میں اور پرائمورڈیل جرم سیلز میں) میں مزاحمت مڑی ہوئی دم کی نسل درنسل وراثتی منتقلی کیلئے میکانزم مہیا کرتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ تمام نسل درنسل وراثتی منتقلیاں اس طرح نہیں ہوتی ہیں۔ Agouti چوہوں کے اندر فینوٹائپ باپ کی بجائے ماں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اس صورت میں نارمل پرائمورڈیل جرم سیلز ریپروگرامنگ کے دوران ماں اور باپ دونوں میں آئی اے پی ریٹروٹرانسپوسونز ہر ڈی این میتھائی لیشن ختم کردی جاتی ہے۔ باہرحال وہ مائیں جن میں ڈی این اے میتھائی لیشن موجود ہوتی ہے وہ اپنے بچوں میں مخصوص ہسٹون مارک منتقل کرتی ہیں۔

یہ ایک ریپریسیو ہسٹون ترمیم ہے اور یہ ڈی این میتھائی لیشن مشینری کو سگنل دیتی ہے۔ یہ سگنل اس انزائم کو کھینچ کر لاتا ہے جو ڈی این میتھائی لیشن کو کروموسوم کے مخصوص حصے ہر ڈال دیتا ہے۔ نتیجہ ایک جیسا ہوتا ہے ماں کی ڈی این میتھائی لیشن بچے میں بحال کردی جاتی ہے۔ نر Agouti چوہے اپنے ریٹروٹرانسپوسون پر ڈی این میتھائی لیشن یا ریپریسیو ہسٹون ترمیم آگے منتقل نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ فینوٹائپ ہمیشہ ماں کی طرف سے منتقل ہوتی ہے۔

یہ ایپی جینیٹک معلومات کو منتقل کرنے کا تھوڑا زیادہ غیر براہِ راست طریقہ ہے۔ ڈی این اے میتھائی لیشن کی براہ راست منتقلی کی بجائے ایک درمیانی ریپریسیو ہسٹون ترمیم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فینوٹاپ کی میٹرنل لائن سے منتقلی تھوڑی مبہم ہوتی ہے۔ تمام بچے ہو بہو ماں کی طرح نہیں ہوتے کیونکہ اس بات میں تھوڑا مذاکرات کی گنجائش ہوتی ہے کہ کیسے ڈی این اے میتھائی لیشن بچوں میں دوبارہ بحال ہوگی۔

2010 کے موسم گرما میں برطانوی میڈیا میں فارمی جانوروں کی کلوننگ کے بارے رپورٹس شائع ہوئیں۔ کلون کی گئی گائے کے بچوں کا گوشت انسانی فوڈ چین کا حصہ بن گیا۔ گائے بذات خود نہیں بلکہ اس گائے سے روایتی طور پر افزائش کروایا گیا ایک بچھڑا۔ گوکہ اس بارے میں کچھ الارمنگ کہانیاں پبلش ہوئیں لیکن زیادہ تر مین سٹریم میڈیا میں اسکی کوریج متوازن تھی۔

ایسا کسی حد تک ایک قدیم تصور کی وجہ سے تھا جسکی وجہ سے سائنسدانوں میں کلوننگ کے بارے کافی خدشات موجود تھے۔ جب کلون کئے گئے جانوروں کی افزائش نسل کروائی جاتی ہے تو انکے بچے انکی نسبت زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً یقینی طور پر پرائمورڈیل جرم سیلز ریپروگرامنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ابتدائی کلون کو ایک سومیٹک نیوکلئس کو فرٹیلائزڈ انڈے میں منتقل کرکے پیدا کیا گیا تھا۔ یہ نیوکلئس صرف ابتدائی ریپروگرامنگ کے مرحلے سے گزرا تھا جو کہ عام طور پر تب ہوتا ہے جب سپرم اور انڈا آپس میں ملتے ہیں۔ اس بات کے امکانات ہیں کہ یہ ایپی جینیٹک ریپروگرامنگ اتنی متاثرکن نہیں تھی۔ ایک انڈے سے ایک غلط نیوکلئس کو ریپروگرام کروانا ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ یہ ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے کہ کلون زیادہ تر غیر صحت مند ہوتے ہیں۔

جب کلون جانور افزائش نسل کرتے ہیں تو وہ سپرم یا انڈا آگے منتقل کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ کلون یہ گیمیٹس پیدا کریں انکے پرائمورڈیل جرم خلیات ریپروگرامنگ کے دوسرے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ اس دوسرے مرحلے کے دوران ایپی جینوم مناسب طریقے سے دوبارہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ گمیٹس اپنے کلون والدین کی ابنارمل ایپی جینیٹک ترامیم کو ختم کردیتے ہیں۔ ایپی جینیٹکس یہ بتاتی ہے کہ کلون کئے گئےجانداروں کو صحت کے مسائل کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ انکے بچوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔ درحقیقت ان بچوں اور قدرتی طور پر پیدا ہونے والے بچوں میں فرق کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

مددگار تولیدی ٹیکنالوجی جیساکہ لیبارٹری میں نر اور مادہ گیمیٹس کا ملاپ کے کچھ تکنیکی پہلو کلوننگ سے مماثلت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر خلیات کے درمیان پلوریپوٹنٹ نیوکلیائی کو منتقل کیا جاتا ہے اور یوٹیرس یعنی رحم مے منتقل کرنے سے پہلے لیبارٹری میں رکھا جاتا ہے۔ ان طریقوں سے پیدا ہونے والے خرابیوں کی شرح کے حوالے سے کثیر تعداد میں تنازعات آپکو سائنسی جرائد میں مل جاتے ہیں۔ کچھ مصنفین دعویٰ کرتے ہیں کہ مددگار تولیدی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہونے والے حمل کے دوران امپرنٹنگ کی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسکا مطلب ہے جسم سے باہر زائیگوٹ کو کلچر کروانے سے نازک طریقے سے بنائے گئے پاتھویز جن سے ریپروگرامنگ کو کنٹرول کیا جاتا ہے میں خلل پڑتا ہے، خاص طور پر امپرنٹڈ حصوں کے اندر۔ یہ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس بات پر ابھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ یہ واقعی کوئی طبی لحاظ سے متعلقہ مسئلہ ہے۔

ابتدائی ڈیولپمنٹ کے دوران تمام تر جینوم کی ریپروگرامنگ کے ایک سے زائد اثرات ہوتے ہیں۔ یہ دو بالکل مخصوص خلیات کو ایکساتھ ملاتی ہے اور ایک پلوریپوٹنٹ خلیہ بناتی ہے۔ یہ دو جینوم کی ایک دوسرے سے مد مقابل ضروریات کو متوازن کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ متوازن کرنے کا کام اگلی نسلوں میں بھی دوبارہ مستحکم کیا جاسکے۔ ریپروگرامنگ غیر ضروری ایپی جینیٹک ترامیم کو بھی والدین سے بچوں میں منتقل ہونے سے روکتی ہے۔ اسکا مطلب ہے گوکہ خلیات کے اندر خطرناک تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں لیکن ان تمام تبدیلیوں کو اگلی نسل میں منتقل ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا جائیگا۔

یہ وجہ ہے کہ ہم عام طور پر حاصل شدہ خصوصیات کو وراثت میں منتقل نہیں کرتے ہیں۔ لیکن جینوم کے کچھ ایسے حصے ہیں جو کہ ریپروگرامنگ میں مزاحمت کرتے ہیں جیساکہ آئی اے پی ریٹروٹرانسپوسونز۔ اگر ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیسے کچھ حاصل شدہ خصوصیات acquired characteristics, چاہے وہ ونکلوزولن کی وجہ سے ہوں یا غذائیت کے اثرات کی وجہ سے, والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں تو آئی اے پی ریٹروٹرانسپوسونز اس چیز کی کھوج کیلئے سب سے بہترین جگہ ہے۔

(جاری ہے)

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں