68

اولبرز پیراڈوکس۔ جستجو_تحریری_مقابلہ

#جستجو_تحریری_مقابلہ

تحریر نعمان دائم

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری کائنات میں کروڑوں، اربوں ستارے موجود ہیں مگر پھر بھی زمین سے باہر خلاءمیں ہر وقت تاریکی چھائی رہتی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟
حالانکہ ہر جگہ موجود ستاروں کو دیکھتے ہوئے آسمان کو ہر وقت روشنی سے جگمگانا چاہئے۔
یہ وہ سوال ہے جو بظاہر تو آسان لگتا ہے مگر اس کا جواب دینا انتہائی مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے سائنسدان یہ جواب ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس کا جواب ناسا کے مطابق ایک جرمن خلائی سائنسدان ہنرچ ولیم اولبرز نے 1823 میں یہ دیا تھا ‘ اگر کائنات لامتناہی، ساکن اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہوجائے تو وہ سب کچھ جو آسمان پر نظر آتا ہے بتدریج کسی ستارے سے ٹکرا جائے گا۔
آسان الفاظ میں اگر کائنات کبھی لامتناہی اور وقت سے آزاد ہوجائے تو پھر خلاءمیں تاریکی کی بجائے تمام ستاروں کی روشنی سے آسمان جگمگاتا نظر آئے گا، کیونکہ ایسا ہونے پر آپ جس سمت پر دیکھیں گے آپ کو کوئی ستارہ نظر آئے گا۔
تو کائنات نہ تو لامتناہی ہے اور نہ ہی وقت سے آزاد بلکہ وہ اب بھی پھیل رہی ہے اور اس ظاہری تضاد کو اولبرز پیراڈوکس کا نام دیا گیا ہے۔
یعنی ایسا ظاہری تضاد جو ہماری توقعات کے برعکس ہے کہ رات کا آسمان روشن ہو مگر ہمیں تاریک نظر آئے۔
اس حوالے سے متعدد وضاحتیں کی جاتی ہیں مگر بہترین یہی ہے کہ کائنات ابھی اتنی پرانی اور لامحدود نہیں ہوئی بلکہ اس کی عمر 15 ارب سال کے لگ بھگ ہے۔
آسان الفاظ میں ہم دور دراز کی اشیاءکی وہ روشنی ہی دیکھ سکتے ہیں جو 15 ارب سال سے سفر کررہی ہے اور ان سے دور ستاروں کی روشنی کے پہنچنے کا وقت ابھی تک نہیں آیا یا ہم تک نہیں پہنچ رہی اور اسی لیے خلاءتاریک نظر آتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ ہے کہ تمام ستاروں کی روشنی کی ویو لینتھ اتنی نہیں کہ ہمیں نظر آسکے۔
بالکل ویسے ہی جیسے جب کوئی ایمبولینس ہمارے قریب سے گزرتی ہے تو اس کے سائرن کی آواز دور ہونے پر دھیمی پڑنے لگتی ہے اور آخرکار غائب ہوجاتی ہے، اسے ڈوپلر ایفیکٹ کہا جاتا ہے.
ولیم اولبرز کے نام پہ اسکو *اولبرز پیراڈوکس* کا نام دے دیا گیا…….

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں