47

انگلش سے رنجش انعام الحق

انگلش سے کیا رنجش۔ ۔ ۔ !
پہلی قسط
۔
ہمارے ہاں اکثر طلباء ریاضی میں کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ انگلش میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ وہ اسے بےحد مشکل سمجھ کر اس سے خوف کھاتے ہیں۔ مسئلہ ریاضی کی طرح وہی ہے کہ ہمارا سسٹم طلباء کی صلاحیت سے عاری تعلیم دیتا ہے جس کو ہم تعلیم کہہ بھی نہیں سکتے کہ وہ محض کاغذوں کی ڈگریاں ہی ہوتی ہیں۔ جب ایک طالب علم کی کسی بھی علم میں بنیاد ہی اچھی نہ ہو تو ہر آنے والے وقت میں وہ چیز اس کے لے مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جاتی ہے اور یہی حال ہمارے ہاں اکثر طلباء کا ہوتا ہے۔
انگلش ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس کا سیکھنا نہایت ضروری ہے۔ کم از کم بنیادی سطح تک کہ کچھ نہ کچھ پڑھنا لکھنا تو آ جائے۔ کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے دو چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ ایک اس زبان کا ماحول اور دوسرا اس زبان کے گریمر اور کمپوزیشن کے اصول۔ اگر کسی زبان کا ماحول میسر آ جائے تو پھر بغیر کسی اضافی کوشش یا محنت کے انسان اسے سیکھ جاتا ہے۔ جیسا کہ کوئی بھی بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو وہ جس ماحول میں ہوتا ہے اس ماحول کی زبان وہ بغیر پڑھائی کے ہی سیکھنے لگتا ہے۔ یعنی ماحول سے کوئی زبان سیکھنا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اب جن لوگوں کو کوئی زبان سیکھنے کے لیے اس زبان کا ماحول میسر آ جائے وہ تو بہت آسانی سے سیکھ جاتے ہیں لیکن جن لوگوں کو ماحول میسر نہ ہو وہ کوئی زبان کیسے سیکھیں؟
اگر کوئی زبان ماحول کے بغیر سیکھنی ہو تو اس کے لیے سب سے اچھا طریقہ اس زبان کی گریمر اینڈ کمپوزیشن کے اصولوں کے تحت لگاتار مشق ہے۔ یاد رکھیں زبان ایک نہایت وسیع سمندر کی طرح ہوتی ہے جسے اصولوں میں قید کرنا اگرچہ ممکن نہیں ہوتا تاہم پھر بھی یہ اصول بنائے جاتے ہیں تا کہ وہ زبان سیکھنے میں مدد فراہم کر سکیں۔ اب ان اصولوں کا مقصد چونکہ آسانی پیدا کرنا ہے لہٰذا ان اصولوں کو سادہ اور آسان ہونا چاہئیے۔
“انگلش سے کیا رنجش” بھی ایک ایسا ہی سلسلہ ہے جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کچھ ایسے فارمولے بنا دیے جائیں جو کہ کم سے کم وقت میں طلباء کو بنیادی انگلش سکھا دیں تا کہ وہ خود سے جملے بنا سکیں اور خود سے لکھ اور پڑھ سکیں۔ یہاں آپ کو بہت سی نئی اور غیر روایتی چیزیں نظر آئیں گی جو عموماً کتابوں میں نہیں ملتیں۔ لیکن میرا نکتہءِ نظر یہ ہے کہ جو چیز سیکھنے میں آسانی پیدا کرے اپنا لینی چاہئیے چاہے ہو روایتی ہو یا غیر روایتی۔
اب یہ کوشش کتنی کامیاب ہے یہ تو مطالعہ کرنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین کریں کہ زبان کو مکمل طور پر اصولوں میں قید نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ان اسباق میں جو بھی اصول مقرر کیے جائیں گے وہ بھی عمومی ہوں گے۔ مطلب یہ کہ کوئی چیز ان اصولوں سے باہر بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر بنیادی زبان سیکھنے کے لیے یہ اصول کارگر رہتے ہیں۔ آخر میں یہ بات کہ اس طرح کے اصول قابلِ تجدید ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ان میں کچھ خامیاں بھی نکل سکتی ہیں اور ان کو بہتر سے بہتر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں کہیں آپ کو کمی محسوس ہو یا کوئی بہتری کی تجویز ہو تو بلاجھجھک اپنی رائے کا اظہار فرمائیں۔ آپ سب کی رائے محترم ہے۔ شکریہ
اگلی قسط سے ان شاءاللہ اسباق کا آغاز ہو جائے گا۔
نوٹ: ان اسباق کو کم وقت میں بنیادی انگلش سیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

انگلش سے کیا رنجش۔ ۔ ۔!
دوسرا سبق
۔
انگلش سے کیا رنجش کی پہلی قسط کی پوسٹ پر ایک دوست فرمانے لگے کہ انگش بین الاقوامی زبان نہیں ہے اور اسے سیکھنا ذہنی غلامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ ہمیں دنیا کی مختلف قوموں کے لوگوں سے مخاطب ہونے کے لیے اور جدید علوم سے استفادہ کرنے کے لیے انگلش سیکھنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا کسی ضرورت کے تحت انگلش کو بطورِ زبان سیکھنا ذہنی غلامی کی نشانی ہر گز نہیں ہے۔ ہاں اگر ہم محض مغربی ترقی سے مرعوب ہو کر اور خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے انگلش سیکھتے یا بولتے ہیں تو یہ ضرور ایک ذہنی غلامی کی نشانی ہے۔ بہرحال بطورِ زبان انگلش سے رنجش کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
انگلش کا یہ کورس طلباء کی بنیادی ضروریات اور کم وقت میں زیادہ سیکھنے کو مدِنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک غیرروایتی اور مختصر کورس ہے۔ اس کورس کو پچھلے چند سالوں میں طلباء پر آزمایا بھی گیا ہے اور مفید پایا گیا ہے۔ اس سے طلباء بنیادی انگلش گریمر اور کمپوزیشن سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور خود سے جملے بنانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ مگر یار رکھیے کسی بھی علم کو سیکھنے کے لیے سیکھنے کی لگن اور ارادہ بہت ضروری ہیں۔ اگر آپ کے اندر یہ چیزیں ہیں تو امید ہے کہ یہ کورس انگلش سے رنجش ختم کرنے کا باعث ہو گا۔ ان شاءاللہ۔
نوٹ: کچھ ضروری الفاظ کے ساتھ پہلی بار بریکٹ میں انگلش الفاظ لکھے جائیں گے تا کہ ان سے اچھی طرح شناسائی ہو جائے لیکن وہی الفاظ جب دہرائے جائیں گے تو انگلش والے الفاظ ہی اردو املا میں لکھے جائیں گے۔ جیسے لفظ کے لیے انگلش میں Word استعمال ہوتا ہے۔ پہلی بار لفظ کے ساتھ بریکٹ میں Word لکھا جائے لیکن آئندہ اسے وَرڈ لکھا جائے گا۔
حرف(Letter):
” کسی زبان(Language) میں مختلف آوازیں(Sounds) پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی علامات(Symbols)، حرف(Letter) کہلاتی ہیں۔ ”
٭ لیٹر کو کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی() کہا جا سکتا ہے۔
٭ لیٹر کا بذاتِ خود کوئی معنی نہیں ہوتا۔
٭ انگلش کے لیٹرز a,b,c,d وغیرہ ہیں۔
حروفِ تہجی(Letters of Alphabet):
” ہر لینگوئج کے لیے مخصوص لیٹرز کا ایک سیٹ ہوتا ہے، اس سیٹ کے لیٹرز، حروفِ تہجی(Letters of Alphabet) کہلاتے ہیں۔ ”
٭ لیٹرز آف ایلفابیٹ کے ہر لیٹر کو صرف لیٹر یا ایلفابیٹ بھی کہا جاتا ہے۔
٭ انگلش کے لیٹرز آف ایلفابیٹ کی تعداد چھبیس(26) ہے۔
٭ انگلش لیٹرز آف ایلفابیٹ لکھنے(Writing) کے لحاظ سے دو قسم(Types) کے ہوتے ہیں۔
1۔ بڑے حروف(Capital Letters) 2۔ چھوٹے حروف(Small Letters)
کیپیٹل لیڑز یہ ہیں۔
A, B, C, D, E, F, G, H, I, J, K, L, M, N, O, P, Q, R, S, T, U, V, W, X, Y, Z
سمال لیٹرز یہ ہیں۔
a, b, c, d, e, f, g, h, i, j, k, l, m, n, o, p, q, r, s, t, u, v, w, x, y, z
٭ انگلش لیٹرز ساونڈ کے لحاظ سے بھی دو ٹائپ کے ہوتے ہیں۔
1۔ واوَلز(Vowels) 2۔ کانسونینٹس(Consonants)
واوَلز(Vowels):
” ایسے لیٹرز جو (الف) یا اس سے ملتی جلتی ساونڈز (ع، آ، ء وغیرہ) پیدا کریں، واوَلز کہلاتے ہیں۔ ”
٭ واوَلز زیر، زبر، پیش وغیرہ کا کام بھی کرتے ہیں۔
٭ انگلش کے پانچ لیٹرز واوَلز شمار ہوتے ہیں۔ (a, e, i, o, u)۔ یہ اس لیے واوَلز شمار ہوتے ہیں کہ یہ اکثر “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ پیدا کرتے ہیں۔ امبریلا(umbrella)، اورنج(orange)، اِنک(ink)، اَیگ(egg)، اَیرو(arrow) میں (a, e, i, o, u) “الف” کی ساؤنڈ پیدا کرتے ہیں لہٰذا یہاں یہ واوَلز ہیں۔ لیکن بعض اوقات واوَلز شمار ہونے والے لیٹرز “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ نہیں پیدا کرتے تب یہ واوَلز نہیں رہتے۔ مثلاً یورپ(Europe)، وَن(one) اور یونیورسٹی(university) میں (e, o, u) واوَلز نہیں ہیں کیونکہ یہاں یہ “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ پیدا نہیں کرتے۔ ان مثالوں سے پتہ چلا کہ واوَل دراصل کوئی لیٹر نہیں بلکہ ساؤنڈ ہوتا ہے۔
٭ Y کو سیمی واوَل(Semi Vowel) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی حد تک واوَل کا کام کرتا ہے۔ یہ عموماً ورڈز کے بیچ میں یا آخر میں واوَل ساؤنڈ پیدا کرتا ہے۔ مثلاً فزکس(Physics)، پرے(pray)، فلائی(Fly) میں y واوَل ساؤنڈ دیتا ہے۔
کانسونینٹس(Consonants):
” ایسے لیٹرز جو (الف) یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈز کے علاوہ کوئی اور ساؤنڈ پیدا کریں، کانسونینٹس کہلاتے ہیں۔ ”
مثلاً بُک(book)، ہارس(horse)، مُون(moon)، زیبرا(zebra) میں (b, h, m, z) “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ کے علاوہ ساؤنڈز پیدا کرتے ہیں لہٰذا یہاں یہ کانسونیٹس ہیں۔ لیکن بعض اوقات کانسونینٹس شمار ہونے والے لیٹرز “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ پیدا کرتے ہیں تب یہ واوَلز بن جاتے ہیں۔ مثلاً آنیسٹی(honesty)، ایم۔اے(M.A)، ایکسرے(x-ray) میں (h, m, x) واوَلز ہیں کیونکہ یہاں یہ “الف” یا اس سے ملتی جلتی ساؤنڈ پیدا کرتے ہیں۔ ان مثالوں سے پتہ چلا کہ کانسونیٹ بھی دراصل کوئی لیٹر نہیں بلکہ ساؤنڈ ہوتا ہے۔
ضروری نوٹ: ہمیشہ یاد رکھیں کہ کوئی لیٹر بذاتِ خود واوَل یا کانسونینٹ نہیں ہوتا بلکہ دراصل ساؤنڈ کسی لیٹر کو واوَل یا کانسونیٹ بناتی ہے۔
تحریر: انعام الحق
٭ سیکھنے کے لیے سوال یا سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
٭ اہلِ علم بہتری کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں