64

الٹراساؤنڈ کیا ہے؟ اسکے ممکنہ استعمالات کا مختصر جائزہ: رضاالحسن

روشنی، حرارت اور آواز یہ سبھی توانائی کی ایک شکل ہیں جو لہروں کی صُورت میں سفر کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر گٹار کی اسٹرِنگ کو ہلانے سے لہریں پیدا ہوتی ہیں جو ہوا میں موجود مالیکیولز میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں اور یہ ارتعاش ہمارے کانوں تک پہنچتا ہے جسے ہم گٹار سے نکلنے والی آواز کی شکل میں سُنتے ہیں۔

تمام آوازیں قابلِ سماعت نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور “الٹرا ساؤنڈ”۔
گٹار کی آواز اور الٹرا ساؤنڈ میں فرق اُس “فریکونسی” کا ہے جس پر یہ لہریں ارتعاش کرتی ہیں۔ موسیقار حضرات اس فریکونسی کو “پِچ” کہتے ہیں۔

سائنسدان اِس فریکونسی کو “سائیکل فی سیکنڈ” میں ماپتے ہیں جسے “ہرٹز Hertz” بھی کہا جاتا ہے۔ انسانی کان 20 ہرٹز سے 20,000 ہرٹز کے درمیان فریکونسی کی آواز سُن سکتے ہیں۔ اِس سے زیادہ فریکونسی کی لہروں کو “الٹرا ساؤنڈ” لہریں کہا جاتا ہے یہ انسان کی سماعت کے قابل نہیں۔ اس خاص مقدار سے کم فریکونسی کی آواز کی لہروں کو “اِنفرا ساؤنڈ” لہریں کہا جاتا ہے یہ بھی انسانی کان سُننے سے قاصر ہیں۔

ہوا میں آواز ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اگر آواز کی لہر کی فریکونسی بدلتی ہے تو اس کی طول موج (Wave Length) پر بھی فرق آتا ہے۔ ایک ہی فریکونسی کی لہروں میں توانائی کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ توانائی کی پیمائش لہر کی اونچائی سے معلوم کی جاتی ہے۔ اسے لہر کی “پِیک Peak” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک لہر کا سب سے اونچا مقام ہوتا ہے۔ ایک لہر کی Peak سے دوسری لہر کی Peak تک کے فاصلے کو طُول موج یعنی ویو لینگتھ کہتے ہیں۔ جن لہروں کی Peaks اونچی ہوتی ہیں ان میں توانائی نِسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ ہماری قوتِ سماعت کے بِیچ بِیچ مختلف لہروں میں سب سے اونچی آواز وہ لہر پیدا کرے گی جس کی Peak سب سے اونچی ہو گی۔

الٹراساؤنڈ کا طِبّ میں استعمال:

کئی عشروں سے میڈیکل سائنس الٹرا ساؤنڈ کو جسم میں موجود ٹِشوز (Tissues) کی تصویروں کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اس عمل کے لئے کم توانائی کی الٹرا ساؤنڈ لہریں استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے ماں کے پیٹ میں بچے کی صحت کے بارے میں جاننے سے لے کر بچوں اور بڑوں میں بیماریوں کی تشخیص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں بڑی زبردست تحقیق ہو رہی ہے کہ کئی بیماریوں کے علاج کے لئے زیادہ توانائی والی الٹرا ساؤنڈ لہروں کو کیسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اسے “تھیراپیوٹک الٹراساؤنڈ Therapeutic Utrasound” کہا جاتا ہے۔

کم توانائی والی الٹراساؤنڈ لہروں کے ذریعے اِمیجنگ کرنے کے لئے “ٹرانسڈیوسر Transducer” کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ڈِیوائس توانائی کی ایک شکل کو دوسری شکل میں بدلتی ہے۔ اس کا ایک حصہ برقی توانائی کو چھوٹی چھوٹی الٹراساؤنڈ پَلسز میں بدلتا ہے۔ یہ پَلسز جسم میں داخل ہوتی ہیں اور مختلف ٹِشوز کے ساتھ ٹکرا کر واپس آتی ہیں جسے ٹرانسڈِیوسر کا دوسرا حصہ موصُول کرتا ہے۔ ایک کمپیوٹر ان واپس آنے والی لہروں کی جانچ پڑتال کر کے ایک تصویر بناتا ہے۔ مختلف ٹِشوز سے واپس آنے والی لہریں تصویر میں روشن یا گہرے حصے کے طور پر نمایاں ہوتی ہیں۔

زیادہ توانائی والی الٹراساؤنڈز لہروں کو اب مُختلف قسم کی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال میں لانے پر تحقیقات جاری ہیں۔ ڈاکٹرز فی الحال ایسی لہروں سے گُردوں کی پتھری کا کامیاب علاج کر رہے ہیں۔ گردوں کی پتھری دراصل چھوٹے مگر سخت مِنرلز ہوتے ہیں جو بعض دفعہ جسامت میں اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج نہیں ہو پاتے یا اگر ہوں بھی تو مریض کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز اِن چھوٹے پتھروں کو مزید چھوٹے چھوٹے ٹُکڑوں میں تقسیم کر دیتی ہیں اور یہ چھوٹے ٹُکڑے آسانی سے بِنا تکلیف کا باعث بنے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔

سائنسدان ان ہائی انرجی الٹراساؤنڈز کے دِیگر ممکنہ استعمالات پر نہایت سنجیدگی سے تحقیق کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز سے آس پاس کے خُلیات کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر کے خُلیات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز کو دماغ کے خلیات کو مختلف کیمیکلز کے اخراج کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں دماغ کی کئی بیماریوں کا اس سے علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں سائنسدانوں نے ان ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز کو استعمال کرتے ہوئے بعض خلیات سے “اِنسولین” کا اخراج ممکن بنانے کا کامیاب تجربہ بھی کیا ہے۔ اِنسولین ایک ہارمون ہے جو خون میں شوگر کی مقدار کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ تجربہ فی الحال چوہوں پر کِیا گیا جس کے نتائج کافی حوصلہ افزاء تھے۔ مستقبل قریب میں یہ انسانوں میں بھی ذیابیطس کے مرض کے علاج کے لئے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو یہ زیابیطس کا انتہائی محفوظ اور سستا علاج ہو گا۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں