57

ارسطو کی دنیا میں – وہارا امباکر

گیارہویں صدی سے لے کر اگلی کئی صدیوں تک تک یورپی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانے والے نصاب میں پڑھائے جانے والے اہم مضامین میں صرف و نحو، علمِ نجوم، منطق سمیت سات کور مضامین تھے۔ کورس کی بنیاد فلسفہ تھا اور اس میں ارسطو کا فلسفہ پڑھایا جاتا رہا تھا۔ اس کی چار الگ کتابیں تھیں۔ جو فزکس سے لے کر آسمانوں کا احاطہ کرتی تھیں۔ ایک نظر اس پر کہ اس نصاب میں کیا تھا۔


ہر چیز کی چار وجوہات ہیں۔ رسمی، حتمی، مادی اور موثر۔ ایک میز کے ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟ جو ڈئزائن میرے ذہن میں ہے، وہ اس کی رسمی وجہ ہے۔ حتمی وجہ میری اس پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی خواہش ہے۔ مادی وجہ لکڑی کے ٹکڑے ہیں اور موثر وجوہات آری اور ہتھوڑا ہیں۔ نیچرل دنیا کو دیکھنے کا ارسطو کا یہی طریقہ تھا۔ ایک مینڈک کے بچے کا حتمی مقصد مینڈک بننا ہے۔ اور یہ صرف جاندار چیزوں پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔

کائنات ایتھر سے بھری ہے۔ یہ شفاف ہے اور تبدیل نہ ہونے والا ہے۔ نہ سرد ہے اور نہ گرم، نہ خشک ہے اور نہ گیلا۔ زمین کائنات کا مرکز ہے۔ اس کے گرد مادی کرے ہیں۔ کائنات کرے کی شکل میں اور محدود ہے۔ اس میں اوپر، نیچے، دائیں، بائیں کے تصورات موجود ہیں۔ خالی کوئی شے نہیں ہو سکتی۔ خلا غیرفطری شے ہے۔

چاند سے نیچے کی طرف دنیا تخلیق اور کرپشن کی دنیا ہے۔ باقی کائنات ہمیشہ سے ہے اور تبدیل نہ ہونے والی ہے۔ ہماری دنیا کی چار بنیادی خاصیتیں ہیں (گرم، سرد، خشک، گیلا)۔ چار عناصر میں ہر ایک کے ان میں سے دو خصائص ہیں (ہوا، مٹی، پانی اور آگ)۔ مثلا، مٹی خشک اور سرد ہے۔ عناصر اپنے آپ کو کائنات کے مرکز سے کروں کی شکل میں ترتیب دیتے ہیں۔

مٹی کی خاصیت کائنات کے مرکز کی طرف آنا ہے۔ آگ کی خاصیت ابھر کر چاند کی طرف بڑھنا ہے۔ ہوا اور پانی کبھی اوپر کی طرف بڑھتے ہیں اور کبھی نیچے کی طرف۔ (ارسطو کو گریویٹی کا علم نہیں تھا)۔

مینڈک کا بچہ تکمیل تک پہنچے کے لئے مینڈک بنتا ہے۔ مٹی اسی طرح تکمیل تک پہنچنے کے لئے کائنات کے مرکز کی طرف بڑھتی ہے۔ زمین تک پہنچ کر وہ اپنا مقصد پا لیتی ہے۔ پانی کی تکمیل سمندر تک پہنچ کر ہوتی ہے۔ پانی کی فطرت اس سمندر سے جا ملنا ہے۔ سمندر پانی کا کرہ ہے جو مٹی کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ دریا اس پانی کو اس کی اصل جگہ پر لے جاتے ہیں۔ پانی کو اس کی اصل جگہ سے اٹھایا جائے تو یہ وزن رکھتا ہے۔ یہ اس کی اپنی اصل کو واپس جانے کا زور ہے۔ اپنی اصل جگہ پر جا کر یہ بے وزن ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس پر تیراکی کی جائے تو اس کا وزن محسوس نہیں ہوتا۔

ارسطو کے پورے فلسفے میں ریاضی نہیں۔ مثلا، جب ارسطو کہتے ہیں کہ بھاری چیز ہلکی چیز کی نسبت جلد زمین تک پہنچتی ہے تو یہ نہیں بتاتے کے کتنی جلدی؟ کیا دگنے وزن کی چیز آدھے وقت میں پہنچتی ہے یا تعلق سکوائر کا ہے یا پھر کچھ اور؟ ایسا کیوں؟ اس کی وجہ یہ کہ ارسطو ریاضی اور فلسفلے میں واضح تفریق کرتے ہیں۔ فلسفہ اصل سے آگاہ کرتا ہے جس میں ریاضی کا کام نہیں۔ اسی طرح فزکس اور آسٹرونومی بالکل مختلف علم ہیں۔ فزکس فلسلفے سے پڑھی جاتی ہے۔ آسٹرونومی ریاضی سے۔

ارسطو خود ایک بہت ذہین اور اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ مرغی کا بچہ کیسے بنتا ہے؟ اس کے لئے تجربہ کر کے دیکھا۔ لیکن جب ان کا کام یونیورسٹیوں تک پہنچا تو اس پر سوال اٹھانا ممنوع قرار پایا۔ ” کوئی نیا علم نہیں سیکھا جا سکتا”۔ یہ ایک بنیادی اور مرکزی خیال تھا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ نیا علم حاصل کرنے کی رفتار صدیوں تک بہت آہستہ رہی۔ کوئی شے پانی پر کیوں تیرتی ہے؟ اس کے لئے ارسطو کے کام کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ضروری تھا۔ سترہویں صدی میں اس کی وضاحت چیزوں کی شکل سے کی جاتی تھی۔ جواب غلط ملتے تھے لیکن ان کی چیلنج کرنا آسان نہ تھا۔ (حالانکہ ارشمیدس اس کا جواب بہت پہلے دے چکے تھے اور ان کا کام لاطینی زبان میں بارہویں صدی سے دستیاب تھا)۔

“زمین بہت سرد ہے اور بہت گرم۔ سرد اور گرم جگہوں پر رہا نہیں جا سکتا۔ خطِ استوا اتنا گرم ہے کہ وہاں پر آبادی نہیں ہو سکتی”۔ ارسطو کا یہ خیال غلط ثابت ہو گیا جب پرتگال سے ملاح خطِ استوا تک پہنچے۔ افریقہ اور سری لنکا کو خود دیکھ آئے۔ لیکن نصاب میں تبدیلی پھر بھی نہ آئی۔ ابنِ رشد کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے آکیلانی نے عناصر کی تھیوری پر کتاب لکھی لیکن بس تاریخ کا حصہ بن گئی۔

ارسطو کا کہنا تھا کہ خیالات اور اعصاب کا مرکز دل ہوتا ہے۔ جب ایک لاش کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے واضح طور پر علم ہو گیا کہ اعصاب کا مرکز دماغ ہے؛ ایک پروفیسر نے یہ اپنی آنکھ سے دیکھ کر بھی انکار کر دیا۔ کریمونینی، جو گلیلیو کے دوست تھے؛ انہوں نے گلیلیو کی ٹیلی سکوپ دیکھنے سے انکار کر دیا کہ کہیں پرانے خیالات تبدیل ہو نہ جائیں۔ 1668 میں جوزف گلینول، جو “نئے فلسفے” پر لیکچر دے رہے تھے کہتے ہیں، “میں اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ گیا جب مجھے کسی پڑھے لکھے شخص سے اس چیز پر بحث کرنا پڑی کہ پرانا فلسفہ غلط ہے۔ جب میں نے اسے ٹیلی سکوپ اور مائیکروسکوپ سے دکھانے کی کوشش کی تو اس کا کہنا تھا کہ ان آلات کا کیا اعتبار۔ کیا معلوم کہ ان کا شیشہ سب کچھ تبدیل کر کے دکھا دیتا ہو”۔

ایک کتاب “گڈ وومین” سے مکالمہ:
“شوہر: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کیا میں ان پر بھی اعتبار نہ کروں؟
بیوی: کیا تم اپنی آنکھ پر اعتبار کر لو گے اور اپنی پیاری بیوی پر نہیں؟”

ارسطو کے خیالات اس وقت “پیاری بیوی” کی کہی باتیں تھیں۔ جب نیوٹن نے پرانی سوچ کی بساط پلٹی تو اپنی کتاب کا نام “نیچرل فلسفے کے ریاضیاتی اصول” رکھا۔ کتاب کے عنوان میں فلسفے اور ریاضی کا ذکر اکٹھا کرنے کی وجہ تھی۔

یورپ میں نصاب تبدیل ہو گیا۔ یہ ںصاب دنیا بھر میں ایک ایک کر کے تبدیل ہوتا گیا۔ کہیں پر جلد، کہیں پر بدیر۔ نیا نصاب برِصغیر میں انیسیویں صدی میں جا کر پہنچا۔ اس کے ٰخلاف مزاحمت کم نہ تھی لیکن یہ ناگزیر تھا کیونکہ پرانے نصاب کو انیسویں صدی میں ہی غیرمتعلقہ ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ (غیرمتعلقہ ہو جانے کے بعد بھی بدقسمتی سے یہ آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا)۔ برِصغیر کی خوش قسمتی رہی کہ یہ جلد ہی پس منظر میں چلا گیا۔ نصاب مسلسل تبدیلی مانگتا ہے کیونکہ علم بدل رہا ہے۔ اب اس میں شدید مزاحمت نہیں رہی جو برِصغیر میں انیسویں صدی میں دیکھنے کو آئی تھی۔

کائنات کی زبان فلسفہ نہیں، ریاضی ہے۔ اس کائنات کو ہماری منطق کی پرواہ نہیں۔ ہم اس کو نہیں جانتے، لیکن جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم اس سے بات کرنے کا گُر سیکھ چکے تھے۔ اگر ارسطو زندہ ہوتے تو شاید یہ تبدیلی بہت جلد لانے کی کوشش کرتے۔ فلسفہ مرا نہیں اور نہ مرے گا لیکن نیچرل دنیا کو جاننے کا طریقہ نہیں ہے۔ ارسطو جیسے شاندار دماغ دنیا میں کم رہے ہیں۔ ان کی باتوں کو آگے نہ بڑھانا ان کے اپنے ساتھ کی گئی نااںصافی تھی۔ اس کا ازالہ کرتے ہوئے صدیاں لگ گئیں۔

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں